صرف ایک سوال انصاف کون دیگا۔؟

(Rao Imran Salman, )

یہ درست ہے کہ آج کل کے دور میں ریاستی عدالتی نظام سے فیصلہ لینا ایک مہنگا اور طویل عمل ہوتاہے ،جو کہ بہت سے لوگ برداشت نہیں کرسکتے،لہذا بہت سے معاملات کو عدالت سے باہر ہی طے کیا جاتاہے کیونکہ پاکستان کا قانون راضی نامے کی اجازت دیتاہے بہت سے خاندان اور قبیلے اپنے بیشتر معاملات کو بزرگوں یا گاؤں کے بڑوں کے زریعے حل کرواتے ہیں ،میرے ایک بڑے شفیق دوست میجر(ر)حیدرحسن اپنے وقتوں میں فوج کے ایک بہادر افسر کے طور پر اپنی خدمات کوسرانجام دے چکے ہیں انہوں نے دوران ڈیوٹی جن جن مقامات کا دورہ کیا ان میں ملک کے مختلف مقامات کے ساتھ فاٹا کے قبائلی علاقے شامل رہے جہاں انہوں نے عوام کی مشکلات اور وہاں کے رہن سہن کا بخوبی جائزہ بھی لیا وہ اکثر ان مشکلات کے حوالے سے ملک کے مختلف اخبارات میں لکھتے رہتے ہیں، انہوں نے ایک بار مجھے بتایا کہ اس ملک میں یا تو شرعیہ نظام لگادیا جائے پاپھر مکمل عدالتی نظام کے تحت اس ملک میں انصاف کے نظام کو بہتر بنایا جائے انہوں نے کہا کہ اس دنیا میں جب جب آبادی میں اضافہ ہواتو اس دوران لوگوں کے درمیان لڑائیاں اور جھگڑے بھی اسی حساب سے بڑھنے لگے ایک وقت تھا کہ انسانوں کے اس بڑھتے ہوئے ریورڈ جیسے اس وقت شاید یہ شعور حاصل نہ تھا کہ کس طرح مل جل کر رہاجائے لہذا ان کو قابو میں لانے کے لیے ان وقتوں میں ایسے قانون اور ضابطے کی ضرورت محسوس کی گئی تھی جو ان کے مسائل کی منصفانہ تقسیم میں مدد دے سکے ،لہذا دنیا بھر میں جہاں جہاں آبادی بڑھتی رہی وہاں وہاں اس چیز کی ضرورت کو محسوس کیا جانے لگا،میجر صاحب نے کہاکہ جرگہ اور پنچایت کا سسٹم صدیوں پرانا ہے پاکستان میں یہ نظام انگریزوں کے وقتوں میں بھی کام کرتا رہاہے اور یہ اسی ضرورت کے تحت وجود میں لایا گیاتھا جبکہ آج تک سندھ ،پنجا ب اور بلوچستان سمیت ملک کے بیشتر حصوں میں یہ نظام آج بھی کام کررہاہے بلکہ انگریزوں نے فاٹا کے قبائلی علاقوں میں ایف سی آر کا قانون نافذ کیا اور اس کے تحت وہاں کے وڈیروں ،ملکوں کو یہ اتھارٹی دی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں رہتے ہوئے وہاں کہ لوگوں کے مسائل کو حل کریں ،مگر اس کے نتائج شاید اچھے نہ نکل سکے اختیارات اور دولت کی دوڑ میں سینہ زوری اور بدمعاشی کے زورپرغریب عوام کو ستایا گیا اور فیصلے بھی مرضی کے وصول کیے گئے ،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ عدالتی نظام کی شکل بھی ہمارے سامنے موجود ہے میجر صاحب اس بات سے نالاں تھے کہ اس دور میں بھی عوام انصاف کے لیے اتنی ہی دربدر ہے جو ظلم و پتھروں کے دور میں اٹھایا کرتی تھی آج بھی عدالتوں میں بڑے بڑے کیسوں پر توجہ دی جاتی ہے اور غریب اسی طرح عدالتوں میں دھکے کھاتا رہ جاتاہے،جیسا کہ اس ملک میں پانامہ لیکس ،ڈاکٹر عاصم کیس ،عزیربلوچ ، اسحاق ڈار کے اربوں ڈالر کا معاملہ ،سوئس بینکوں کے معاملات ،منی لانڈرنگ کے معاملات اور بہت سے ایسے کیسز جو عدالتوں میں تو چلتے ہیں مگر ان کے ثبوتوں کو ادھر سے ادھر کرنے کے لیے سفیروں اورکمشنروں کی مدد لی جاتی ہے تاکہ ان کیسوں کو کبھی نہ حل ہونے والے معاملات کی نذر کردیا جائے اس سارے چکر میں پستی صرف غریب عوام ہی ہے جسے دیکھ کر یہ ہی لگتا ہے کہ ان لوگوں نے اگر قانون بنابھی لیا ہے تو صرف اپنے ہی فائدے کے لیے تاکہ یہ اپنے سیاہ وسفید سسٹم کو چلانے کے لیے اس قانون کے زریعے عوام کی نبض سسٹم کو کنٹرول کرتے رہے ،میجر صاحب تو ملک میں موجود پولیس کے نظام سے بھی خوش نہیں ہیں ان کا مانناہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں بھاری بھرکم ہتھیاروں کا ادھر سے ادھر پہنچ جانا اس بات کی دلیل ہے کہ اس ملک کی پولیس اس قابل نہیں ہے کہ وہ ان واقعات کو روکنے میں اپنا کوئی کردار ادا کرسکے ،قائرین کرام یہ سارے معاملات اپنی جگہ میرا مقصد میجر صاحب سے ہونے والی مختصر یا طویل گفتگو کو