کھسیانی بلی کھمبا نوچے

(Nida Yousuf Shaikh, )
 کنٹرول لائین پر کشیدگی اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھارت کا متعصبانہ رویہ بھارت کی کمزوری کی طرف اشارہ کرتے ہیں جب بھارت کو کچھ نہیں سوجھی تو اپنی فطری مکارانہ سازش کے تحت برسوں پُرانا سندھ طاس کا معاہدہ منسوخ کرنے کا ارادہ اُنکی فطری بُزدلی ظاہر کرتا ہے ابھی بھارت کی یہ حالیہ سازش پر یہ مہاورہ بالکل صادق آتا ہے کہ ـ․․․․ کھسیانی بلی کھمبا نوچے۔

بھارت کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ پاکستان کو پتھر کے ذمانے میں دھکیلہ جائے ۔سندہ طاس کے معاہدے کی منسوخی اسکا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے․․․․؟ اثبات کو جاننے کے لئے ہم ماضی کے طے پائے اس معاہدے کی طرف نظر ڈالتے ہیں ،آ خر یہ سندھ طاس معاہدہ ہے کیا ․․․؟ کیا بھارت اس معاہدے کو یک طرفہ ختم کرنے کا اختیار رکھتا ہے یا نہیں ․․․ ستمبر ۱۹۶۰ میں دریائے سندھ اور دیگر دریاوٗں کا پانی منصفانہ طور پر تقسیم کے لئے سندھ طاس کا معاہدہ طے پایا تھا ۔اس معاہدے کے تحت بھارت کو پنجاب میں بہنے والے تین مشرقی دریاوٗں بیاس ،راوی اور ستلج کا ذیادہ پانی ملے گا یعنی اُسکا ان دریاوٗں پر کنٹرول ذیادہ ہوگا ،جبکہ جموں کشمیر سے نکلنے والے مغربی دریاوُں چناب،جہلم اور سندھ کا پاکستان کو استعمال کرنے کی اجازت ہوگی اگرچہ یہ معاہدہ برقرار ہے لیکن دونوں ملکوں کے اس پر تحفظات رہے ہیں اور بعض اوقات اس معاہدے کو جاری رکھنے کے حوالے سے خدشات بھی سامنے آتے رہے ہیں تاہم حالیہ پاکستان بھارت کشیدگی کے باعث ایک دفع پھر بھارت پاکستان کو اس معاہدے کے منسوخ کرنے کی باتیں کر رہا ہے ۔۱۹۶۵۔۷۱ کی جنگوں کے دوران بھی معاہدہ قائم رہا۔

معاہدے کی منسوخی کے نتیجے میں بھارت کے بیشتر علاقے بھی ڈوب جائینگے جبکہ عالمی سطح پر بھی بھرپور مذمت کا سامنا ہوگا بھارت کی دیرینہ خواہش کے باوجود سندھ طاس کے معاہدے کو جنگی طور پر ہتھیار کی طرح استعمال کرتے ہوئے منسوخ کرنا ممکن نہیں ہے بھارتی اخبار کے مطابق ۲۰۱۰ میں جب بھارت نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشن گنگا ہائیڈرو پروجیکٹ کے ۳۳۰ میگاواٹ منصوبے پر کام کا آغاز کیا تھا تو پاکستان نے بین الاقوامی ثالثی سے بھارت کو اپنی بھرپور سفارت کاری سے اس منصوبے پر کام کرنے سے روک دیا تھا ۔

بھارت کے علاوہ سندھ طاس معاہدے کی منسوخی کے نتیجے میں بھارت کے دیگر ہمسایہ ممالک خصوصاََ بنگلہ دیش بھی تشویش میں مبتلا ہوگا ،بھارت پانی کی اس تقسیم کے معاہدے میں بندھا ہوا ہے،لیکن اگر بھارت چاہے بھی تو برسوں پُرانے اس معاہدے سے دست بردار ہونے کی کوئی صورت نہیں نکلتی بین اقوامی قانون کے ماہرکے مطابق․․․․
ٌسندھ طاس معاہدہ ایک تفصیلی معاہدہ ہے اسمیں ایسی کوئی شک نہیں کہ کوئی بھی ریاست یکطرفہ طور پر کوئی بھی فیصلہ لے ماضی میں بھی ایسی کوئی مثال نہیں موجود کہ کسی ملک نے کبھی بین الاقوامی معاہدے پر نظر ثانی کی ہو جسکے تحت لاگو ذمہ داریاں ادا کرنے سے انکار کیا ہو انہوں نے مزید کہا کہ ایسے معاہدے حکومتوں کے بجائے ریاستوں کے مابین پائے جاتے ہیں اور ریاستیں ہی اس پر عملدرآمد کرنے کی پابند ہوتی ہیں اور ان سے آسانی سے باہر نہیں نکلا جا سکتا ۔

دوسری طرف سندھ طاس کمیشن کے ذرائعے کا کہنا ہے کہ ․․․․
بھارت کو آبی جارحیت بہت مہنگی پڑیگی پانی کا معاملہ انتہائی حساس ہے بھارت کو کئی بار سوچنا ہوگا وہ یہ معاہدہ نہیں ختم کر سکتا چونکہ یہ معاہدہ دو ریاستوں کے مابین طے پایا تھا ورلڈ بینک اسکا ضامن تھا ،اگر ایک فریق معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو دوسرا اُسکے خلاف کسی بھی فورم پر آواز اُٹھا سکتا ہے اس معاہدے کے تحت پاکستان ۱۴۴ ملین ایکڑ فُٹ پانی حاصل کر سکتا ہے ،پاکستان یہ پانی سندھ ،جہلم اور دریائے چناب کے ذریعے حاصل کرتا ہے اور ہم کسی کو بھی اپنا حق مارنے کی اجازت نہیں دینگے۔

بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کی کوششوں بھارت سے تنازعات پُرامن طور پر حل کرنے کی وزیراعظم نوازشریف کی کوششوں کو ایک اور دھچکہ لگا ہے ،مودی سرکار نے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش تیز کر دی ہے ۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بھارت سندھ طاس معاہدے سے زیادہ پانی روکے تو یہ پاکستان کے لئے زیادہ پریشان کن ہوگا۔،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر میں کُھلے الفاظ میں اعلان کر دیا ہے کہ ․․․․․․ جسمیں بھارت کے حق کا پانی ہے جو پاکستان مین بہہ جاتا ہے اب وہ بوند بوند پانی روک کر کے پنجاب جموں کشمیر کے ہندوستان کے گاوٗں کے کسانوں کیلئے وہ پانی لانے کی کوشش کر رہا ہوں۔

سابق انڈس واٹر کمشنر سید جماعت علی شاہ کا کہنا ہے کہ ․․․․ مودی صاحب کے ہوش آہستہ آہستہ ٹھکانے آنا شروع ہو گئے ہیں پہلے تو انہوں نے کہا تھا کہ ہم معاہدے کو مانتے ہی نہیں اور اب انہوں نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ جو ہمارا حق ہے وہ استعمال کرینگے تو اسمیں تو کوئی دو رائے نہیں ہیں سندھ ،جہلم ،چناب پر جو انکو allouncesدیئے گئے ہیں وہ restrictiveہیں اس پر conditionsہیں اگر وہ conditionsپوری کرینگے تو وہ استعمال کر سکتے ہیں جیسےrun of river hydroelectric plant بنا سکتے ہیں لیکن اُسکا جوڈیزائن ہے اسکے جو بھی featuresہیں وہ معاہدے کے تحت ہونے چاہئیں ہر چیز کا data provide کریئنگے اپنا حق لیں لیکن اپنی responsibilityادا کرنی چاہئیں ، جگہ جگہ ہمارا راستہ روک دیا ہے اور پھر راگ الاپ رہے ہیں کہ ہم باہمی تعاون سے اسکو حل کرنا چاہتے ہیں تو پہلے ایک بار تسلی کر لیں کہ معاہدے کو چلانا بھی ہے کہ نہیں اگر چلانا ہے تو اسکو باہمیdocumentationپر چلائیں تین ماہ سے معاہدے کو بند کیا ہوا ہے نہ فون نہ ہی کسی letterکا جواب اگر پاکستان آواز اُٹھائے تو کورٹ میں بھی راستہ بلاک کر دیا ہےworld bank میں appointکرنا چاہا تو وہاں بھی انہوں نے اپنا رسوخ استعمال کیا
وہ کیس انہوں نے کہا کہ باہمی تعاون سے حل کریں اور ایک ایلچی مقرر کر دیا اُنکا یہ دباؤ پاکستان کیلئے نقصان
ہے۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں دریائے جہلم اور دیگر ندی نالوں کا پانی روکنا شروع کر دیا ہے جس سے دریا میں پانی کی سطح تقریباــــــپچاس سے ساٹھ فٹ کم ہو گئی ہے ،جسکی وجہ سے جہلم نے نالے کی شکل اختیار کر لی ہے جبکہ آبی مخلوق کو بھی خطرات لاحق ہیں جہلم کے پانی سے سیراب ہونے والی فصلوں کی تباہی کے خطرات بھی بہت زیادہ ہیں دریا کے کنارے رہنے والے باشندے بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں ،اگر بارش نہ ہوئی تو مقبوضہ وادی میں جہلم کا بہاؤ مکمل طور پر ختم ہونے کا خطرہ ہے بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیر سے آنے والے چھوٹے ندی نالوں کا پانی بھی روکنا شروع کر رکھا ہے جس سے آزاد کشمیر میں پاور پروجیکٹس سے بجلی کی پیداوار میں پچاس فیصد کمی ہو گئی ہے اس صورت حال میں مقامی آبادی کو چوبیس گھنٹے کے بجائے صرف چار سے پانچ گھنٹے بجلی کی سپلائی جاری ہے ۔

وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اوربھارت کے درمیان اتفاق رائے سے طے پایا تھا اور کوئی ایک ملک یکطرفہ طور پر اپنے آپکو اس معاہدے سے علیحدہ نہیں کر سکتا ، معاہدے کے مطابق بھارت اپنے تینوں آبی ذرائعے پن بجلی گھر بنا کر بھی صرف بیس فیصد پانی لے سکتا ہے مگر پاکستان کو یہ خدشہ ہے کہ بھارت خود اپنی طرف سے پیدا کردہ سیاسی صورتحال کہ وسیع جنگجوانہ پھیلاؤ میں آبی جارحیت پر کمر بستہ ہے جسکا جواب اُسکو پاکستان کی طرف سے فوری مل سکتا ہے۔

ــِ سندھ طاس معاہدہ ایک تفصیلی معاہدہ ہے اسمیں ایسی کوئی شک نہیں کہ کوئی بھی ریاست یکطرفہ طور پر کوئی بھی فیصلہ لے ماضی میں بھی ایسی کوئی مثال نہیں موجود کہ کسی ملک نے کبھی بین الاقوامی معاہدے پر نظر ثانی کی ہو جسکے تحت لاگو ذمہ داریاں ادا کرنے سے انکار کیا-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nida Yousuf Shaikh

Read More Articles by Nida Yousuf Shaikh: 19 Articles with 7781 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Dec, 2016 Views: 440

Comments

آپ کی رائے