پاکستان کو داخلی خطرات میں سے ایک خطرہ!!

(Shafqat Ullah, )
سعادت حسن منٹو نے کہا تھا کہ میرے شہر کے شرفا ء کو میرے شہر کی طوائفوں سے بہتر کوئی نہیں جانتا ۔امریکہ کا مشہور و معروف کاروباری اور سیاسی خاندان کلنٹن جس سے ہیلری کلنٹن بھی تعلق رکھتی ہے 1980 کی دہائی میں اندرون اور بیرون امریکہ نشہ آور چیزوں کی سمگلنگ میں ملوث رہا ہے ۔بل کلنٹن جب آرکنساس جہاں مینا ائیر پورٹ بھی واقع ہے کے گورنر تھے ان دنوں میں امریکی سی آئی اے بھی ڈرگ سمگلنگ میں ان کا ہاتھ بٹاتی تھی اور قریب 75 فیصد سے زائد نشہ آور اشیاء مینا ائیر پورٹ کے راستے بآسانی گزر جا تاتھا اس وقت کے ایک پائلٹ بیری سیل جو اس سمگلنگ کا بہت بڑا مہرا تھا جب پکڑا گیا تو اس نے نہ صرف سی آئی اے بلکہ کلنٹن فیملی کا بھی تمام کچہ چٹھہ کھول دیا اور اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ صرف تین سالوں میں اس نے سی آئی اے کی مدد سے بلین ڈالرز کی ڈرگز سمگل کی ہیں ۔اس جہاز کی ائیر ہوسٹس جو بیری سیل کے تمام تر آرام و سکون کا خیال رکھتی تھی کا بھی اس سمگلنگ میں بہت اہم کردار تھا لیکن جب بیری سیل وعدہ معاف گواہ بن کر تمام ثبوت حکومت کو دینے کے وعدے پر رہا ہو گیا تو کچھ ہی دنوں میں وہ اپنی کار میں مرا ہوا پایا گیا موت کا سبب سر میں گولی کا لگنا تھا جس کے بعد تمام ثبوت مٹا دئیے گئے اور کیس رفع دفع کر دیا گیا ۔یہ ڈرگ سمگلنگ ایران ،افغانستان اور پاکستان سمیت ایشیا ء کے دیگر ملکوں میں بڑے پیمانے پر کی گئی ۔اسطرح کے درجنوں کیسوں میں امریکی سی آئی ملوث رہی ہے ۔1940 میں کوسا نوسٹرا ،بلیک ڈریگن ٹیرورس ٹرائڈ اور ژازوکہ جیسی کمپنیوں کی صورت میں ڈرگ سمگلنگ میں ملوث رہی اس بڑھتے ہوئے کاروبار نے صرف ایک دہائی 1950 تک بہت بڑے پیمانے پر پوست اور افیون کی کاشت خود ہی شروع کر دی اور گولڈن ٹرائی اینگل روٹ جو کہ حقیقت میں امریکہ ،ایشیاء اور ان دونوں براعظموں کے درمیانی سمندری حصہ تھا کے ذریعے سی آئی اے نے دو کمپنیوں سی اے ٹی اور سی سپلائی کی مدد سے افیون کی سمگلنگ شروع کی جب پھر سے ان کمپنیوں کے نام پر انگلیاں اٹھنے لگیں تو گولڈن ٹرائی اینگل روٹ کو اچھی طرح سمجھنے والے خون سا اور وینگ پاؤ کی مدد سے کام جاری رہا 1960اور 1970کی دہائی میں اس کاروبار کو اور زیادہ وسیع کیا گیا اور ویتنام میں کائن وان تھیو کے ذریعے افیون کا کاروبار شروع کیا گیا اسی طرح کاروبار کے پیمانے کو وسیع کرتے ہوئے یہ لوگ 1980میں افغانستان تک جا پہنچے کیوں کہ ان کا مقصد اپنے کاروبار کو پوری دنیا میں پھیلانا تھا اس طرح سے اس کالے دھن کو بچانے کیلئے مختلف ممالک میں آف شور کمپنیاں اور بینک بھی بنائے گئے جہاں ان کا پیسہ بلیک سے وائٹ میں بدل جاتا ہر دور میں امریکی سی آئی اے اپنی اس ہٹ دھرمی میں رنگے ہاتھوں پکڑی گئی لیکن کبھی عالمی سطح پر ان کے خلاف کوئی آوا ز نہیں اٹھائی گئی اور ثبوتوں کو مٹا دیا جاتا رہا ۔ان کے علاوہ امریکی سی آئی اے کے ہزاروں ایسے سکینڈل ہیں جن پر کئی کتب بھی شائع ہو چکی ہیں لیکن افسوس کہ شاید عالمی برادری خود اس کاروبار کو وسیع کرنے میں ملوث ہے اگر دیکھا جائے تو افیون اور نشہ آور اشیاء کی سمگلنگ کا یہ کاروبار 1700سے ہی شروع ہے جو کہ ایسٹ انڈیا کمپنی حقیقت میں کرتی تھی یہی ایک وجہ تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے پاس اتنی دولت تھی کہ اس نے دیکھتے دیکھتے برصغیر پا ک و ہند پر قبضہ کر لیا پہلے انہوں نے پوری دنیا میں نوجوان نسل کو نشے کا عادی بنایا اور پھر قوم کی جڑوں کو کھوکھلا کر خود سلطنت قائم کر لی یہاں یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ چونکہ انگریز فطری طور پر بزدل واقع ہوا ہے اسی لئے اس نے دنیا پر حکومت کرنے کا یہ ایک آسان راستہ اختیار کیا کہ نوجوان نسلوں کو نشے کا عادی بنا کر قوموں کو کمزور کردو اور ان پر حکومت کرتے رہو ۔