موت کا ایک دن معین ہے۔۔۔ لیکن !!

(Dr. Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaon)
مسجدوں، میناروں کے شہر مالیگاﺅں میں بچوں کی بڑھتی شرح اموات تشویشناک!!
ڈاکٹر مشاہدرضوی کی ایک بہترین تحریر

مسجدوں، میناروں کے شہر مالیگاﺅں میں بچوں کی بڑھتی شرح اموات تشویشناک!!

صوبۂ مہاراشٹر کا مسلم اکثریتی شہر مالیگاﺅں مسجدوں، میناروں، مدارس، مکاتب اور تعلیمی و ادبی لحاظ سے ملک بھر میں شہرت کا حامل ہے۔ فضاے بسیط پر صبح تا شام بکھرنے والی اذان کی خوشبوئیں مشام جان کو معطر کرتی ہیں۔ مدارس و مکاتب میں درسِ قرآن و حدیث میں مصروف اساتذہ و طلبہ ایک اچھوتا سماں پیش کرتے ہیں۔ صفائی آدھا ایمان ہے، صاف ستھرے رہو اسلام صاف ستھرا مذہب ہے جیسی احادیثِ مصطفیٰﷺ کی صدائیں بھی مدارس و مکاتب سے ہرروز گونجتی رہتی ہیں۔ صفائی ستھرائی کی اہمیت سے متعلق زبانی باتیں تو بہت ہوتی ہیں لیکن عملی طور پر ہم اس سلسلے میں بہت پیچھے ہیں۔ سارے شہر میں پھیلی ہوئی گندگی، گندگی سے اٹھنے والا تعفن، تعفن سے پھیلنے والی مختلف قسم کی بیماریاں مالیگاﺅں جیسے مسلم اکثریتی شہر کا مقدر بن چکی ہے۔

جس کے چلتے بچوں کی بڑھتی ہوئی شرح اموات نہایت حد تک تشویشناک ہوتی جارہی ہے۔ ریاست مہاراشٹر کے پچھڑے ہوئے ادیواسی علاقے میل گھاٹ میں جہاں بنیادی سہولیات بھی نہیں ہیں اور نہ ہی آمدورفت کا مناسب انتظام، ایسے پچھڑے ہوئے گاؤں سے بھی زائد بچوں کے مرنے کی تعداد مالیگاﺅں جیسے تقریبًا ترقی یافتہ کارپوریشن لیول کے شہر میں ہے۔ مہاراشٹر میں سالِ گذشتہ صفر سے ایک سال کی عمر کے مرنے والے بچوں کا 27.77فی صد تناسب مالیگاﺅں کا ہے۔ بچہ اموات کے یہ اعداد و شمار ہم کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔

محکمۂ صحت و صفائی کی جانب سے پیش کیے گئے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سالِ گذشتہ جنوری 2016ء سے نومبر 2016ء کے درمیان مالیگاﺅں میں صفر سے ایک سال کی عمر کے مرنے والے بچوں کی تعداد 555 سے زائد ہے۔

اس ضمن میں محکمۂ صحت و صفائی اور کارپوریشن عملہ جس قدر ذمہ دار ہے اتنے ہی ذمہ دار ہم خود بھی ہیں۔ خود صاف رہنے اور اپنے گھر آنگن کوصاف رکھنے کا عملی نمونہ آخر ہم کیوں نہیں پیش کرتے؟ مسلم علاقوں میں گندگی کا انبار کیوں نظر آتا ہے؟ ہمارے سیاسی لیڈران کب تک بنیادی ضروری کاموں صحت و صفائی، پانی، بجلی جیسی باتوں کی تکمیل سے صرفِ نظر کرتے رہیں گے؟ ہمارے نیتاؤں کے پاس ایک دوسرے پر الزام تراشی اور آپسی رسہ کشی کے لیے وقت تو ہے مگر وقت نہیں ہے تو عوامی سہولیات کے کاموں کے لیے۔ اگر سیاسی لیڈران نے اپنی روش نہ بدلی تو تاریخ ان کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یاد رکھیں کہ اگر اللّٰہ کریم نے اپنے فضل سے آپ کو قوم و ملت کی خدمت کا موقع فراہم کیا ہے تو اس کو غنیمت سمجھتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کچھ ایسا کام کرجائیں کہ رہتی دنیا تک لوگ آپ کی اچھائیوں کو یاد رکھیں۔
مذہبی طور پر بیدار تسلیم کیے جانے والے مسلم اکثریتی شہر مالیگاﺅں میں باضابطہ صاف صفائی کے لیے کارپوریشن اور محکمۂ صفائی کی جانب سے چلائی جانے والی مہم بھی بینر بازی، ڈیجیٹل بورڈ، اعلانات اور اشتہارات تک ہی محدود نظر آرہی ہے۔عوام و خواص کے لیے ضروری ہے بچوں کی بڑھتی ہوئی شرحِ اموات کے اسباب کا پتا لگاکر ان کے تدارک کی تدابیر اختیار کی جائیں ۔ حاملہ خواتین کو ناقص تغذیہ اور دوائیوں کی وجہ سے بھی غیر صحتمند بچوں کی ولادت ہورہی ہے، جس کی وجہ سے بھی بچہ اموات کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔اس سمت بھی ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔مریضوں اور حق داروں تک متوازن غذا اور اچھی دوائیوں کی فراہمی کے لیے بھی ہمیں فعال ہونا چاہیے۔ بہ ہر کیف! اس حقیقت سے انکار نہیں کہ موت کا ایک دن معین ہے لیکن صحتمند، تندرست اور صاف ستھرے معاشرے کی تشکیل تو بہ ہر حال ممکن ہے۔ لہٰذا صحت و صفائی کا مکمل دھیان دیتے ہوئے ایک اچھے اور ستھرے مالیگاﺅں کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے عملی کوششیں کریں تاکہ شہر مختلف قسم کی بیماریوں سے محفوظ ہوجائے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi

Read More Articles by Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi: 409 Articles with 355860 views »


Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi

Date of Birth 01/06/1979
Diploma in Education M.A. UGC-NET + Ph.D. Topic of Ph.D
"Mufti e A
.. View More
07 Mar, 2017 Views: 458

Comments

آپ کی رائے