عالمی مبلغ اسلام مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی : دعوتی خدمات کے آئینے میں

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)
فرمانِ الہٰی عزوجل ہے : وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ( ٰال عمران : ۱۳۹)’’تمہیں غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو۔ ‘‘ یہ مومنین کیلئے نوید و بشارت ہے ، کامیابی اور غلبے کی …… بلاشُبہہ جن کے دل ایمان سے لبریز ہیں ان کا ہر کام اشاعتِ اسلام اور عروج مسلمین کیلئے ہوتا ہے …… اسلاف نے اپنے علم و عمل اور بلندی کردار کے ذریعے دعوت حق اور تبلیغ دین کا فریضہ انجام دیا، داعیان اسلام نے ان بلادو امصار میں اسلام کی تبلیغ فرمائی جہاں شرک و کفر اور بدعت کی ظلمتوں نے سایہ کررکھا تھا …… جہاں مادیت غالب اور انسانیت ذلیل ورُسوا تھی …… اسلاف نے فروغ اسلام کیلئے قربانیاں بھی دیں …… صعوبتیں بھی سہیں …… ان کی کوشش و مساعی کامیابی کی کلید ثابت ہوئی ۔ بارگاہ الہٰی عزوجل سے انہیں غلبہ عطا ہوا، اسلئے کہ انہوں نے غلبۂ اسلام کیلئے کام کیا اور بعد مرگ بھی وہ تابندہ رہے اور ان کی ذات مشعل ہدایت رہی ، انہیں پاکیزہ ہستیوں میں مبلغ اسلام خلیفۂ امام احمد رضا مولانا شاہ محمد عبدالعلیم صدیقی میرٹھی نمایاں منصب رکھتے ہیں ……
آپ کی ولادت باسعادت ۱۵؍ رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ مطابق ۳؍ اپریل ۱۸۹۲ء محلہ مشائخاں میرٹھ (یوپی ) میں ہوئی ، والد ماجد مولانا شاہ محمد عبدالحکیم صدیقی جوشؔ ، نعت گو شاعر اور صاحب تقویٰ بزرگ تھے …… آپ کا سلسلۂ نسب ۳۷؍ ویں پشت میں خلیفۂ اول حضرت سید نا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ سے جاملتا ہے ……
مولانا شاہ محمد عبدالعلیم صدیقی نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی …… میرٹھ کی مشہور درسگاہ مدرسہ عربیہ قومیہ سے ۱۹۰۸ء میں درس نظامی کی تکمیل فرمائی …… عصر ی علوم بھی حاصل کئے …… اٹاوہ اسلامیہ ہائی اسکول سے ۱۹۱۳ء میں میٹرک کاامتحان پاس کیا…… ۱۹۱۷ء میں ڈویژنل کالج میرٹھ سے بی ۔اے کا امتحان پاس کیا…… الہ آباد یونیورسٹی سے ۱۹۱۸ء میں ایل۔ ایل ۔ بی کی سندلی …… دور ان تعلیم مسلم طلبا کی تنظیم مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی تشکیل کی …… ۱۹۰۱ء میں پہلا خطاب فرمایا…… پنجاب یونیورسٹی سے Oriental Languges میں بھی سند حاصل کی …… کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا جن میں عربی ،اردو ، انگریزی ، فارسی ، فرنچ ، جرمن، جاپانی ، افریقی اور افریقہ کی ساحلی زبانیں قابل ذکر ہیں ۔