بیان کرنا نہیں میرا خیال ہے کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسا نہیں ہے جو یہ اس ملک میں دہشت گردی کا مستقل خاتمہ نہ چاہتا ہو یقیناً امن ہم سب پاکستانیوں کو ہی اچھا لگتاہے جبکہ اس کے ساتھ دہشت گردی صرف گولہ بارود سے ہونے والی دہشت گردی نہیں کہلاتی بلکہ کچھ دہشت گردیاں ریاستی بھی ہوتی ہے جوہمیں اپنے ہی بنائے ہوئے معاشرے کے ہاتھوں بھگتنا پڑتی ہیں میجر صاحب ٹھیک ہی فرماتے ہیں کہ اس جدید دور میں بھی ہمیں قانون کو سمجھنے اور اس کے مطابق فیصلے کرنے کا ڈھنگ نہیں آیا شاید ہمیں اپنے وجودسے دوسروں کو تکلفیں پہنچائے بغیر چین نہیں آتا،قائرین کرام یہ تمام باتیں اپنی جگہ مگر ہمارا موجود ہ عدالتی نظام شاید اس قدر مشکل ہے کہ لوگوں کے منہ سے خود بہ خود ہی نکل جاتاہے کہ اﷲ پاک عدالتوں کے چکروں سے بچائے ،یہ ہی وجہ ہے کہ لوگ آج کل باقائدہ عدالتی نظام سے گھبرانے لگے ہیں کیونکہ ان عدالتوں سے مستفید ہونا عام آدمی کے لیے خاصہ مشکل ہوگیاہے قوانین کی پیچیدگیاں عدالتوں کی قسمیں اور وکیلوں کی فیسیں ایک اچھے بھلے شخص کو الجھا کررکھ دیتی ہیں یعنی اگر آدمی ان معاملات میں گھس بھی جائے تو کیس دادا کے زمانے میں شروع ہوتاہے تو پوتے کے وقتوں میں اس کا آخری فیصلہ ملتاہے یہ ہی وہ مشکلات ہیں جس سے لوگ باقائدہ عدالتی نظام سے گھبراتے ہیں ،جس کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ عدالتی نظام کو آسان اور کم خرچ بنانا چاہیے تاکہ لوگ اس سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوسکیں ،ہم دیکھتے ہیں کہ اس ملک میں بہت سے لوگ ایسے بھی جو اس ملک میں شرعیہ کا نظام دیکھنا چاہتے ہیں میں ان لوگوں کے نام نہیں لوں گا مگرآپ کو سڑکوں اور چوراہوں پر بینروں پر کے زریعے ان مذہبی جماعتوں کو خود ہی پہچان لینگے میں اس وقت جہاں موجودہ عدالتی نظام میں کچھ مشکلات کا زکر کررہاہوں وہاں میں یہ بھی نہیں کہتا کہ ملک میں شرعیہ کا نظام ہی نافذ کردیا جائے یقیناً اس کو لانے کے لیے بھی عوام کی اکثریت کا پاس ہونا ضروری ہے یعنی اس کے لیے بھی ایک تحریری ،آئینی اور قانونی ڈھانچہ تیار کرنا ضروری ہے،لہذا ہمارے وہ علماء کرام جو شاید میری اس گفتگو سے تو متفق ہونگے مگر ساتھ میں شرعیہ کا نظام بھی لانا چاہتے ہیں تو ان پر بھی لازم ہے کہ وہ ایک ایسا آئینی اور قانونی ڈھانچہ تیار کریں جو شریعت کے مطابق ہواور یہ کہ موجودہ عدالتی نظام اور حالات کو سامنے رکھ کر مرتب کیا گیاہو اور جو کہ اس ملک کی بیشتر عوام کو قابل قبول بھی ہوکیونکہ ملکی قوانین کی توسیع اور اداروں کی ساخت کو کچھ لوگوں کی ثواب دید پر بھی نہیں چھوڑا جاسکتا بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ باہمی رضا مندی کے ساتھ سارے معاملات کو آگے بڑھایا اور نافذکیا جائے تبھی یہ صورتحال بہتر ہوسکتی ہے یعنی بہت سے معاملات کو منوانے کے لیے قانون سازی کرنا پڑتی ہے کہ کون سا ادارہ کس طرح کام کریگااور یہ کہ اس کے اختیارات کیا ہونگے، یعنی شریعت کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ مسجدوں میں موجود مولوی حضرات فیصلے کرنے لگ پڑیں یا پھر جو نماز نہیں پڑھتا اسی گولی ماردی جائے، دوستوں میں نے موجودہ عدالتی نظام کے خلاف کوئی ایسی بات نہیں کی ہے جس سے عدالت کا وقار مجروح ہواور نہ ہی شرعی معاملات میں کوئی کوتاہی کرنے کی کوشش کی ہے اس کے ساتھ میں نے عوام کے فیصلوں میں جرگہ اور پنچایت کے معاملات اور کردار کا بھی زکر کیا ان تمام باتوں کا محور گھوم پھر کر عوام کی مشکلات پر ہی آجاتاہے جن کازکر کرنے سے مجھے دنیا کا کوئی قانون نہیں روک سکتاآپ کی فیڈ بیک کا انتظار رہے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rao Imran Salman

Read More Articles by Rao Imran Salman: 75 Articles with 37276 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Mar, 2017 Views: 406

Comments

آپ کی رائے