اقوام متحدہ میں نواز شریف کا خطاب

(Ishrat Javed, )
کشمیریوں کی پشتی بانی جاری رکھنے کا عزم
پاک انڈیا تعلقات ہمیشہ سے ہی اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں مختلف واقعات سے تعلقات پر بہت اثر پڑتا ہے جیسا کہ اس وقت دونوں ملک تاریخ کے نازک موڑ سے گزر رہے ہیں حالات اس قدر بگاڑ کا شکار ہیں کہ جنگ چھڑنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے جبکہ تشویش ناک صورت حال یہ ہے کہ دونوں ملک اس وقت ایٹمی طاقت رکھتے ہیں۔ آزادی کے وقت سے ہی دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے اچھے تعلقات استوار رکھنے کا عزم ظاہرکیا مگر ہندو مسلم فسادات اور علاقائی تنازعات اورمسئلہ کشمیر کی وجہ سے دونوں ممالک میں کبھی اچھے تعلقات دیکھنے کو نہیں ملے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک دونوں ممالک کے مابین چار بڑی جنگیں جبکہ بہت ہی سرحدی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے بھی بہت سی کوششیں کی گئیں جن میں آگرا ، شملہ اور لاہور کا سربراہی اجلاس شامل ہے مگر ایسا ممکن نہیں ہو سکا ۔