آپ کی تعلیم و تربیت میں آپ کے والد ماجد مولانا شاہ عبدالحکیم صدیقی نے کافی توجہ دی ۔ خود بھی پڑھایا،آپ کے اساتذہ میں امام احمد رضا محدث بریلوی ، مولانا شاہ احمد مختار صدیقی، مولانا عبدالباری فرنگی محلی ، شیخ احمد الشمس مراکشی مدنی ، لیبیا کے صوفی بزرگ حضرت شیخ سید محمد ادریس ا لسنوسی وغیرہ شامل ہیں ۔ حکمت کی تعلیم حکیم احتشام الدین سے حاصل کی ……
مبلغ اسلام مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی نے اشاعت اسلام اور تبلیغ دین کا وافرذوق پایا تھا…… امام احمد رضا محدث بریلوی سے نسبت نے اس ذوق کو مزید بڑھا دیا…… تعلیم کی تکمیل کے بعد سے ہی دنیا کے مختلف ممالک اور جزائر کا تبلیغی دورہ شروع کردیا…… فیصل ندیم احمد قادری فرماتے ہیں:’’ آپ کے علم وعمل کے ابر گہر بارنے اسلام کی باران رحمت کو کبھی برما پر برسایا کبھی سیلون پر ، کبھی ملایا سیراب ہوا تو کبھی انڈونیشیا و انڈو چائنا ، کبھی چین و جاپان ، تو کبھی شام و مصر ، کبھی ماریشس و ری یونین تو کبھی جنوبی افریقہ و مشرقی افریقہ کی نوآبادیاں ، کبھی عرب مسکن بناتو کبھی عراق کبھی شام و فلسطین غرضیکہ آپ خدمت دین کے لیے مشرق و مغرب ، شمال و جنوب ہر جگہ مصروف عمل رہے ۔‘‘
مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی بہترین خطیب تھے …… طبیب جسم ہی نہیں طبیب دل تھے …… ان کے مواعظ و نصائح دل پر اثر انداز ہوتے …… وہ جغرافیائی ، لسانی او رتہذیبی حالات کو پیش نظر رکھ کر خطاب کرتے …… ان کی گفتگو کا اسلوب عارفانہ ہوتا …… برصغیر کے معروف دانشور پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نے افہام و تفہیم کے دو اصول بیان کئے ہیں …… عارفانہ اور جار حانہ ، ڈاکٹر صاحب نے عارفانہ طرز کو بہتر و مؤثر قرار دیا ہے …… اسلاف کا طریقۂ تبلیغ اخلاقی اصولوں سے آراستہ ہوتا تھا…… ان کی باتیں دلوں میں اترتی چلی جاتی تھیں …… وہ نرم خو ہوتے تھے …… وہ جارحانہ تفہیم سے عاری ہوتے تھے…… عارفانہ طرز ان کے طریقۂ کار کودل پذیر بنائے ہوئے تھا…… اسی اسلوب کو مبلغ اسلام مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی نے اختیار کیا…… نتیجے میں اقوام عالم میں ان کی تبلیغ کے بہتر اثرات رونما ہوئے…… قلب و نظر اسلام کے اسیر ہوگئے …… پھر ہزاروں افراد نے اسلام کی متاع بہا کو پالیا…… ایک داعی نے اپنی کاوش و فراست سے متلاشیان حق کو منزل پر پہنچا دیا…… وہ سالارِ کارواں تھے …… انہوں نے اندھیروں میں اجالے پھیلائے …… انہوں نے دلوں کے اندھیرے ختم کئے ، اور پھر وہ بھی ان کے کارواں میں شریک ہوگئے جو ارباب سیاست تھے ، جو ارباب حکومت تھے ، جو علم و دانش کی انجمن کے خوشہ چیں تھے ……جو حکمت و دانائی کے ستون تھے …… اور کیوں نہ ہو کہ علم و حکمت اور سیاست و تدبر کے تمام ضابطے اسلام کے دامن سے ہی پھوٹتے ہیں …… مبلغ اسلام کے ہاتھوں کم و بیش ۵۰ ؍ ہزار افراد مشرف بہ اسلام ہوئے ان میں دنیا کی قابل ذکر شخصیات بھی شامل ہیں مثلاً