طالبان کی قید میں ۔۔۔یو آنے ریڈلے سے مریم تک

(Akbar Khan, )
 اﷲ تعالیٰ جسکو چاہتا ہے ،ہد ا یت عطا ء فرماتا ہے ۔ ہم اس سچائی کا عملی مظاہرہ ایک بر طانوی خاتون صحافی کی افغا نستان میں غیر قا نونی آمد، طالبان دور حکومت میں گرفتاری،جلال آباد اور کابل کے جیلوں میں قید اور ملا محمد عمر کی طرف سے رہائی کی کہانی میں وا ضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ رہائی کے ڈھائی سال بعد وہ مسلمان ہو گئی۔یو ا َنے ریڈلے اب مریم بن چکی ہے۔

’’یو آنے ریڈلے ‘‘ عا لمی ذ را ئع ابلاغ کا ایک جانا پہچا نا نام ہے۔ وہ نائین الیون کے فوری بعد پاکستان آئی اور پھر غیر قا نونی طور پر افغانستان چلی گئی تھی، جہاں وہ طالبان کے ہا تھوں گرفتا ر ہوئی تھی۔ رہائی کے بعد اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس نے اپنے اس روح فرسا رُوداد پر مشتمل ایک دل چسپ کتاب۔ ’ ’ طالبان کی قید میں۔۔۔ یو آنے ریڈلے سے مریم تک‘‘ لکھی ہے۔
اس تصنیف میں میں ڈرامہ، سسپنس اور تھرل سبھی عنا صر موجود ہیں جو اس کتاب کو دل چسپ اور لائق مطالعہ بناتے ہیں۔

ایک عام صحافی بننا عام بات ہے لیکن ایک نا مور صحافی بننے کے لئے عام حالات کار سے ہٹ کر سچی خبر یا اخباری سٹوری کی تلاش میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر فرائض کو بجا لانا پڑتا ہے۔ اور یہ مشکلات ا ور بھی بڑھ جاتی ہیں جب ایک بین الاقوامی صحافی رپورٹینگ کے لئے کسی ایسے ملک میں جاتا ہے جسکی ثقافت، جغرافیہ اور زبان سے وہ یکثر نا بلد ہو۔ اور جنگی نامہ نگار تو بموں کے گھڑ گھڑاہٹ اور گولیوں کی تھڑ تھڑاہٹ میں جنگ کی رپورٹینگ کرتے ہیں
حالیہ دنوں میں یہ تصنیف میرے زیر مطالعہ رہی۔ آیئے اس مطالعہ کی روشنی میں ’ ’ مریم‘‘ اور اسکی لکھی اس زبردست کتاب پر گفتگو کرتے ہیں۔
ہمارے نذدیک اس تصنیف کے کئی پہلووؤں پر بات کی جا سکتی ہے:
ایک مہم جو اور جرائتمند خاتون صحافی :
یو اَنے ریڈلے بھی ایک ایسی ہی بین لاقوامی صحافی تھی جو لندن کے سنڈے ایکسپریس میں بطور چیف رپورٹر کام کر رہی تھی۔ نائین الیون کے بعد اور امریکہ کے افغانستان پر حملے سے قبل اسلام آباد آئی اور اور پشاور بھی گئی تا کہ جنگ سے قبل یہاں کے عوام کے خیالات و تاثرات اور جنگ کے ممکنہ اثرات پر مشتمل سٹوریز اپنے اخبار کے لئے لندن بھیج سکے۔
اس ضمن میں وہ لکھتی ہے ’’ مجھے اس وقت اسلام آباد میں ہی ہو نا چاہئے تھا، یہ وہ جگہ ہے جہاں اس خوفناک سٹوری کا دوسرا باب شروع ہو رہا ہے، جو ہمیشہ کے لئے تاریخ کی کتابوں میں رقم ہو جائیگا۔‘‘ ۔
لیکن یہاں اسکی مشکل یہ تھی کہ مقامی زبان، ثقافت اور جغرافیہ سے وہ با لکل نا بلد تھی۔ وہ ایک ترجمان پلس گائیڈ کی مدد سے اسلام آباد اور پشاور میں امریکہ مخالف جلسے جلوس کی کوریج کرنے لگی۔ ان دنوں امریکہ و بر طانیہ افغا نستان پر حملے کی دھمکیا ں دے رہے تھے۔ غیر ملکیوں کے حوالے سے غیر یقینی فضاء میں بھی مصنفہ کا دارالعلوم حقا نیہ اکو ڑہ خٹک جا کر مدرسہ کے علماء کا مو قف جاننا ، سرکاری حکام سے لڑ جھگڑ کر درہ خیبر جیسے خطرناک قبا ئلی علاقے میں جانا، ایک اہم کردار جنرل ریٹا ئرڈ حمید گل سے ممکنہ جنگ کے با رے ا نٹر یو کرنا اور اسی طرح جلو زئی کیمپ میں افغان مہا جرین کا احوال اپنے آنکھوں سے دیکھنے جانا، اپنے پیشے سے کمٹ منٹ اور اسکی مہم جوئی کا ثبوت ہے۔