پاک بھارت کشیدگی اور ممکنہ جنگ کی اس وقت سب سے بڑی وجہ’ نواز شریف کا اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پرمسئلہ کشمیر کو اقوام عالم کے سامنے پیش کرنا ‘اور’ بھارتی جارحیت کو بے نقاب کرنا‘ ہے۔بھارت کبھی بھی نہیں چاہتا کہ وہ کشمیر سے دستبردار ہو یہی وجہ ہے کہ آج تک کشمیر ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے ہیں،ظلم و بربریت کی تیز آندھی اس وقت چلی جب 8جولائی کو حزب المجاہدین کے کمانڈربرہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے لے کے اب تک کشمیر کے حالات کشیدہ ہو گئے اور اس دوران جھڑپوں اور ہندوستانی پولیس کی فائرنگ سے 100سے زائد کشمیری ہلاک جبکہ 10ہزار سے زائدزخمی ہو چکے ہیں کشمیر کی موجودہ صورت حال پر پاکستان نے کئی بار ہندوستان کو مذاکرات کی دعوت دی لیکن اس نے ہر بار یہ کہہ کر پیشکش مسترد کردی کہ وہ صرف سرحد پار سے ہونیوالی دہشت گردی پر بات چیت کرے گا۔پھروزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 مستقل رکن ممالک کے سربراہان پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں ہندوستان کی جانب سے جاری مظالم کو رکوانے میں کردار ادا کریں اور انہوں نے یہ مطالبہ سلامتی کونسل کے 5 مستقل ممبران یا ’پی فائیو‘ممالک، جن میں چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا شامل ہیں، کے سربراہان کو لکھے گئے خطوط میں کیا ہے۔نواز شریف نے خط میں مذکورہ ممالک کے رہنماؤں پر زور دیاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرار دادوں پر فوری عمل درآمد کرائے۔وزیراعظم نے خبردار کیا کہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال علاقائی اور عالمی امن پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے، مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا علاقائی اور عالمی امن کیلئے خطرہ ہے نیزانھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ جموں و کشمیر میں ہندوستان عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے، سلامتی کونسل کے مستقل ارکان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔وزیر اعظم نے اپنے خطوط میں واضح کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کا حامی ہے۔ بعدازاں وزیراعظم 17ستمبر کی صبح نیو یارک اس ایجنڈے سے روانہ ہوئے کہ وہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر 21ستمبراقوام متحدہ کے عالمی دن کے موقع پر دنیا کے سامنے کشمیر کا مسئلہ پیش کریں۔اور اسی مناسبت سے وزیراعظم نے نہایت ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے کشمیر ایشو اور آزادی کشمیر کی ضرورت کو بیان کیا جسے کشمیری عوام نے بے حد سراہا۔نواز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے یہ چوتھا خطاب تھا۔اس سے پہلے بھی وہ تین بار اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر خطاب کر چکے ہیں مگر اس بار عالمی یوم امن کے موقع پر نواز شریف خصوصی طورپر کشمیر ایشو کو اقوام عالم کے سامنے پیش کرنے اور بھارتی جارحیت کو بے نقاب کرنے کے مشن سے امریکا گئے تھے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان پڑوسی ملک ہندوستان کے ساتھ امن اور اچھے تعلقات کا خواہاں ہے، پاکستان مذاکرات سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا اور مذاکرات دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان امن مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔جبکہ ہندوستانی بربریت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، کشمیر میں ہندوستانی فوج کی جارحیت جاری ہے، گزشتہ 2 ماہ میں ہندوستانی فوج کی فائرنگ سے 6 ہزار سے زائد کشمیری زخمی ہوئے، وادی بھر میں 73 روز سے کرفیو بھی نافذ ہے جبکہ ہندوستانی فورسز کی جانب سے استعمال کیے جانے والی پیلٹ گنز کی وجہ سے سینکڑوں کشمیری نوجوان بینائی سے محروم ہوچکے ہیں کشمیریوں کی نئی نسل ہندوستان سے آزادی چاہتی ہے اور ہندوستان کی اسی بربریت کی وجہ سے حریت پسند کمانڈر برہان وانی نئی تحریک آزادی کی علامت بن گیا ہے اور سری نگر سے سوپور تک کرفیو کے باوجود آزادی کے لیے احتجاج کیا جاتا ہے۔پاکستان کشمیریوں کی حق خودارادیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے،اسی لیے ہم کشمیر میں ماورائے عدالت قتل عام کی تحقیقات کے لیے عالمی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ، کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے، سلامتی کونسل اپنی فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائے، بے گناہ کشمیریوں کو رہا کیا جائے اور کرفیو اٹھایا جائے۔ ہندوستان کو ایک مرتبہ
پھر تمام متنازع ایشوز پر بامعنی مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان غیر مشروط طور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بڑی قربانیاں دی ہے، پاکستان میں دہشتگردی کو بیرونی مدد حاصل ہے، آپریشن ’ضرب عضب‘ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب ترین آپریشن ہے جبکہ داعش کو روکنے کے لیے بھی اقدامات بھی بڑھائے جارہے ہیں لیکن انصاف کی عدم موجودگی میں عالمی سطح پر امن قائم نہیں کیونکہ دہشت گردی عالمی مسئلہ بن چکی ہے جس سے لازماً نمٹنا ہوگا اور اس کے لیے عالمی برادری کو متحد ہونا ہوگا، دہشت گردی اور شدت پسندی کی اصل وجوہات کو جانچنے کی ضرورت ہے، پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف ’نیشنل ایکشن پلان‘ کو عوام کی پوری حمایت حاصل ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس کی بنیاد کو ختم کیے بغیر نہیں جیتی جاسکتی۔نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ’پاکستان ذمہ دار ایٹمی ملک اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن بننے کا حقدار ہے، جبکہ ہم ایٹمی تجربات روکنے کے معاہدے پر بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں پاکستان، ہندوستان کے ساتھ ہتھیار کی دوڑ نہیں چاہتا لیکن ہندوستان کی جانب سے ہتھیار جمع کرنے پر ہمیں تشویش ہے ۔

اس حوالے سے مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنما سیدعلی گیلانی نے وزیراعظم نواز شریف کو زبردست خراج پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحد ہ میں نواز شریف کی تقریر نے کشمیریوں کے دل جیت لیے ہیں کشمیری آزادی کے سوا کسی چیز پر راضی نہیں ہیں۔کشمیریوں کی نئی نسل بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی، نواز شریف نے بھارت کے گھناؤنے چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔سید علی گیلانی نے مطالبہ کیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے فوج نکالے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو کشمیر میں آنے کی اجازت دی جائے۔ کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے ترکی ،ایران اور او آئی سی کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ایک طرف تو پاکستانی قوم اور کشمیری عوام نے نواز شریف کے اس اقدام کو بے حد سراہا اور کشمیری عوام کے دل جیت لئے وہیں اس تقریر کے نتیجے میں بھارت نے اپنی مکارانہ سازشوں کے ذریعے پاکستان کی ساکھ کو کمزورکرنے کی بھر پور کوشش کی۔