سیلون کے عیسائی وزیر مسٹر ایف کنگسن بیری ۱۹۲۳ء میں مسلمان ہوئے …… سیلون میں کولمبو یونیورسٹی کے پروفیسر پادری ریونڈکنگ بری ۱۹۲۹ء میں مسلمان ہوئے …… ٹرینی ڈاڈ کی خاتون وزیر فاطمہ ڈونا وانے ۱۹۳۸ء میں اور بورنیو کی شہزادی گلیڈ لے پال مارنے ۱۹۳۹ء میں مبلغ اسلام کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا…… ماریشس کے فرانسیسی گورنر مروات اور امریکی سائنس داں جارج اینٹونوف بھی آپ کی تبلیغی مساعی سے مسلمان ہوئے ……
مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی تقابل ادیان میں ماہر تھے …… وہ ہر اٹھنے والے سوال کا جواب اسلامی نقطۂ نظر سے دیتے …… اکثر علمی مذاکرات او رمجالس میں غیر مسلم اسکالر اسلام سے متعلق سوالات کرتے اور آپ ایسا مبرھن و مدلل جواب عنایت فرماتے کہ سائل کی تشفی ہو جاتی او ربہت سے افراد حلقہ بگوش اسلام ہوجاتے …… فیصل ندیم احمد قادری لکھتے ہیں: ’’ ایک مرتبہ ایک عیسائی اسکالر سے مناظرہ ہورہا تھا اس نے سوال کیا کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن ہدایت کی کتاب ہے تو یہ کتاب ۲۳؍ سال کے عرصے میں کیوں نازل ہوئی ایک ہی بار کیوں نہیں نازل ہوئی ؟ آپ نے برجستہ جواب دیا کہ آپ نے اتنی تعلیمی اسناد حاصل کیں ہیں وہ اتنے عرصے پڑھنے کے بعد کیوں حاصل کی ہیں ایک ہی دن میں کیوں نہ حاصل کیں ؟ ساتھ ہی آپ نے یہ بھی پوچھا کہ آپ ۴۵-۴۰؍ سال بعد اتنے بڑے کیوں ہوئے پیدا ہوتے ہی اتنے بڑے کیوں نہیں ہوگئے آپ کے اس جواب سے عیسائی اسکالر لاجواب ہوگیا۔‘‘
مشہور فلا سفر جارج برنارڈشا سے ۱۷؍ اپریل ۱۹۳۵ء کو جنوبی افریقہ کے شہر ممباسا میں مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی کا ’’ اسلام اور عیسائیت ‘‘ کے موضوع پر مکالمہ ہوا ۔ اس گفتگو کے اختتام پر جارج برنا رڈشا کو یہ کہنا پڑا ’’ تعلیم یا فتہ مہذب اور شائستہ لوگوں کے مستقبل کا مذہب اسلام ہے ۔‘‘
کلکتہ میں اسلامیات کے یہودی پروفیسر ڈاکٹر زکرایا سے جب پوچھا گیا کہ تم مسلمان کیوں نہیں ہوجاتے ؟ تو انہوں نے جواب دیا ’’ میں کہتا ہوں کیا فائدہ ؟ جارج برنارڈشا میری طرف سے جواب دے چکا ہے کہ جب میں اسلام کا مطالعہ کرتا ہوں تو دل بے اختیار چاہتا ہے کہ مسلمان ہوجاؤں لیکن جب خود مسلمانوں کو دیکھتا ہوں تو طبیعت برگشتہ ہو جاتی ہے ‘‘…… اسلام نے حسن اخلاق کی تعلیم دی ہے …… حضور رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ’’ مسلمانوں میں کامل الایمان وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں ‘‘ ( انوار الحدیث ،ص ۳۸۶، بحوالہ ابوداؤد)