لیکن اب ریڈلے ایک قدم مذید آگے کر بڑھ کر افغانستان جانا چاہتی تھی جبکہ افغانستان کا سفا ر ت خانہ کسی بھی مغربی با شندے کو ویزہ نہیں دے رہا تھا۔
افغا نستان میں غیر قانونی آمد :
وہ افغانستان میں داخل ہو کر جنگ کے با رے میں افغان عوام کا مو قف جاننا چاہتی تھی ۔ اٹھا ئیس ستمبر دو ہزار ایک کو وہ مقا می اپریٹروں کی مدد سے ایک اٖفغان فیملی کا حصہ بن کر افغانی برقہ اوڑھ کر بھوک پیاس ، گرمی اور طالبان کے ہاتھوں پکڑے جانے کے خوف کے ساتھ جلال آباد کے قریب ایک گاؤں ’’ کا ما ‘‘ کے ایک گھر میں پہنچ گئی۔ وہ اپنے میزبان خا ندان کے عو رتوں، بچوں، مردوں اور سٹو ڈنٹس سے کافی دیر تک دوستا نہ ما حول میں تبا دلہ خیال کرتی ہے۔ اس افغان خاندان کی مہمان نوا زی، غیرت مندی، سادگی ، خوش خلقی اور جنگ سے بے خوفی نے ریڈلے کو بہت متاثر کیا۔وہاں سے اس نے اپنے اخبار کی سٹوری کے لئے کافی مواد اکٹھا کیا۔ لیکن ریڈلے کی بد نصیبی دیکھئے کہ جب وہ اسی دن و اپس پاکستانی بار ڈر کے قریب پہنچے تو اچانک پاکستان نے سرحد سیل کر دی ۔ ا نہیں رات وہیں ایک ایسے ہوٹل میں رکنا پڑا جس میں واش روم تھا اور نہ ہی باتھ روم ۔اب اس قافلے کو سمگلر روٹ کے راستے سے پاکستانی بار ڈر کی طرف جانا تھا۔
صحافت میں انفرادیت اور خبر لانے میں اولیت کی خاطر اس نے اپنی جان داؤ پر لگا دی تھی۔ ۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ وہ اپنے پیشے سے کتنا پیار کرتی تھی ۔اور یہ کہ اسے صحا فت کی گہرائیوں سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا۔
خفیہ غیر قانونی روٹ ’’دَور بابا ‘‘ کی طرف تکلیف دہ سفرـ:
صبح پانچ بجے یہ قاٖفلہ ایک اور ٹیکسی میں کچی سڑک پر اپنی اگلی منزل ’’ دَور بابا ‘‘کی طرف چل پڑا۔یہاں پتھریلے پہاڑ اور خو فناک درّے ہیں۔ جہاں سے پاکستانی بارڈر تک کا باقی سفر پیدل ،گدھوں، اور ا ونٹوں گاڑیوں پر ہوتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی یہ ’’ سوراخ دار سرحد‘‘ چودہ سو میل لمبی ہے جس میں ’’دَور بابا‘‘ جیسے چارسو غیر قانونی روٹ ہیں۔
اسکا جسم تھکن سے چور، پاؤں میں چھالے پڑ چکے تھے۔ لیکن اب وہ زند گی کی مشکل ترین دور سے دوچار ہونے والی تھی۔
گدھے کو انگریزی میں گالی نے گرفتار کرایا:
وہ ا فغانی برقہ پہنے جیسے ہی گدھے پر بیٹھنے لگی، کمبخت نے اچا نک آگے کی طرف ایسی جست لگا دی کہ وہ گرتے گرتے بچی۔ اسکے منہ سے ایک چیخ کے سا تھ ’’ انگریزی میں گالی ‘‘ نکلی اسکا کیمرہ بھی نظر آگیا۔ اسے گرفتار کر لیا۔ اسکا گا ئیڈ ’’ جان ‘‘ بھی شک میں پکڑا گیا۔ اسکے ساتھ آئی خاتون بھاگ گئی۔ لیکن بین الاقوامی صحافت کی بلبل موت کے منہ میں چلی گئی۔
جلال آباد کی طرف واپس:
اس تکلیف دہ سفر میں ایک مقام پرایک خاتون پولیس اہلکار بہت بھونڈے انداز میں لو گوں کے سامنے مصنفہ کی تلاشی لینے لگی۔ وہ لکھتی ہے، ’’ میں ایک دم ہجوم کی طرف مڑی اور سر کشی کے انداز میں اپنے کپڑے اوپر اُٹھا دئیے۔ یہ ہیں ڈائنا میٹ، یہ ہیں جو میں نے چھپائے ہو ئے ہیں‘‘۔ لوگ دوڑنے لگے۔
اسکے علاوہ آگے جا کر ایک اور مقام پر مصنفہ کو بازار میں گھمایا گیا۔ ایک نو عمر لڑکا ریڈلے کو دیکھ کر اپنی گردن پر ایک انگلی پھیرتا ہے جسکا مطلب تھا کہ ریڈلے کو ذبح کیا جائیگا۔
مصنفہ کو اپنے سنگسار ہونے کا خوف بھی تھا ۔ ایک اور جگہ لکھتی ہے۔ ’’میں نے مجمعے پر نگاہ ڈالی۔ اور خود سے کہا ، میرا آخری وقت آپہنچا ہے۔ اب مجھے سنگسار کیا جایئگا۔۔۔ مجمع میرے قریب آیا۔ میں اپنی انکھیں بند کر لینا چاہتی تھی لیکن فوراََ خیال آیا۔ کہ اگر آنکھیں کھلی رہیں تو ہو سکتا ہے کہ کو ئی ان کے اندر جھانک کر مجھ پر ترس کھا لے اور پتھر مانے والوں کو روکنے کی کو شش کرے۔‘‘ ۔
مغرب کی بیٹی ایک انگریز گوری پر کیسی کیسی ڈراؤنی سوچوں کے حملے ہو رہے تھے، خدشات سے اسکا حلق سوکھ رہا تھا اور خون گردش کرنا بھول گیا تھا۔
یو آنے۔۔۔ جیل میں:
وہ سات دن جلال آباد اور تین دن کابل کی جیل میں رہی۔ مصنفہ مغربی پرو پیگنڈا کے زیر اثر طالبان کی طرف سے ظلم و ستم اور اذیتناک موت کا تصور کر رہی تھی۔
لیکن خدشات کے برعکس اسکے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا۔ طالبان کو شک تھا کہ وہ امریکی جاسوس ہے لیکن تفتیش میں یہ بات ثابت نہ ہو سکی۔ جاسوسی کی سزا موت ہو سکتی تھی۔ اس پر کوئی تشدد نہیں ہوا ۔ اعلیٰ حکام اس سے بار بار مختلف سوالات شا ئستہ انداز میں پوچھتے رہے۔ اسے کئی سہولتیں حاصل تھیں۔ کھانے پینے کے علاوہ اسے بی بی سی سننے کے لئے ریڈیو دیا گیا۔ ایک شب ایک طالب چھپکے سے اسکے کمرے میں آکر اسکے پاس لیٹ گیا۔ لیکن یہ دیکھ کر کہ ریڈلے اُٹھ کر رو رہی ہے، وہ پشتو میں معافی ما نگتا ہوا واپس چلا گیا۔
مصنفہ جیل حکام کو ڈراتی ، ان پر تھوکتی اور بھوک ہڑتال بھی کرتی رہی لیکن طا لبان اسے ’بہن اور ہماری مہمان‘‘ کہہ کر پکارتے رہے۔
وہ لکھنے کا شوق اس طرح پو را کر تی رہی کہ وہ ٹوتھ پسٹ کے کاٹن پر خفیہ ڈائری بھی لکھتی رہی تھی جو بعد میں اسکے کام آئی۔
ریڈلے کے قتل کی امریکی و برطانوی سازش:
امریکہ و برطانیہ کو جنگ کے جواز ، اور طا لبان پر فوری حملہ کے لئے طالبان کے قید میں ریڈلے کی لاش چاہئے تھی۔ اسی لئے وہ اس قیدی کی زندگی کے در پے ہو گئے تھے۔ وہ مغربی عوام کو بتانا چاہتے تھے کہ طالبان وحشی، اُجڈ ، جاہل اور عورتوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں۔ انھوں نے ایک سا زش کے تحت ریڈلے کو مغربی جاسوس ثابت کر نے کی کوشش کی جو ناکام ہوئی۔
طا لبان کو ریڈلے کی ذاتی ذندگی سے متعلق مغرب سے خفیہ طور پر مسلسل ایسی دستاویز ات مو صول ہو نے لگیں جن سے ریڈلے کو جا سوس ثابت کرنا مقصود تھا۔ جسکے نتیجے میں مصنفہ کی دردناک موت یقینی تھی۔ لیکن طالبان ،امریکی و برطانوی سا زش بھا نپ گئے۔وہ اس نتیجہ پر پہنچ گئے کہ ریڈلے جاسوس نہیں بلکہ واقعی سنڈے ایکسپریس کی صحافی ہے جسکا افغا نستان آنا طالبان کے خلاف کسی سا زش کا حصہ نہیں۔