اسی طرح اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ کا علیحدہ اجلاس ہوا جس میں کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کشمیریوں پر ظلم و بربریت کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے۔جموں و کشمیر کی صورتحال پر ہونے والے رابطہ گروپ کے اجلاس کی سربراہی او آئی سی کے سیکریٹری جنرل ایاد امین مدنی نے کی جبکہ اجلاس میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز، ترکی اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ، نائیجر اور سعودی عرب کے سینئر نمائندوں، کشمیری عوام کے حقیقی نمائندوں اور آزاد جموں و کشمیر کے صدر مسعود خان بھی شریک تھے۔اس موقع پر او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے ہندوستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر کشمیریوں پر ظلم و بربریت کا سلسلہ بند کرے جبکہ کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اس مسئلے کے حل پر زور دیا۔اس موقع پر آذربائیجان اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے بھی کشمیر کی موجودہ صورتحال اور وہاں ہونیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہارکیا۔ترک وزیر خارجہ نے حالیہ واقعات کے تناظر میں مسئلہ کشمیر کے جلد از جلد حل کی ضروت پر زور دیا اور کہا کہ اس مسئلے کا حل جنوبی ایشیا میں امن اور ترقی لانے کے لیے نہایت ضروری ہے مسئلہ کشمیر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور یہاں ہونے والے انسانیت سوز مظالم اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ عالمی برادری اس جانب توجہ دے۔آربائیجان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ او آئی سی کو چاہیے کہ وہ کشمیر میں ہندوستانی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کے لیے نئے طریقے اپنائے اور کشمیر کے مسلمانوں کی مدد کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔اس حوالے سے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق سے کشمیر میں فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بھیجنے کے مطالبے کی تجویز کی بھی حمایت کی گئی۔نائیجر کے حکومتی نمائندے نے کہا کہ کئی ملکوں کی جانب سے ہندوستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کشمیر میں تحمل و برداشت کی پالیسی اپنائے لیکن اس کے برعکس وہاں حالات مزید خراب ہوگئے۔ عالمی برادری اس طرح کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتی ساتھ ہی انہوں نے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے کے لیے عالمی برادری کو متحرک کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا جبکہ اڑی میں ہندوستانی فوجی کیمپ پر ہونے والے حملے کا بھی تذکرہ کیاامریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’پاکستانی وزیر اعظم اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کشمیر میں تشدد کی حالیہ لہر اور خاص طور پر فوجی اڈے پر ہونے والے حملے پر شدید تحفظات کا اظہا رکیا اور فریقین نے زور دیا کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور وزیر اعظم نواز شریف کی ملاقات 19ستمبر 2016کوہوئی تھی۔علاوہ ازیں پاکستانی صحافیوں کے لیے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودی نے پاکستانی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ میں عالمی رہنماؤں سے ملاقات میں کئی امور پر تبادلہ خیال کیا تاہم اس میں کشمیر کا مسئلہ نمایاں رہا۔اعزاز چوہدری نے کہا کہ ’وزیر اعظم نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صرف ایک ایجنڈا لے کر آئے ہیں اور وہ ہے کشمیر میں ہندوستانی مظالم اور کشمیریوں کی پر امن جدوجہد کو دنیا کے سامنے لانا‘۔ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ ’کشمیر کو دیگر معاملات کے ساتھ جوڑنا دوسرے لوگوں کا ایجنڈا ہے، وزیر اعظم پاکستان کا ایجنڈا لے کر آئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ عالمی برادری کی توجہ انڈین فورسز کی ظلم و بربریت کی جانب مبذول کرائی جائے۔

ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک مثبت اور ایک منفی۔۔۔مثبت تو پیش کیے جا چکے ہیں ،اور امید کی جارہی ہے کہ یقینا پاکستان کی یہ کوشش رائیگاں نہیں جائے گی اور اقوام متحدہ ضرور کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کی پوری کوشش کرے گا اور کشمیری عوام بھارتی جبرو تسلط سے آزاد ہو کر سکھ کا سانس لیں گے مگر بھارت چونکہ کشمیر کو آزاد نہیں کرنا چاہتا اس لیے وہ ہر حد پار کر دینے سے باز نہیں آئے گالہذا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا تھاجب ایک جانب کشمیر میں ہندوستانی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں سے حالات کشیدہ تھے تو دوسری طرف اڑی سیکٹر میں انڈین فوجی کیمپ پر ہونے حملے اور اس کے بعد ہندوستان کے پاکستان پر دہشت گردی سے متعلق الزامات نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ۔سب سے پہلے تو اڑی حملے کا ڈرامہ رچا کر اقوام عالم کی توجہ نواز شریف کی تقریر سے ہٹانے اور اسے بے معنی قرار دینے کی کوشش کی۔بھارت پاکستان کو دنیا بھر میں دہشت گردوں کا سر پرست اور معاون ثابت کرنا چاہتا تھا،اور اسی کے پیش نظر اب بھارتی جنگی جنون سر چڑھ کر بولنے لگا اور پاکستان کی مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دینے لگا۔کشمیر کے ضلع بارا مولا کے اڑی سیکٹر میں ہندوستانی فوج کے ہیڈ کوارٹر پر مسلح افراد کے حملے میں 18 فوجی ہلاک ہوئے تھے، جبکہ جوابی کارروائی میں 4 حملہ آوروں کو بھی مار دیا گیا تھا۔ہندوستان کی جانب سے حملے کے فورا بعد بغیر انڈین حکومت اور میڈیا چیخ چیخ کربغیر کسی ثبوت کے پہلا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے کہا گیا کہ حملہ آوروں کا تعلق مبینہ طور پر کالعدم تنظیم جیش محمد سے تھا جو پاکستان سے داخل ہوئے۔تاہم پاکستان نے بغیر کسی شواہد کے لگائے گئے ان الزامات کو سختی سے مسترد کردیا تھا۔بعد ازاں انڈیا جنگ کی دھمکیاں دینے لگا ۔جب ہمارے شیر دل جنرل راحیل شریف نے انڈین گیڈر بھبھکیوں کو لکارا تو انڈیا نے اپنے بیانات میں تبدیلی کر لی اورصورتحال واضح ہونے پر کھسیانی بلی نے ایک بار پھر کھمبا نوچنا شروع کر دیا،اوربھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے اڑی سیکٹر حملہ کے واقعہ پر ناقص سکیورٹی کا اعتراف کر تے ہوئے کہاہے کہ آئندہ اس بات کویقینی بنایا جائے گا کہ ایسی کسی غلطی کو نہ دہرایاجائے۔ بدھ کو بھارتی خبررساں ادارے کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر دفاع نے اڑی سیکٹر حملہ کے واقعہ پر ناقص سکیورٹی کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ آئندہ ایسی کوئی غلطی نہیں ہو گی۔ مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے حملے ا ور جذباتی انداز میں بھی جواب دیا جا سکتا ہے۔ منوہر نے کہا کہ وہ صفر غلطی پر یقین رکھتے ہیں اور بھارت اب اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایسی غلطی دوبارہ نہ ہو۔واضح رہے کہ بھارتی سورماؤں نے اڑی حملہ ہوتے ہی پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی تھی۔ اب صورتحال واضح ہونے پر کھسیانی بلی نے ایک بار پھر کھمبا نوچنا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو عالمی فورم پر اٹھانے کی کوششیں رنگ جہاں رنگ لانے لگی تھیں وہیں بھارت نے اپنی ازلی چالاکی کے ذریعے امریکہ کی آنکھوں پر فریب کی پٹی باندھ دی جسکے نتیجے میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا دوستی کا دعویٰ کرنے والے امریکہ کامکروہ چہرہ بھی سامنے آگیاہے، امریکہ ایک جانب تو پاکستان کی دوستی کا دم بھرتا ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست قرار دینے کے لئے قانون سازی کر رہا ہے۔امریکی کانگریس میں پیش کی جانے والی قرار داد میں امریکی قانون سازوں نے مطالبہ کیا ہے پاکستان کو ایک دہشتگرد ریاست قرار دیا جائے اور اس سلسلے میں باقاعدہ قانون سازی کی جائے۔پاکستان سے دوستی کا دعویٰ کرنے والے امریکہ نے بھارت کے مطالبہ پر عمل درآمد کرتے ہوئے امریکی کانگریس نے اپنے ایک اہم اتحادی کے خلاف ہی بل پیش کر دیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات کس قدر تیزی سے خراب ہو رہے ہیں۔ کانگریس میں پیش کیا جانے والا یہ بل HR 6069 پاکستان پر الزام لگاتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو سہولت مہیاکرتا ہے۔ بل پاس ہونے کے بعد کانگریس کی جانب سے امریکی انتظامیہ کونوٹس کال کی جائے گی۔ جس کے بعد امریکی صدر کو 90 روز کے دوران ایک رپورٹ دینا ہو گی کہ آیا پاکستان دہشت گردوں کو سپورٹ کرتا ہے یا نہیں؟کانگریس میں پیش کیا جانے والا یہ بل بھارتی لابی کے معروف رکن کانگریس ٹیڈپو اور ڈانا روہبارچر کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔ان ممبران کانگریس کی جانب سے کہا گیا ہے پاکستان ایک قابل اعتماد اتحادی ثابت نہیں ہوا۔ پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں اور جہادیوں کو امداد اور سہولت مہیا کرنے کے نتیجہ میں ہی اڑی جیسا حملہ ہوتا ہے۔اس سلسلے میں پاکستان کا غیر ذمہ دار رویہ ہمسائیہ ممالک کے لئے خطرے کا باعث ہے اور بھارت اس کا ایک سے زائد بار نشانہ بن چکا ہے۔یاد رہے کہ اڑی میں انڈین فوجی اڈے پر حملے کے بعد ہندوستان نے پاکستان پر الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع کردیا تھا یعنی بھارت اپنے مذموم مقاصد میں کسی حد تک کامیاب ہوتا دکھائی چکا ہے اس سلسلے میں انڈیا کے زیر اعطم نریندر مودی نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس حملے کے پیچھے جن کا بھی ہاتھ ہے انھیں ہر قیمت پر سزا دی جائے گی‘پاکستان حافظ سعید اور دیگر شدت پسندوں کے ذریعے ایک ایسے علاقے میں شدت پسندی کو انجام دے رہا ہے جو بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے۔پاکستان کشمیر میں تشدد کو ہوا دے رہا ہے۔ پاکستان کے منصوبے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔راج ناتھ سنگھ نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان میں جو بھی دہشت گردی ہورہی ہے وہ پاکستان کی وجہ سے ہے کیونکہ وہ دہشت گردی کی معاونت کرتا ہے پاکستان دہشت گردوں کو شہید کہتا ہے اور یوم سیاہ مناتا ہے جو افسوس ناک ہے برہان وانی دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین کا کمانڈر تھا اور نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے پر اکساتا تھااورپاکستان کے دہشت گردہونے اور دہشت گردوں کا سہولت کار ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس نے برہان وانی کو شہید قرار دیا ہے اس حوالے سے سشما سوراج نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم نے برہان وانی کو ایک’شہید‘ قرار دیا ہے کیا وہ نہیں جانتے کہ برہان وانی حزب المجاہدین کا ایک کمانڈر تھا۔تاہم پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے اس کے جواب میں کہا کہ ’انڈیا کسی قسم کی تفتیش کیے بغیر ہی پاکستان پر الزام لگا رہا ہے اور ہم اسے صریحاً مسترد کرتے ہیں یہ انڈیا کا پرانا وطیرہ ہے کہ وہ بغیر کسی تفتیش کے پاکستان پر الزام لگا دیتے ہیں جس کا واضح مقصدپاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کیا کرنا ہے۔

جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت کورکمانڈر کانفرنس ہوئی، جس میں ملک کی اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق کورکمانڈرز کانفرنس میں اڑی حملے کے بعد ہندوستانی پروپیگنڈے کا نوٹس لینے کے ساتھ ساتھ پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہم خطے میں ہونے والے واقعات سے باخبر ہیں اور موجودہ حالات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ موجودہ واقعات کے پاکستان کی سکیورٹی پر پڑنے والے اثرات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔آرمی چیف نے فوج کی آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج ملک کو درپیش بالواسطہ اور بلاواسطہ تمام دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہے اور پاک فوج نے اپنی بہادر قوم کے ساتھ مل کر بڑے سے بڑے چیلنج کا مقابلہ کیا ہے، مستقبل میں بھی پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف ہرطرح کے مذموم عزائم کو ناکام بنادیا جائے گایاد رہے کہ جب بھی پاکستان نے کشمیر کا مسئلہ اٹھایا ہندوستان نے اس کا جواب پاکستان پر دہشت گردی کی معاونت کا الزام عائد کر دیا۔واضح رہے کہ بیس برس میں پاکستان کے خلاف دہشت گرد ریاست قرار دیئے جانے کی یہ پہلی قرار داد ہے جو امریکی کانگریس میں پیش کی گئی ہے اور اس سلسلے میں باقاعدہ بات چیت کی جا رہی ہے جبکہ اس سے قبل ممبئی حملے کے بعد بھی مطالبہ کیا گیا تھا مگر ایسی کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی تھی۔بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان پر الزامات لگانے کا سلسلہ ابھی بھی تواتر سے جاری ہے۔ بھارتی میڈیاکی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اپنا ڈرون براق سرحدی علاقوں میں اڑانا شروع کر دیا ہے۔بھارتی سکیورٹی فورسز کے مطابق پاک بھارت سرحد سے پانچ سو میٹر دوری پربغیرپائلٹ کے اڑائے جانے والے ڈرون حملے کی مدد سے بھارتی سرحدی علاقوں میں فوجی انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور بھارتی سرحدی علاقوں کی تصاویر بنائی جا رہی ہے۔