حضور رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ’’ شرم وحیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان والاجنت میں جائے گا اور بے حیائی اور فحش گوئی برائی کا حصہ ہے اور برائی والا دوزخ میں جائے گا۔‘‘ (انوار الحدیث ، ص ۳۸۵،بحوالہ احمد، ترمذی)شرم و حیا کو ایمان کا حصہ اور اچھے اخلاق کو ایمان کا درجہ قرار دیا گیاہے …… جب تک مسلمانوں نے عمدہ اخلاق و بلندی کردار کے مظاہر دنیا کے سامنے پیش کیے داعیانہ سطح پر خوش نمانقوش ظاہر ہوئے …… حسن اخلاق کا اثر تھا کہ روس سے امریکہ تک اور افریقہ کے دور افتادہ علاقوں سے ہندو سندھ اور غرناطہ ویورپ کی وادیوں اور دیگر اماکن عالم تک اسلام کی نسیم فرحاں عطر بیزی بکھیر رہی تھی …… حسن اخلاق کا اثر تھا کہ داعیانِ اسلام کے قافلہ سالار حضرت داتا گنج بخش لاہوری رحمۃ اﷲ علیہ ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اﷲ علیہ اور مبلغ اسلام مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی کے تبلیغی تسلسل نے دلوں کو اسلام کا گرویدہ بنادیا…… حضور رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشادات و فرمودات اوراسوہ پر مسلمان جب تک کار بندو عمل پیرارہے اسلام کا سلسلۂ دعوت و تبلیغ منظم ، مؤثر اور مربوط رہا …… جب سے اغیار کی تہذیب و تمدن کے اثرات مسلمانوں پر ہوئے ہیں، کامیابیاں دور ہوتی جارہی ہیں …… ماضی کی شاندار روایا ت سے تعلق منقطع ہوتا نظر آرہا ہے …… زندگی کی راحتیں مادیت کی نذر ہوکر رہ گئی ہیں …… یقیں محکم اور عمل پیہم کی دہلیز سے کوسوں دور جاپڑے ہیں …… کردار کی عظمت اور اخلاق کی بلندی ماند پڑتی جارہی ہے …… اور جارج برنارڈشا جیسا دانشور بھی اسلام کی عظمتوں کے اعتراف کے ساتھ ہی ہماری طبع وکیفیت پر تنقید کرتا ہے ……
ممبا سا (افریقہ) میں مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی نے امام احمدر ضا محدث بریلوی کے خلیفہ علامہ پروفیسر الیاس برنی کی کتاب ’ ’ اسلام ‘‘ (انگریزی اڈیشن ) جارج برنارڈشا کو عنایت کی تھی ۔ آپ نے جہاں اسلام پر ہو نے والے اعتراضات کورفع کیا وہیں اسلام کے خلاف مغربی سازش ’’قادیانیت‘‘ سے بھی پردہ اٹھایا اور اس فتنے کے جہاں جہاں اثرات موجود تھے ، ہر جگہ پہنچ کر ان کی اسلام دشمنی کو بے نقاب کیا ، انہیں چیلنج کیا اور بالآخر انہیں راہ فرار اختیار کرنی پڑی……
قادیانیت کے سدباب میں امام احمد رضا محدث بریلوی اور ان کے خلفا نے کلیدی کردار ادا کیا ہے …… امام احمد رضا کے خلیفہ علامہ پروفیسر الیاس برنی کے ساتھ برصغیر میں قادیانی فتنہ کے انسداد میں مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی نے نمایاں خدمات انجام دیں ……
مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی ۱۹۳۰ء میں بسلسلۂ تبلیغ سر ینام تشریف لے گئے …… سرینام جنوبی امریکہ میں واقع ہے اور ہالینڈ کے زیر نگیں …… سر ینام میں مسلم آبادی تیسرے نمبر پر ہے …… یہاں مذہبی بیداری اور اسلامی انقلاب کا آغاز مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی کے ورود سے ہوا۔ ان حالات کی عکاسی علامہ بدرالقادری مصباحی ان الفاظ میں کرتے ہیں :