اسکے اخبار کا دار:
اسکے اخبار نے بھی اسکی رہائی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اخبار کے سینئر لوگ اسلام آباد میں طالبان سفیر سے مسلسل مذاکرات کرتے رہے۔ اور ریڈلے کو صحافی ثابت کرنے کے لئے متعلقہ دستا ویزات مہیا کر تے رہے۔ انکی کا وشیں رنگ لے آئیں۔
قید سے رہائی:
اسکی بوڑھی ماں ڈائس اور اکلوتی بیٹی ـ ڈیزی کی دُ عائیں قبول ہو گئیں۔ بر طانیہ کے وزیر خارجہ کی مداخلت اور طالبان کی رحم دلی بھی کام کر گئی۔ ریڈلے کی سچائی جیت گئی۔آخر طالبان قائل ہو گئے کہ وہ ایک صحافی ہے۔ دس دن قید میں رہنے کے بعد اسے آٹھ اکتوبر کو رہائی نصیب ہوئی ۔ وہ لکھتی ہے۔ ’’ہم جس چیک پوائنٹ پر سے بھی گزرے سفارتی افسر وہاں ملا عمر کے دستختوں سے جاری ہونے والا کاغذ دکھا تا رہا، جس میں کہا گیاتھا کہ یو آنے ریڈلے کو انسانی بنیادوں پر رہا کیا گیا ہے۔‘‘
سٹوری فائل کرنے میں اولیت اور انفرادیت کے شوق نے جہاں اسے موت کے موت میں دھکیل دیا تھا، ہم دیکھتے ہیں کہ با لاخر یہ صحافت سے اسکی سچی لگن اور شاندار ریکارڈ ہی تھا جس نے اسے خوفناک موت سے بچا لیا۔بے داغ صحافت اسکی زندگی کی ضمانت بن گئی۔
اسلام قبول کرتی ہے:
افغان طالبان نے اپنی دشمن کی بیٹی سے بہت اچھا سلوک کیا تھا ۔ دوران قید ایسا بھی دن آیا تھا کہ اسے اسلام کی دعوت دی گئی تھی۔ ریڈلے نے طالبان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسلام کا مطالعہ کر نے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرے گی۔ ڈھائی سال تک وہ اسلام کو سمجھتی رہی ، پھر ایک دن اپنے ضمیر کی آواز سنی اور اسلام قبول کیا ۔ اب وہ مغرب میں اسلام کی با پردہ وکیل ہے۔
وہ برطانیہ میں جنگ مخالف تحریک کی روح رواں بھی ہیں۔ وہ آج عالمی ذرائع کے کنوس پرپہلے سے کہیں ذیا دہ چمک دمک کے ساتھ مو جد ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: akbarkhan

Read More Articles by akbarkhan: 10 Articles with 9933 views »
I am MBA Marketing and serving as Country Sales Manager in a Poultry Pharmaceutical Pakistani Company based at Karachi. Did BA from Punjab University... View More
28 Oct, 2016 Views: 1610

Comments

آپ کی رائے
اکبر خان بھائی بہت اعلیٰ کاوش ہے۔ ماشاءاللہ آپ بہت اچھا لکھتے ہیں۔ بڑے اخبارات کو اپنی تحریریں بھیجیں مثلا جنگ ایکسپریس دنیا وغیرہ آپ میں مقبول کالم نگار کی ساری خوبیاں موجود ہیں۔ مبارک ہو
By: نازک جتوئی, کراچی on Oct, 28 2016
Reply Reply
0 Like
achi story hae . lkon majoda dor k lgo k leye kya pegham he pa k story me
By: Farhad Khan, Karachi on Oct, 28 2016
Reply Reply
0 Like
I have discussed this element in the article.
By: Akbarkhan, Karachi on Oct, 29 2016
0 Like
Dear Brother Jatoi sb ! Thanks a lot for your valuable comments.
By: Akbarkhan, Karachi on Oct, 29 2016
0 Like