پاکستانی فضاؤں میں طیاروں کی گھن گرج۔۔شاہینوں نے دشمن پر کپکپی طاری کر دی۔۔ نعرۂ تکبیر بلند
پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے شمالی علاقہ جات کی فضائی حدود بدھ 21 ستمبر کے لیے بند رکھنے کی ہدایت دی تھی۔ جس کے بعد پاکستان کی قومی فضائی ایئر لائن پی آئی اے نے بدھ کو گلگت، سکردو اور چترال کے لیے پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔گو کہ حکام نے سرکاری طور پر فضائی حدود بند کرنے کی وجوہات بیان نہیں کی ہیں لیکن عسکری ذرائع نے بتایا کہ شمالی علاقوں کے فضائی اڈوں پر فوج کے جنگی طیاروں کی لینڈنگ اور ٹیک آف کی مشقوں کی وجہ سے فضائی حدود کو بند کیا گیا ہے۔دوسری جانب اسلام سے پشاور جانے والی موٹروے بھی منگل رات دو بجے سے بدھ دو بجے دن تک بند رہنے کے بعد دوبارہ کھول دی گئی ہے جبکہ اسلام آباد لاہور موٹر وے کا ایک حصہ جمعرات کو ٹریفک کے لیے بند رہے گا۔موٹر وے پولیس کے اعلامیے کے مطابق جمعرات کو صبح پانچ بجے سے شام پانچ بجے شیخوپورہ سے کالا شاہ کاکو تک موٹر وے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں کی موٹر وے کے مخصوص حصے پرہنگامی لینڈنگ اور ٹیک آف کی مشقیں جاری ہیں۔ فضاؤں میں پاکستانی طیاروں کی گھن گرج سے عوام الناس میں جوش و جذبے کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ لوگ جوش ایمانی اور وطن عزیز کی محبت میں نعرہ تکبیر بلند کر رہے ہیں۔ پاک فضائیہ کے جاں باز اپنی پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ مشقوں کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔

روس کی طرف سے بھارت کو منہ کی کھانی پڑی
روس چونکہ بھارت کا دوست سمجھا جاتا ہے بھارت نے روس کو بھی اپنی جارحانہ سوچ کے ذریعے پاکستان کے خلاف کرنے کی کوشش کی مگر روس نے اسے مسترد کر دیا اور بھارت کومنہ کی کھانی پڑی۔ روس نے بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ24 ستمبر سے شروع ہونے والی مشترکہ فوجی مشقیں منسوخ کرنے کا مطالبہ دوسری بارمستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کی افواج کی مشترکہ مشقیں’’دوستی2016‘‘ طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوں گی۔سفارتی اور عسکری ذرائع کے مطابق جنوبی ملٹری ڈسٹرکٹ سے تعلق رکھنے والے 200روسی فوجیوں کا دستہ 24ستمبر سے 7اکتوبر تک جاری رہنے والی پاکستان اور روس کی پہلی فوجی مشقوں میں شرکت کے لئے 23ستمبر کو پاکستان پہنچے گا۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں ’’دوستی 2016‘‘ طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوں گی اور ماسکو نے نئی دلی کو مطلع کر دیا ہے کہ ان مشقوں کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ایک سینئر روسی سفارت کار کا کہنا ہے کہ مشترکہ فوجی مشقوں سے بھارت کو فکر مند نہیں ہونا چاہیے۔روس کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل ویلیری گیراسیموف نے رواں سال اگست میں اپنے پاکستانی ہم منصب جنرل راشد محمود کے ساتھ ملاقات کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ روس پاکستان کے ساتھ طویل المدتی، مستحکم اور قابل اعتماد فوجی تعلقات چاہتا ہے۔