’’ مدتوں کی ترسی پیاسی مسلمانان سرینام کی نگاہوں نے اس عالم ربانی ( علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی) کی زیارت سے خود کو نہال کیا ۔ علامہ صدیقی علیہ الرحمہ نے ایک حاذق طبیب کی طرح مسلمانان سر ینام کے ماحول کی بیماریوں کو نبض پر ہاتھ رکھتے ہی گرفت میں لے لیا…… وہ عقیدہ فاسدہ کے جراثیم تھے جنہیں مرزا غلام احمد قادیانی کے اختلاف نے انگریز گورنمنٹ کی سرپرستی میں مسلمانان سرینام کے ایمانی واسلامی خون میں شامل کرنا شروع کردیا تھا…… علامہ صدیقی علیہ الرحمہ نے بلا تامل عمل جراحت شروع کردیا اور ہندوستانی نسل کے مسلمان جو بھولی بھیڑوں کے مانند تھے ان میں چھپے ہوئے بھیڑیوں کی نشاندہی کی …… اسلام و مرز ائیت کے بُعد المشرقین کو واضح کیا …… اس طرح ایک بھٹکتا ہوا قافلہ راہ منزل سے لگ گیا ، گمرہی کے اندھیروں میں گم ہوجانے والوں نے ’’صراط مستقیم ‘ ‘ پالی ……‘‘
آپ کے تبلیغی سفر آخر عمر تک جار ی رہے …… ۱۹۴۸ء میں پوری دنیا کا تبلیغی دورہ کرنے کا عزم کیا۔ کراچی سے اپنے سفر کاآغاز کیا …… سیلون ، ملایا ، انڈونیشیا ، ری یونین ، مڈغاسکر ، مشرقی افریقہ ، جنوبی افریقہ ، حجاز مقدس ، مصر، روم ، انگلستان ، فرانس ، گیانا، ڈچ گیانا، ٹرینی ڈاڈ، امریکہ ، کناڈا ، فلپائن ، سنگاپور وغیرہ ممالک کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ۱۹۵۱ء میں کراچی آئے ……
مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی کی ذات ’’ آفتاب آمد دلیل آفتاب‘‘ کے مصداق تھی …… ان کی ’’ دانشِ نورانی ‘‘ نے عامۃ المسلمین میں اتحاد و اجتماعیت کیلئے تحریک پیدا کی …… بلادیورپ و افریقہ اور دیگر ممالک میں تنظیمیں ، فلاحی و تعلیمی ادارے ، مساجد وجامعات اور لائبریریاں قائم کیں جن میں کولمبو کی جامع حنفی مسجد ، سنگاپور کی مسجد سلطان ، جاپان کی مسجد ناگریا وغیرہ قابل ذکر ہیں …… ۱۹۲۸ء میں ماریشس میں تنظیم ’’ حزب اﷲ ‘‘ کی بنیاد ڈالی ……۱۹۲۹ء میں سیلون میں ’’ مسلم مشنری ‘‘ کی بنیاد ڈالی …… ماریشس میں ’’ حلقۂ قادریہ اشاعت اسلام ‘‘ قائم فرمایا…… ۱۹۳۳ء میں کولمبو کے نزدیک ’’ غفوریہ عربی اسکول ‘‘ قائم کیا…… ۱۹۳۴ء میں ڈربن میں ’’ انٹر نیشنل اسلامک سروس سنٹر‘‘ قائم کیا…… ۱۹۳۶ء میں ہانگ کانگ میں ’’ یتیم خانہ‘‘ کی بنیاد ڈالی …… ۱۹۳۹ء میں ماریشس میں ’’ مسلم یونیٹی بورڈ ‘‘ اور ’’ مسلم یوتھ بریگیڈ‘‘ قائم فرمایا…… ۱۹۴۹ء میں کمیونزم کے خلاف ’’تنظیم بین المذاہب ‘‘ کی تشکیل فرمائی …… اسی سال قاہر ہ میں ’’ تنظیم بین المذاہب الاسلامیہ ‘‘ کی بنیاد رکھی……مذاہبِ عالم پر آپ کا مطالعہ کافی وسیع اور گہرا تھا …… ۱۹۲۸ء میں بنکاک کی رائل لائبریری میں بدھ مت پر ریسرچ کی …… انڈونیشیا میں عیسائی مشنریوں کے حملوں کا علمی انداز میں سدباب کیا…… مستشرقین کے اسلام پر تنقیدی حملوں کا دنداں شکن جواب دیا …… ۱۹۵۰ء میں پوپ پال کو ان کے لادینی محرکات کے پیش نظر مکتوب بھیج کر سرزنش کی ……