2006-07 میں انڈیا میں قائم ایک بنک HSBC کے ضروری دستاویزات میڈٰیا چینلز منظر عام پر لاتے ہیں جس میں یہ ثبوت ملتے ہیں کہ دو سو ممالک سے زائد کے لوگوں کی سو بلین ڈالر سے زیادہ کی رقم اس میں پڑی ہے بعد ازاں تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ اس بنک میں 1195 انڈین سیاستدان ،اداکار اور کاروباری لوگ شئیر ہولڈرز ہیں لیکن کبھی بھی ان دو سو ممالک کے لوگوں کے نام جن کا کالا دھن اس بنک میں پڑا تھا سامنے نہیں لائے گئے اور معاملہ وہیں دبا دیا گیا ۔ماضی قریب میں بھارتی اداکارہ اور ماڈل اپنے شوہر کے ساتھ کینیا میں افیون جس کی مالیت اربوں ڈالر تھی سمگل کرتے رنگے ہاتھوں پکڑی جاتی ہیں اور اسی طرح پاکستان میں بھی ماضی قریب میں ماڈل ایان علی منی لانڈرنگ کرتے ہوئے پکڑی جاتی ہے اور اس سے بھی پہلے ایک دن لانچ میں اکیلی ماڈل ایان علی ہمراہ سیکیورٹی گارڈ اور باقی ساری لانچ میں صرف ڈالرز لے کر دوبئی جاتیں ہیں لیکن اس بار پکڑے جانے پر کافی شور شرابے کے بعد انہیں با عزت بری کر دیا جاتا ہے یعنی یوں کہا جا سکتا ہے کہ قوم کا پیسہ لوٹنے والے با عزت لوگ ہیں ۔حال ہی میں لبنانی ملکہ حسن کی کار سے بھاری مالیت کی ہیروئن کے ساتھ ساتھ بڑی مقدار میں نقدی بھی پکڑی گئی ہے جنہیں بعد ازاں معمولی جرمانے کے بعد چھوڑ دیا گیا ۔پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے ایفیڈرین کیس میں ملوث پائے جاتے ہیں جن پر مقدمات بھی درج ہوتے ہیں ایفیڈرین افیون سے نکالی جانے والی دوا ہے جو مختلف کھانسی کے شربتوں اور دیگر ادویات میں استعمال ہوتی ہے اسی دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ لاہور اور سندھ میں کھانسی کے شربتوں کی فروخت میں واضح اضافہ ہوتا ہے اور بہت بڑی تعداد میں اموات ہوتیں ہیں ایفیڈرین خام حالت بڑی مقدار میں دوسرے ممالک کو بیچ دی جاتی ہے جو کہ ایک بہت بڑا جرم اور ملک کو نقصان پہنچانے کے مترادف تھا جسکی وجہ سے صحت سے وابستہ بہت سی پروڈکٹس بند ہو گئیں لیکن یوسف رضا گیلانی کے بیٹے جس نے اپنے باپ کے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اتنا بڑا گناہ کیا کو کوئی سزا نہ ہوئی اور با عزت بری ہو گیا حال ہی میں ایک بین الاقوامی ادارہ برائے کنٹرول منشیات کی رپورٹ کے مطابق اس وقت صرف اسلام آباد کے کالجز ،یونیورسٹیز اور سکولوں کے ہر سو میں سے 34 لڑکے اورچار لڑکیاں منشیات کے عادی ہو رہے ہیں ۔اگر ہم دیکھیں تو جو لوگ ایسے گھناؤنے کاروبار کی سرپرستی کر رہے ہیں وہ ہمیں اپنے ایوانوں میں بیٹھے نظر آتے ہیں عوام کو چاہئے کہ وہ اپنے نمائندے دیکھ بھال کر منتخب کریں کہ کہیں ان کے دئیے ہوئے مینڈیٹ سے چور اچکے ،سمگلرز ،منشیات فروش اور قوم کا پیسہ کھانے والے معاشی دہشتگرد حکمران نہ بن جائیں ہمیں یہ بھی خیال رکھنا ہو گا کہ اقتصادی راہداری جہاں ملک کیلئے معاشی گیم چینجر ہے وہیں ملک میں اس ناسور کی جڑیں پھیلانے میں بھی معاون ثابت نہ ہو۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 209 Articles with 87838 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
11 Jan, 2017 Views: 254

Comments

آپ کی رائے