"میں یہ سمجھوں گی ٹھکانے لگا سرمایہ تن"
میں ایک بزدل سی لڑکی ہوں، مجھے چوہے سے ڈر لگتا ہے، مجھے کاکروچ سے ڈر لگتا ہے، مجھے بادلوں کی گرج سے ڈر لگتا ہے ، لیکن خدا کی قسم مجھے ہندوستان سے ڈر نہیں لگتا- آج انڈیا نے ایک بار پھر میرے ملک کو للکارا ہے، میں بتا دینا چاہتی ہوں کہ اس شیطان نے اگر میری دھرتی کی طرف ایک انچ قدم بھی بڑھایا تو مجھ جیسے کمزور جسم بھی اس کا منہ نوچ لیں گے- میں کینسر کی مریضہ ہوں ، میرے لیے زندگی بہت کم رہ گئی ہے، مجھ سے کیموتھراپی کی تکلیف برداشت نہیں ہوتی، لیکن رب کعبہ کی قسم میں نے جب سے یہ خبریں سنی ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان میں جنگ ہوسکتی ہے تب سے مجھے یوں محسوس ہورہا ہے جیسے میرے اندر کا سارا کینسر ختم ہوگیا ہے ، آج میں خود بستر سے اٹھی ہوں، آج میں نے وضو بھی خود کیا ہے، آج میں نے کرسی پر نہیں فرش پر سجدہ کیا ہے، میں جانتی ہوں یا میرا خدا جانتا ہے کہ میرے اندر یہ ساری توانائی پاکستان نے بھر دی ہے، اس وقت میری یہ تحریر میری بہن لکھ رہی ہے، مجھے کمپوزنگ نہیں آتی، مجھے الفاظ بنانے بھی نہیں آتے ، لیکن مجھے پاکستان سے محبت کرنا آتی ہے، میری دلی خواہش ہے کہ کاش انڈیا یہ جنگ چھیڑے اور میں مرنے سے پہلے اس کی چیتھڑے اڑتے دیکھوں، میں اپنے وطن کی طرف بڑھنے والے غلیظ قدموں کو کٹتے دیکھوں- میری بیٹی نے جب مجھے یہ خبر سنائی کہ پاک فوج نے پشاور موٹر وے پر طیاروں کی ہنگامی لینڈنگ کی مشقیں شروع کر دی ہیں تو میرے پاکستانی بھائیو بہنو۔۔۔ مجھے یوں لگا جیسے کوئی مجھے پکار پکار کے کہہ رہا ہے کہ زینب۔۔ اٹھو، ایک اور معرکہ حق و باطل درپیش ہے، میری عمر 22 سال ہے ، شائد میں عمر کا 23واں سال نہ دیکھ پاؤں، لیکن مجھے لگتا ہے میں آج بھی اپنی فوج کے، اپنے پاکستانی بھائیوں کے شانہ بشانہ لڑنے کی ہمت رکھتی ہوں، میرے فوج کے جانباز سپاہیو! مجھے بھی موقع دو ، میں بھی اپنی قبر میں یہ اعزاز لے کر جانا چاہتی ہوں کہ میں نے وطن دشمنوں پرجیتے جاگتے حملہ کیا، خدا کے لیے اگر یہ جنگ چھڑتی ہے تو میرا جسم حاضر ہے، میرے جسم پر بم باندھ کر دشمن کی صفوں میں پھینک دو۔۔۔۔"میں یہ سمجھوں گی ، ٹھکانے لگا سرمایہ تن"۔۔۔۔

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ishrat Javed

Read More Articles by Ishrat Javed: 69 Articles with 52579 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Sep, 2016 Views: 377

Comments

آپ کی رائے