مسلمانوں نے صحافت کو بھی اہمیت دی ہے …… امام احمد رضا محدث بریلوی نے اشاعت اسلام کا اہم ذریعہ صحافت کو قرار دیا ہے اور فتاویٰ رضویہ ۱۲؍ ویں جلد میں اخبارات و جرائد کی ترویج کی تعلیم دی ہے …… اس پہلو کے پیش رو مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی نے صحافت پر بھی توجہ دی…… کئی ممالک سے اسلامی میگزین وجرائدکا اجراء فرمایا …… سیلون سے ’’ اسٹار آف اسلام‘‘ ڈربن سے ’’دی مسلم ڈائجسٹ ‘‘ سنگاپور سے ’’ رئیل اسلام ‘‘ اور ’’دی جینوئن اسلام ‘‘ ٹرینی ڈاڈ سے ’’ مسلم اینوول‘‘ امریکہ سے ’’ اسلامی دنیا ‘‘ اور ’’دی امریکہ ‘‘ جاری فرمایا……
آپ نے تصنیف و تالیف پر بھی توجہ دی …… متعد د زبانوں میں کتابیں لکھیں…… ذیل میں آپ کی تصانیف کی فہرست دی جاتی ہے:
(۱) حقیقۃ المرزائین (عربی ) (۲) ذکر حبیب (اردو) (۳)کتاب التصوف(اردو) (۴)بہارشباب (اردو)(۵)صوت الحق(اردو)
(۶) مرزائی حقیقت کا اظہار(اردو)(۷)احکام رمضان (اردو)
انگریزی کتابیں:
(8) Elementary Teaching of Islam
(9) Principles of Islam
(10) Quest of True Happiness
(11) How to Face Communism
(12) Islam's Answer to the Challenge of Communism
(13) Women and their Status in Islam
(14) A Shavian and a theologian
(15) The Forgotten Path of knowledge
(16) Codification of Islamic law
(17) How to Preach Islam?
(18) What is Islam? (Lecture)
آپ نے مسلمانوں کے وسیع ترمفاد کے پیش نظر سیاست میں بھی حصہ لیا …… دیانت اور سچائی کے اصولوں پر سیاسی سرگرمیاں انجام دیں …… تحریک خلافت اور تحریک ترک موالات کے سلسلے میں ۱۹۲۲ء میں اہم سرگرمیاں انجام دیں …… ۱۹۲۴ء میں حکومت مکہ نے مسلم کانگریس یروشلم میں شرکت کیلئے مدعو کیا…… ۱۹۳۰ء میں سیلون میں گرین پمفلٹ تحریک کا آغاز کیا …… چارحج کئے …… تیسرے سفر حج پر عبدالعزیز بن سعود سے مل کر حج کے ناجائز ٹیکس کا قاعدہ منسوخ کروایا …… اس موضوع پر عربی میں ایک کتاب بھی لکھی…… محمد علی جناح نے آپ کو سفیر برائے مصر بننے کی پیش کش کی جسے آپ نے منظور نہیں کیا……
مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی ایک فرد تھے ، مگر تحریک کا کام انجام دیا …… جس علاقے میں پہنچتے تنہا جاتے اور جب واپس ہوتے تو سینکڑوں افراد دامنِ اسلام سے وابستہ ہوچکے ہوتے……وہ شیخ طریقت بھی تھے ……یہ عشق رسالت مآب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا فیضان تھا کہ آ پ کے علم و فضل کی بارانِ رحمت سے دنیا کے بیش ترخطے سیراب ہوئے …… آپ کی علمی جلالت اور خدمات دینیہ کے معترف وہ بھی ہیں جوار باب اقتدار ہیں ، جو اہل علم ودانش ہیں …… آپ کی کئی ایک کتابیں مالیگاؤں سے نوری مشن نے شایع کی ہیں۔
