بیسویں صدی سے اکیسویں صدی تک کا سفر ۔ باب۔۔24۔ " مال گاڑی لندن تک"

(Arif Jameel, Lahore)
دسمبر2015میں " تاپی" گیس پائپ لائن کے نام سے ترکمانستان سے ایک اور منصوبے کا آغاز کیا گیا جس میں چار ممالک ترکمانستان،افغانستان،بھارت اور پاکستان۔۔۔۔چین کیلئے سب سے بڑھ کر قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ وہ سی پیک کی وجہ سے امریکہ اور بھارت کی محتاجی سے نکل ۔۔۔۔چین اور روس کے درمیان 28سال کے مذاکرات کے بعد دریا ئے امور پر دونوں ممالک کو ملانے والے پُل کی تعمیر کا کام بھی شروع کر دیا گیا۔۔۔۔برطانیہ اپنے اس خطے سے منسلک ماضی اور اسکے فوائد سے بے خبر نہیں ہے گو کہ آج وہ نہیں اس خطے میں چین ہے۔ ۔۔۔ایک نئے عجوبے کی منصوبہ بندی کے تحت چین سے براہِ راست لندن تک " مال گاڑی" چلانے پر کام شروع کرنے لگا ہے۔ ۔۔۔۔ روس " یوریشین اکنامک یونین "پر مشتمل ممالک اَرمینیا ،بیلاراس،کرغستان،قزاقستان اور روس کو سی پیک میں ضم

چین یورپ کے متعد شہروں تک ریل رابطے۔دریا ئے آمور پر پُل

 ایران گیس و تاپی پائپ لائن:
پاکستان نے اپنی گیس کی ضروریات پوری کرنے کیلئے "ایران سے گیس پائپ لائن" بچھانے کا معاہدہ کیا لیکن چند وجوہات کی بنا پر ابھی تک تعطل کا شکار ہے لیکن اس دوران دسمبر2015میں " تاپی" گیس پائپ لائن کے نام سے ترکمانستان سے ایک اور منصوبے کا آغاز کیا گیا جس میں چار ممالک ترکمانستان، افغانستان،بھارت اور پاکستان شامل ہیں۔ یہ پائپ لائن قندھار ہرات ہائی وے سے پاکستان پہنچے گی اور یہاں سے بھارتی شہر فاضلکا جائے گی۔2019ء تک اس منصوبے کو مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گئی ۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اس خطے میں امن کوششوں کو تقویت ملے گی۔ گو کہ جولائی 2016ء میں کشمیر ی حریت پسند22سالہ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے بھارت کے پاکستان سے تعلقات اچھے نہیں رہے۔

امریکہ بھارت گٹھ جوڑ اور چین :
دوسری طرف اوباما انتظامیہ کا گزشتہ چند سال سے جو بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ رہا ہے اُسکے تحت صدر اوباما اپنی صدارت کے آخری دِنوں میں بھی پاکستان کو لشکرِ طیبہ،جیشِ محمد اور حقانی نیٹ ورک کے مبینہ ٹھکانے ختم کرنے کیلئے انتہائی سخت پیغام دینے کی کوشش کی ۔ جسکا ایک مقصد سی پیک کے منصوبے کی وجہ سے چین کی خطے میں اہمیت ہے۔

چین کیلئے سب سے بڑھ کر قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ وہ سی پیک کی وجہ سے امریکہ اور بھارت کی محتاجی سے نکل آئے گا۔جو اس وقت چین جانے والے سمندری راستوں کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ لہذا چین کا پاکستان کے ساتھ دفاعی طاقت کا تعاون ماضی سے بھی زیادہ مستحکم ہو جائے گا۔شاید اس ہی لیئے ایک طرف یہ خبریں آئیں کہ بھارتی حکومت اختلافی معاملات کی بجائے " سی پیک"کے فوائد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مُثبت انداز میں چین پاکستان سے مذاکرات کرے۔ لیکن بھارت کی مودی حکومت نے سی پیک پر تنقیدی رویہ رکھا تو چین نے بھی بھارت کو بیان بازی میں آڑے ہاتھوں لیا اور صاف کہہ دیا کہ اسطرح چین کا کشمیر کے بارے میں موقف تبدیل نہیں ہو گا۔

