مچھلی منڈی

(Anwar Graywal, Bahawalpur)
مچھلی کو ہی نہ جانے کیوں ہنگامے کی علامت قرار دیا جاتا ہے؟ گزشتہ روزقومی اسمبلی میں ہنگامہ ہوا، کہا گیا کہ ’’ایوانِ زیریں مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا‘‘۔ ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، سپیکر کا گھیراؤ کرلیا، شور شرابہ برپا ہوگیا، یہ بھی کہا گیا کہ آئین کی کاپی بھی پھاڑی گئی ۔ طعنے دیئے گئے، الزامات کی بوچھاڑ کی گئی۔یہ الگ کہانی ہے کہ اپنے معزز ارکان اسمبلی کی اکثریت اول تو ایوان میں جاتی نہیں، جاتی ہے تو معاملات میں دلچسپی نہیں لیتی۔ وزراء الگ سے مصروف رہتے ہیں، کوئی ارکان کے سوالوں کا جواب دینے والا نہیں ہوتا۔ اگر جواب ملتے بھی ہیں تو نامکمل یا غلط۔ جو کہ بذات خود حکومت کے لئے پریشانی اور پشیمانی کا موجب بن جاتے ہیں۔ یہ بھی اور مسئلہ ہے کہ اپنے بہت سے معزز ارکان نے ریکارڈ قائم کر رکھا ہے کہ وہ اسمبلی میں کبھی نہیں بولے، یا بہت کم بولے۔ ممکن ہے کہ ہنگامہ آرائی میں اپنا کردار ادا کر کے یہ لوگ اپنے نہ بولنے والی کمی کو یوں پورا کرتے ہوں۔ یہ بھی الگ کہانی ہے کہ اسمبلی میں آئیں یا نہ آئیں، مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ وغیرہ کے حصول میں یہ کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔ اور یہ بھی الگ ہی داستاں ہے کہ اسمبلی کا کورم بھی کبھی کبھار ہی پورا ہوتا ہے۔معزز ارکان کی مشغولیات اور سرگرمیوں میں سب سے اہم وہی دن ہوتا ہے جب اسمبلی میں کوئی نمایاں اور بڑے پیمانے پر ہنگامہ ہوتا ہے۔ اسی روز ہی خبر بنتی ہے۔

قوم کے یہ نمائندے جب ہنگامہ کرتے ہیں تو یوں جانئے کہ عوامی نمائندگی کا صحیح حق ادا کر رہے ہوتے ہیں، کیونکہ درحقیقت اپنے عوام بھی ایسے ہی لوگوں کو پسند کرتے اور اپنا لیڈر مانتے ہیں، جو مولا جٹ کی عملی تصویر ہو، جو ہاتھ میں گنڈاسہ تو بے شک نہ رکھتا ہو، مگر دوسروں کو للکارنے کی صلاحیت کا حامل ہو، بڑھکیں مارنے کے ہنر سے آشنا ہو، دھمکیاں دینے کے فن کو جانتا ہو، الزامات لگانے کا سلیقہ جانتا ہو، کیچڑ اچھالنے میں مہارت رکھتا ہو، کسی حد تک اپنے چمچوں وغیرہ کے ذریعے مخالفین کی ’خدمت‘ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ مخالفین کو للکارنے میں جو الفاظ استعمال کرے وہ مغلظات تو چاہے نہ ہوں، مگر ان کے قریب تر ضرورہوں۔ ایسے لوگ جب خود کو عوامی نمائندگی کے لئے پیش کرتے ہیں تو قوم بہت اشتیاق اور جوش وجذبے کے ساتھ ان کے دست وبازو بنتی ہے، ان کو سرآنکھوں پر بٹھاتی ہے، ان کی راہوں میں پلکیں بچھاتی ہے، انہیں کاندھوں پر اٹھاتی ہے۔ یہ بھی الگ بات ہے کہ منتخب ہونے کے بعد بہت سے نمائندے ’’وی آئی پی ‘‘ بن جاتے ہیں، قوم کے کام کے نہیں رہتے، یا ان کے ہاتھ سے جاتے رہتے ہیں۔ خیر عوام اس عمل کا بھی برا نہیں مناتے، اگر ان کا محبوب نمائندہ کئی ماہ کے بعد بھی اسمبلی کے اندر ہنگامہ وغیرہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے حلقے کے عوام کی کئی ماہ کے لئے تسلی ہو جاتی ہے، وہ کئی ماہ وہاں زیر بحث رہتا ہے۔

بات شرو ع ہوئی تھی مچھلی منڈی سے، اسمبلی کے ہنگامے کو مچھلی منڈی سے نہ جانے کیوں تشبیہ دی جاتی ہے، اگر معاملہ صرف شور کا ہی ہو تو یہ اور بھی بہت سے مقامات پر ہوتا ہے، مچھلی منڈی سے زیادہ شاید سبزی منڈی میں ہوتا ہو، کیونکہ وہاں انواع واقسام کی سبزیاں وغیرہ ہوتی ہیں، دکاندار اُن کے نام لے لے کر پکارتے اور گاہک کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، دور کیوں جائیے، اگر گلی میں ہی کوئی سبزی والا آجائے تو وہ اکیلا ہی گلی کی رونق بن جاتا ہے۔ مچھلی منڈی تو ہر شہر میں ہوتی بھی نہیں، بس سردیوں کے موسم میں عام شہروں میں دو چار جگہوں پر مچھلی کے سٹال لگا کر لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں، البتہ سائیکل پر ٹوکری رکھ کر گلیوں میں بھی یہ فروخت ہوتی ہے، مگر وہاں ایک آدمی بیچارہ کیا ہنگامہ کرے گا۔ مچھلی ویسے بھی پانی کا جانور ہے، خشکی پر جانے کے بعد تو وہ زندگی کے بعد کی عمر گزار رہی ہوتی ہے۔ یوں سارے شور کا الزام فروخت کرنے والے پر ہی آتا ہے۔اپنی اسمبلیوں میں اب ہنگامہ آرائی مسلسل ہو گئی ہے، اول تو اجلاس میں کورم پورا نہیں ہوتا، اگر یہ حادثہ پیش آبھی جائے تو پھر اجلاس میں سکون نہیں ہوتا، کیونکہ دوسرے کو برداشت کرنا کسی نے بھی نہیں سیکھا۔تاہم ایک تبدیلی محاورے میں آرہی ہے، جہاں کہیں زیادہ شور یا ہنگامہ برپا ہو تاہے تویار لوگ کہتے ہیں کہ ’’کیوں ماحول کو اسمبلی ہال بنا رکھا ہے؟‘‘
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 599 Articles with 259828 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Dec, 2016 Views: 380

Comments

آپ کی رائے