آپ کی ہمہ جہت شخصیت ، خدمات عظیمہ کے سبب مختلف القاب و آداب سے مشہور و معروف ہے …… آپ ’’مبلغ اسلام ‘‘بھی کہے جاتے ہیں اور’’ علیم الرضا ‘‘بھی …… ’’سفیر اسلام‘‘ بھی کہے جاتے ہیں اور’’ His Exalated Eminence ‘‘بھی ۔
مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی نے مایوسیوں کے اندھیروں میں امیدوں کے چراغ روشن کئے…… موجودہ حالات میں اقوام عالم کے اسلام پر پے درپے تنقیدی اقدامات اور تہذیبی و تمدنی حملے کے پیش رو ضرورت ہے کہ مبلغ اسلام مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی کی زندگی کے مبارک و تابناک نقوش کو مشعل راہ بناکر اشاعت اسلام اور غلبۂ اسلام کیلئے اقدامات کئے جائیں ،اسلام کی صحیح تعلیمات سے مذاہب عالم کو متعارف کرائیں بایں حالات شبستان حیات میں اسلاف کرام کی حیات مبارک کے پاکیزہ نقوش کو آویزاں کرلیں تواقوام عالم میں سرخروئی پاسکتے ہیں…… مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی کی زندگی کے شب وروز ہمیں نیا جوش و ولولہ اور عزمِ محکم عطا کررہے ہیں ، پیام سحردے رہے ہیں ……
۲۳؍ ذی الحجہ ۱۳۷۳ھ مطابق ۲۲؍ اگست ۱۹۵۴ء یوم اتوار ، دیارمحبوب مدینۃ الرسول صلی اﷲ علیہ وسلم میں علیم الرضا سفیر اسلام مبلغ اسلام مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی کا وصال بعمر ۶۳؍ سال ہوا …… نماز جنازہ خلیفۂ امام احمد رضا قطب مدینہ حضرت علامہ ضیاء الدین مہاجر مدنی نے پڑھائی …… بہر مدفن ارض عنبریں جنت البقیع میں ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے قدموں میں جگہ پائی ۔
کتابیات:
(۱)
محمد مسعود احمد، ڈاکٹر ، آئینۂ رضویات ، جلد چہارم ، مرتب: محمد عبدالستار طاہر ، مطبوعہ ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی۲۰۰۵ء
(۲)
‘بدرالقادری مصباحی ، علامہ ، جادہ ومنزل ، مطبوعہ المجمع الاسلامی مبارکپور
(۳)
Oماہنامہ سید ھاراستہ لاہور ، اپریل ۱۹۹۷ء
(۴)
ماہنامہ ضیائے حرم لاہور، مئی ۱۹۹۶ء
(۵)
ماہنامہ کنزالایمان دہلی ، مارچ ۲۰۰۴ء
(۶)
ماہنامہ جہان رضا لاہور ، ’’علامہ شاہ احمد نورانی نمبر‘‘
(۷)
اردو بک ریویودہلی ، اکتوبر ۲۰۰۳ء، مقالہ ’’ اسلامیات کایہودی پروفیسر‘‘
(۸)
_سہ ماہی افکار رضا بمبئی ، جولائی تا دسمبر ۲۰۰۲ء
How to Preach Islam?, Introduction Maulana Shah Abdul Aleem Siddiqui, Mumbai
(9)
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 262 Articles with 146315 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Sep, 2016 Views: 892

Comments

آپ کی رائے