سی پیک کی آواز افغانستان اور ایران کو بھی لگائی جارہی ہے کیونکہ جب سی پیک کا رابطہ سینٹرل ایشیا، افغانستان اور ایران سے ہو جائے گا تو پاک چین راہداری کے ساتھ ایران کی چار بہار بندگاہ بھی اس خطے کے اقتصادی حالات میں اہم منصوبے کا حصہ بن جائے گی۔

چین روس ایک نیا جوڑ لند ن تک :
لہذا چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری"میں پیش رفت کیا ہوئی دُنیا کے بیشتر ممالک کے خارجہ تعلقات کا رُخ ہی بدلنے کی صدائیں آنا شروع ہو گئیں۔ چین اور روس کے درمیان 28سال کے مذاکرات کے بعد دریا ئے امور پر دونوں ممالک کو ملانے والے پُل کی تعمیر کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ دریا ئے آمور پر دونوں ممالک کے درمیان تعمیر ہونے والا یہ پہلا پُل ہے۔یہ پُل 1283میٹر طویل ہو گااور یہ چین کے ہائی ہی شہر کو روسی شہر بلا گودش چینک سے ملائے گا۔رابطے کے حوالے سے یہ بڑا اہم پُل ہوگا جو چین منگولیا روس اقتصادی راہداری کا حصہ ہو گا۔تیل کیلئے چین گوادر سے فوائد اُٹھائے گا اور جبکہ اپنے مشرقی حصے کیلئے اس کا زیادہ تر انحصار روس پر ہوگا۔

برطانیہ کی یورپی یونین سے علحیدگی کو امریکہ کے نئے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مُثبت فیصلہ قرار دے دیا۔ لیکن برطانیہ کیلئے مستقبل میں معاشی سرگرمیوں کے فوائد اپنی عوام کو منتقل کرنے کیلئے دُنیا کی تجارتی سرگرمیوں پر نظر رکھنا پڑے گی اور "سی پیک" اس وقت اس سلسلے کی سب سے اہم کڑی ہے۔ لہذا چین روس کی رفاقت اور ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اُن دونوں بڑے ممالک کے ساتھ رابطے کا عندیہ دے کر برطانیہ کو سی پیک کی طرف رُخ کرنے کا موقعہ فراہم کر دیا اور اُنکے نمائندے نہ کہہ دیا کہ" سی پیک میں شامل ہونا برطانیہ کیلئے باعث خوشی ہو گا"۔ ویسے بھی برطانیہ اپنے اس خطے سے منسلک ماضی اور اسکے فوائد سے بے خبر نہیں ہے گو کہ آج وہ نہیں اس خطے میں چین ہے۔

چین ایشیاء ،افریقہ اور یورپ سے تجارتی روابط رکھتے ہوئے کیسے دُنیا کی ایک بڑی ماضی کی طاقت برطانیہ کو چھوڑ سکتا ہے ۔لہذاجہاں چین یورپ کے متعد شہروں تک ریل رابطے پہلے ہی قائم کر چکا ہے ایک نئے عجوبے کی منصوبہ بندی کے تحت چین سے براہِ راست لندن تک " مال گاڑی" چلانے پر کام شروع کرنے لگا ہے۔

یوریشین اکنامک یونین:
چینی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے گوادر استعمال کرنے کی روس کی درخواست منظر کر لی ہے۔ اسطرح اگر ایک طرف روس " یوریشین اکنامک یونین "پر مشتمل ممالک اَرمینیا ،بیلاراس، کرغستان، قزاقستان اور روس کو سی پیک میں ضم کرنے کی خواہش رکھتا ہے تو دوسری طرف چین سے پہلے ہی بین الااقوامی ریل لنک پر مال گاڑی اُن میں سے چند ممالک بیلاراس، قزاقستان ، روس اور پھر پولینڈ ، جرمنی ،بلجیئم،اور فرانس سے گزرتی ہوئی مشرقی لندن کے پارکنگ ریل فریٹ ٹرمینلپر پہنچتی ہیں جو آگے پورے یورپ سے منسلک ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 160 Articles with 170547 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
18 Jan, 2017 Views: 308

Comments

آپ کی رائے