افغانستان بھی بھارت کی زبان بولنے لگا

(Muhammad Nawaz Bashir, )
ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کا مکرو چہرہ دنیا کے سامنے واضح ہو گیا ہے جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ بھارت افغانستان کو استعمال کر کے پاکستا ن میں دہشتگردی کروا رہا ہے ، بھارت کے جارحانہ رویے کے باوجود بھی امرتسر میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کرنا پاکستان کا مثبت اقدام تھا لیکن بھارت اور افغانستان نے مل کر سفارتی تعلقات کی جس طرح دھجیاں آڑائی ہیں وہ سب دنیا کے سامنے ہے ،اکثر لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کو بھارت میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت ہی نہیں کرنی چاہیے تھی ۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور واضح کیا کہ دونوں ملکوں اور اس خطے کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نجات دلانے کیلئے ہمسایہ ملکوں کو تعاون اور بات چیت کرنے کی ضرورت ہے، بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے یہ واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان بات چیت کرنا چاہتا ہے لیکن یہ ہماری طاقت ہے، اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہارٹ آف ایشیا‘‘ کانفرنس کے دوران یہ واضح ہو گیا ہے کہ بھارت کی جارحیت کے باوجود پاکستان کے مفاہمانہ ردعمل کی وجہ سے دنیا پاکستان کی باتوں کو غور سے سنتی ہے۔ اس طرح بھارت خود اپنے اس مقصد میں ناکام ہو رہا ہے کہ پاکستان کو دنیا میں تنہا کر دیا جائے۔ مواصلت ، تجارت اور اسٹرٹیجک مفادات میں بندھی دنیا میں کسی بھی ملک کو نشانہ بنا کر اور تنہا کرکے معاملات طے کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بدحواس نریندر مودی کی انتہا پسند حکومت اپنے ملک میں پاکستان دشمن نعروں کو بلند کرکے سیاسی مفاد سمیٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جیسا کہ ستمبر میں اوڑی کیمپ پر دہشت گرد حملہ کے بعد بھارتی حکومت نے غیر ضروری طور پر پاکستان کے ساتھ اشتعال انگیزی کو فروغ دیا تھا ، بھارت دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرکے اپنے تئیں وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ اس طرح پاکستان کو پریشان کیا جاسکے گا۔ اسی حکمت عملی کے تحت نومبر میں سارک کی سربراہی کانفرنس کا بائیکاٹ کیا گیا اور افغانستان ، نیپال ، بنگلہ دیش اور بھوٹان جیسے ملکوں کو ساتھ ملا کر اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سارک کانفرنس کو ناکام بنوایا گیا۔ بھارت اسے پاکستان کے خلاف اپنی بڑی سفارتی کامیابی سمجھتا ہے لیکن اس طرح کے طریقہ کار سے وہ علاقائی تعاون کو نقصان پہنچا کر خود اپنے لئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بھی بن رہا ہے، یوں بھی سارک معاہدہ میں شامل ملک اس وقت تک کوئی پیش رفت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک اس تعاون میں شامل اہم ترین ممالک پاکستان اور بھارت تعاون کرنے اور اس تنظیم کو کامیاب بنانے کی کوشش نہیں کرتے۔ علاقائی ملکوں نے اکثر محسوس کیا ہے کہ سارک کا پلیٹ فارم دراصل پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک دوسرے پر الزام عائد کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ دوسرے ملکوں کو اس مقابلہ بازی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، البتہ بھارت نے افغانستان اور بنگلہ دیش کو مالی اور علاقائی سہولتیں فراہم کرنے کا لالچ دے کر انہیں پاکستان کے خلاف اپنا ترجمان بننے پر آمادہ کیا ہواہے۔ اب اس کا مظاہرہ امرتسر کی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں بھی دیکھنے میں بھی آیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے تو پاکستان پر براہ راست حملہ نہیں کیا بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ مودی نے یہ حملہ افغان صدر سے کروایا ہے کیونکہ پاکستان کی طرف سے مذاکرات کی مسلسل پیشکش کے بعد وہ ایک ایسے پلیٹ فارم پر صرف پاکستان کو نشانہ بنا کر خود ہی اپنے عزائم کو آشکار کرنے کا سبب بنتے اور 40 ملکوں سے آئے ہوئے وزرائے خارجہ اور اہم سرکاری نمائندے بھارت کی ہٹ دھرمی اور غیر معقول رویہ کی گواہی دیتے لیکن ’’ہارٹ آف ایشیا‘‘ کانفرنس میں پاکستان کو نشانہ بنانے کیلئے نریندر مودی نے بڑی چالاکی سے افغانستان کے صدر اشرف غنی کو استعمال کیا، افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اشرف غنی نے پاکستان پر تابڑتوڑ حملے کئے اور دعویٰ کیا کہ اگر پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دینے کا سلسلہ بند کردے تو افغانستان میں فوری طور پر امن بحال ہو سکتا ہے۔ان کی تقریر کا ایک مضحکہ خیز پہلو یہ تھا کہ وہ یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ افغانستان میں 300 کے لگ بھگ دہشت گرد گروہ متحرک ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کسی ایک انتہا پسند لیڈر کے اس بیان کو حوالہ کے طور پر پیش کرنا بھی ضروری سمجھا کہ اگر پاکستان انہیں پناہ نہ دے تو وہ ایک مہینہ بھی زندہ نہیں رہ سکتے۔ افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کے خلاف لڑنے والے گروہ 15 برس سے متحرک ہیں۔ ملک کے نصف رقبہ پر ان کا قبضہ ہے اور وہ ایک تہائی آبادی کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ان عناصر کے خلاف امریکہ کی سرکردگی میں عالمی فوج نے پندرہ برس جنگ کی ہے اور بالآخر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مذاکرات کے سوا افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ بھارت کی زبان بولتے ہوئے صدر اشرف غنی جب اس پیچیدہ اور مشکل صورتحال کا سارا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہیں تو پوری دنیا جان سکتی ہے کہ یہ پورا سچ نہیں ہے۔ اشرف غنی جو وضاحت پاکستان سے طلب کرتے ہیں، اس کا جواب وہ اسی وقت حاصل کر سکتے ہیں جب وہ یہ بتانے کے قابل ہوں گے کہ افغانستان میں پاکستان تحریک طالبان کی سرپرستی کون کر رہا ہے اور پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں شریک عناصر افغانستان سے ہی یہاں کیوں آتے ہیں۔افغانستان عالمی فوجی امداد کے علاوہ گزشتہ ایک دہائی میں ایک سو ارب ڈالر سے زائد بیرونی امداد ملنے کے باوجود مسلسل کاسہ گدائی پھیلائے بنیادی حکومتی اخراجات کے لئے دنیا کے ملکوں سے امداد کی اپیل کرتا رہتا ہے۔ اس لئے اس کے صدر جب پاکستان کی طرف سے افغان ترقیاتی منصوبوں کیلئے دی جانے والی 500 ملین ڈالر امداد کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اسے آپ خود ہی انتہا پسندی کی روک تھام پر خرچ کرلیں تو ان کی باتوں کا کھوکھلا پن اور مصنوعی رویہ عیاں ہو جاتا ہے۔ اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ وہ بھارتی وزیراعظم کا ایجنٹ بن کر ’’ہارٹ آف ایشیا‘‘ کانفرنس جیسے ادارے کو نقصان پہنچا رہے تھے جو افغانستان کی معاشی و سلامتی کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے 5 برس قبل قائم کیا گیا تھا۔ اس میں پاکستان سمیت اس ریجن کے 14 ممالک شامل ہیں جبکہ 16 ترقی یافتہ ملک ان مقاصد کی حمایت کرتے ہوئے ان کانفرنسوں میں شامل ہوتے ہیں تاکہ افغانستان کی بہبود کیلئے وسائل جمع کئے جا سکیں۔ ایسے پلیٹ فارم پر اشرف غنی اپنے عناد کے اظہار کیلئے پاکستان کی طرف سے فراہم کی جانے والی کثیر امداد سے انکار کر رہے ہیں۔ حالانکہ پاکستان خود ایک غریب ملک ہے اور 500 ملین ڈالر کی فراہمی پاکستانی حکومت اور عوام کا ایک عظیم ایثار ہے۔صدر اشرف غنی کو باور کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کے ملک میں بدامنی اور بدحالی کی صورتحال کی ساری ذمہ داری پاکستان پر عائد نہیں ہوتی اور ان کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ بھارت افغانستان کی غیر مشروط مدد کرتا ہے۔ بھارت افغانستان کو جو مالی مدد فراہم کرتا ہے اس کے بدلے وہ افغان سرزمین کر پاکستان کے خلاف محاذ آرائی کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ اشرف غنی اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرکے دراصل اپنے ذاتی سیاسی مفاد کی تکمیل اور اقتدار کے تحفظ کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں۔ وہ افغانستان کے وسیع تر مفاد اور افغان عوام کی بہبود پر غور کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ ورنہ وہ پاکستان کے دشمن اور کشمیری عوام کے حق خود اختیاری سے انکار کرنے والے ملک کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھاتے ہوئے یہ مضحکہ خیز دعویٰ نہ کرتے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ اقدار اور نظریات کی بنیاد پر تعلقات استوار ہیں۔ بھارتی اور افغان معاشروں کی ہئیت ، مزاج ، سوچ ، طریقہ کار اور رہن سہن میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ان کے درمیان صرف ایک ہی مشترکہ قدر ہے کہ کابل میں حکمران صدر اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کیلئے بھارت کو پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم کا حصہ بن کر دراصل افغانستان میں قیام امن کیلئے مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔افغان حکومت نہ ملک میں منشیات کی پیداوار روکنے میں کامیاب ہے اور نہ کرپشن پر قابو پانے کیلئے اقدام کر سکی ہے۔ افغانستان میں انٹرنیشنل فورسز کے کمانڈر جنرل جان نکولسن نے گزشتہ روز بتایا ہے کہ افغان فوج کا سب سے بڑا مسئلہ قیادت کا فقدان اور کرپشن ہے۔ بدعنوانی کی وجہ سے چوکیوں پر متعین افغان فوجیوں کو مناسب راشن اور اسلحہ فراہم نہیں ہو سکتا۔ اشرف غنی اگر ان مسائل پر ہی قابو پا سکیں تو وہ افغانستان کو درپیش آدھے مسائل کو ختم کر سکیں گے۔ افغان فوج بھی اس قابل ہو سکے گی کہ وہ طالبان اور دیگر گروہوں کے خلاف کارروائی کرسکے۔ اس وقت تو افغان فورسز خود ہی طالبان کی قوت میں اضافہ کا سبب بن رہی ہیں ہے ،۔ اب رہی با ت بھارت کی تو بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کیلئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے علاوہ آئندہ دو ماہ میں پانچ ریاستوں میں منعقد ہونے والے انتخابات اہم ترین مسئلہ ہے۔ 8 نومبر کو ملک میں 500 اور 1000 روپے کے کرنسی نوٹ منسوخ کرکے حکومت نے جس عوامی ناراضگی اور بحران کو دعوت دی ہے، اس کی وجہ سے نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی BJP پاکستان کے خلاف محاذ گرم رکھ کر ہی لوگوں کو بے وقوف بنانے کی امید کر رہے ہیں۔ مبصرین کو امید ہے کہ جنوری اور فروری میں پنجاب ، اتر پردیش ، اتر کھنڈ ، مانی پور اور گوا میں ریاستی انتخابات کے بعد ہی نئی دہلی حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کیلئے پیشرفت کرے گی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی نے ’’ہارٹ آف ایشیا‘‘ کانفرنس میں خود پاکستان کا نام لے کر حملہ کرنے سے گریز کیا ہے اور اشرف غنی کے ذریعے پاکستان کو بدنام اور کانفرنس کو ناکام بنانے کی پوری کوشش کی ہے۔ پرامن اور خوشحال افغانستان، بھارت کے مفاد میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ تو وہاں پر بحران اور بدامنی کے حالات میں ہی کابل حکومت کو اپنی مٹھی میں کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف محاذ آرائی کرسکتا ہے۔ اس کے برعکس پرامن افغانستان پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ اسی ساری صورت میں افغانستان کو سوچنا چاہیئے کہ پاکستان سے 30 لاکھ سے زائد افغان باشندے واپس جا سکتے ہیں، سی پیک منصوبہ کامیابی کے مراحل طے کر سکتا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nawaz Bashir

Read More Articles by Muhammad Nawaz Bashir: 9 Articles with 3597 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Dec, 2016 Views: 342

Comments

آپ کی رائے