باورچی خانہ سے صحت اور خوبصورتی کے راز

(Maryam Arif, Karachi)
تحریر: شمائلہ زاہد
یوں تو ہر گھر میں طرح طرح کے کھانے بنائے اور کھائے جاتے ہیں کھانوں میں استعمال ہونے والے اجزا انسان کی صحت اور خوبصورتی کے لیے انتہائی مفید ہیں جن کا ذکر میں آج کر رہی ھوں وہ اجزا ہر گھر میں پائے جاتے ہیں ۔

ہرا دھنیا تقریبا ہر کھانے میں استعمال ہونے اسی چیز ہے جس کے بے شمار فوائد ہیں طبعی اور غزائی ماہرین کے مطابق ہرے دھنیے کے استعمال سے بلڈ پریشر اور ہڈیوں کے مرض کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔اس کے استعمال سے چہرے کے داغ دھبوں اور کیل مہاسوں سے بھی نجات مل جاتی ہے۔

پودینہ جگر گردہ اور معدہ کو طاقت دیتا ہے یہ پیٹ کے درد میں مفید ہونے کے ساتھ ساتھ پیشاب آور ہے انار دانہ کے ساتھ اس کی چٹنی مزے دارتو ہوتی ہے ساتھ ہی کھانے کو ہضم بھی کرتی ہے ۔

پیاز کو گرم کہا جاتا ہے۔ پیاز کے فوائد میں سب سے بڑا فائدہ ہے یہ کہ اگر اسے کوٹ کو پھوڑے پھنسی پر لگایا جائے تو زخمی کو صاف اور جلد ٹھیک کرتی ہے۔ یہ متلی قے میں فائدے مند ہے۔

ٹماٹر بھوک لگاتا ہے کھانے کو ہضم کرتا ہے جسم کو قوت دیتا ہے چہرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے قبض کشا ہے البتہ اسکا چھلکا اتار کر کھانا چاہے۔ زیرہ سیاہ بلغم خارج کرتا ہے۔ کھانے کو ہضم کرتا ہے سفید زیرہ طاقت بخش ہے ۔

چاول ہر قسم کے چاول زود ہضم ہوتے ہیں ابلے ہوئے چاولوں کا پانی پیچش اور دست میں مفید ہے۔ یہ گرمی کو مٹاتے ہیں دوسرے تمام اناج کی نسبت چاول کم طاقت کا حامل ہے۔جو اس کو دودھ کے ساتھ کھیر کی طرح پکا کے کھانے سے جسم موٹا ہوتا ہے۔ پیاس میں مفید ہے۔ کھانسی اور دمہ کے لیے فائدے مند ہے ۔جو کا ستو گرمی میں جسم کو ٹھنڈک دیتے ہیں جو کی روٹی جسم کو پتلا کرتی ہے۔

ادرک سے بھوک تیز اور قبض ختم ہوتی ہے۔ اس سے بادی بھی دور ہوتی ہے۔ گوبھی، دال ماش وغیرہ میں لازمی استعمال کرنا چاہیے۔ ادرک کی چائے کھانسی میں مفید ہے۔

چھوٹی الائچی خوشبو دار ہوتی ہے۔ دماغ دل اور معدہ کو طاقت دیتی ہے طبیعت کو صاف کرتی ہے پھپھڑوں کے لیے مفید ہے ہجکی کو روکتی ہے حقہ کی چلم پر رکھ کر اس کا دھواں لینے سے ہجکی ٹھیک حو جاتی ہے۔

املی خون کو کمزور کرتی ہے گلے کو خراب کرتی ہے گرمی کے بخار میں اسکا پانی مفید ہے یرقان میں مفید ہے سرد اور خشک ہوتی ہے ۔دودھ جسمانی طاقت بڑھاتا ہے خون پیدا کرتا ہے دودھ کو مکمل غذا کہا جاتا ہے دانتوں اور ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 519735 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Dec, 2016 Views: 654

Comments

آپ کی رائے