عمران خان کا الزام…… ایک نیا پنڈورا بکس کھل گیا

(عابد محمود عزام, Lahore)

عمران خان کے پاناما کیس پر خاموش ہونے کے لیے شریف فیملی کی طرف سے دس ارب روپے کی پیشکش کے دعوے کے بعد ملکی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ عمران خان اپنے بیان پر قائم ہیں۔ حکومت عمران خان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کے اعلانات کر رہی ہے۔ اپوزیشن ارکان سربراہ پی ٹی آئی سے اپنے الزام کو ثابت کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے عمران خان کو دس ارب روپے کی پیشکش کرنے پر میاں نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بنا یا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الزام عاید کیا کہ پاناما کیس پر خاموشی اختیار کرنے کے لیے شہباز شریف کے قریبی ساتھی نے دو ہفتے قبل ملاقات کر کے 10 ارب روپے کی پیش کش کی۔ عمران خان نے کہا کہ شہباز شریف کے قریبی ساتھی نے بتایا کہ شریف خاندان کی طرف سے پہلے بھی پیسوں کے پیش کش کی گئی، مگر میری اْس سے دو ہفتے قبل ملاقات ہوئی، جس میں اْس نے دس ارب روپے کی پیش کش کی۔ عمران خان نے کہا کہ نوازشریف نے اپنی کرپشن چھپانے کے لیے بہت لوگوں کر رشوت دینے کی پیش کش کی اور مجھے خریدنے کے لیے شہباز شریف کے قریبی ساتھی اور میرے عزیز کو بھیجا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دبئی کے ذریعے ایک شخص نے پاناما کیس میں خاموش رہنے پر 10 ارب روپے تو ابتدائی پیش کش تھی، رقم بڑھانے کی بھی پیشکش کی گئی تھی۔ عمران خان نے کہا کہ اب معاملہ لندن فلیٹ کا نہیں، بلکہ شریف خاندان کے اثاثوں کا ہے۔ پاناما کیس ابھی ختم نہیں ہوا، جے آئی ٹی تحقیقات کرے گی اور معاملہ دوبارہ بینچ میں آئے گا، اس کیس کی وجہ سے شریف خاندان کے تمام اثاثہ جات خطرے میں ہے۔پی ٹی آئی کے سربراہ کے نئے الزامات سے ملک کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔ وزیراعظم نے اجلاس میں عمران کی جانب سے ان کے خاندان پر لگائے جانے والے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا۔ اجلاس کے شرکا کی رائے تھی کہ عمران خان کو عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ آئین کی دفعہ 62 اور 63 کے تحت جھوٹ بولنے کی پاداش میں نااہل ہوسکتے ہیں۔ چند شرکا کا خیال تھا کہ عمران خان کی جانب سے نئے الزامات کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھا نے کی کوشش ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ پاناما بہت بڑا اسکینڈل ہے، مگر عمران کو دس ارب رشوت کی آفر بہت ہی بڑا اسکینڈل ہے۔ اسلام کی رو سے بھی رشوت لینے اور دینے والے دونوں جہنمی ہیں۔ اگر لینے والے نے نہیں لیے تو دینے والا جہنمی ہے۔ عمران خان کو رشوت کی آفر کرنے والے کا نام بھی دینا پڑے گا اور ثابت کرنا پڑے گا کہ پیشکش کس نے کی، اس کی باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ جمہوری نظام میں رشوت دینے سے بڑی بات نہیں ہو سکتی۔ رشوت کی آفر اخلاقیات سے بڑا جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ثابت نہ کر سکے تو اس سے زیادہ غیر ذمہ دار لیڈر نہیں ہو سکتا، دوستوں میں بیٹھ کر بات کرتا تو اور بات مگر بیان پبلک پراپرٹی ہے۔اگر ثابت نہ کر سکا تو عمران کو سیاست سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق اس امر کا اعلان کر رہے ہیں کہ وزیراعظم نواز شریف نے عمران خان کو دس ارب روپے کی پیشکش کرکے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے۔
 
وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے شریف برادران کی جانب سے پاناما کیس سے دستبرداری کی صورت میں 10 ارب روپے کی پیش کش کے حوالے سے نئے الزامات سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دینے کا آغاز کردیا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت پارٹی رہنماؤں کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر ارکان، آئینی اور قانونی ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق قانونی ماہرین نے وزیراعظم نوازشریف کو عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ عدالت سے متعلق عمران خان کی زبان توہین کے زمرے میں آتی ہے، جس پر وزیراعظم نے قانونی ٹیم کو عمران خان کے الزامات پر ان کے خلاف عدالتی کارروائی کے لیے تیاری کی ہدایت کردی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ججز سے متعلق توہین آمیز رویئے اور الزام تراشی پر توہین عدالت کے لیے رجوع کیا جائے گا اور عمران خان کے خلاف 10 ارب رشوت کے الزام پرہتک عزت کا دعویٰ بھی کیا جائے گا۔ نواز شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں ایک اجلاس کی صدارت کے دوران اپنے ساتھیوں اور قانونی ٹیم سے نئے الزامات کے حوالے سے مشورہ کیا اور عمران خان کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم کے قانونی مشیربیرسٹر ظفراﷲ نے کہا کہ اجلاس میں عمران خان کو عدالت میں لے جانے سمیت کئی پہلووں پر غور کیا گیا تاکہ عوام کو اس کی حقیقت سے آگاہ کیا جا سکے اور اجلاس میں وزیراعظم کو تازہ الزامات سے آگاہ کیا اور قانونی ٹیم نے مختلف پہلووں کا جائزہ لیا۔ گوکہ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے اس اجلاس کے حوالے سے باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا، تاہم وزیراطلاعات مریم اورنگ زیب نے وزیراعظم کی صدارت میں اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اجلاس میں ہونے والی گفتگو سے لاعلم ہیں۔ ذرایع کے مطابق ایوان وزیراعظم نے طے کر لیا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو عدالتی کٹہرے میں لے کر جائیں گے، جہاں انہیں اس امر کا ناقابل تردید ثبوت پیش کرنا ہوگا کہ شریف فیملی نے انہیں پاناما کے معاملے پر خاموش رہنے کے عوض دس ارب روپے کی پیشکش کی تھی۔ حکومت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے زیادہ سوچ بچار کیے بغیر یہ الزام عاید کر دیا۔ اس الزام کی قلعی کھلنا بالخصوص عدلیہ کے وقار کے لیے اشد ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عمران خان نے یہ الزام عاید کر کے بہت بڑا رسک لیا ہے، کیونکہ اس سے ان کے لیے بہت مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں، کیونکہ یہ ازلام ثابت کرنا ضروری ہے۔ عمران خان کے لیے اس الزام کو ثابت کرنا کافی مشکل ہوگا۔ اس معاملے میں وہ مکمل طور پر بند گلی میں بند ہوسکتے ہیں۔ اگر وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ نواز شریف نے انہیں دس ارب روپے کی پیشکش کی تھی تو نواز شریف کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑے گا ناکام رہنے کی صورت میں انہیں بری طرح سیاسی نقصان سے دو چار ہونا پڑے گا، جبکہ ہر جانے کی رقم اس کے علاوہ ہو سکتی ہے۔ عدالت کو از خود اس کا نوٹس لینا چاہیے، کیونکہ سیاست میں الزام تراشی کا رجحان بڑھ رہا ہے اور اس وقت قومی سیاست میں الزامات اور جوابی الزامات کا جو طور مار باندھا جارہا ہے اس سے قرار واقعی طور پر جمہوریت کا تشخص بری طرح مجروح ہو رہا ہے۔ سیاست دانوں کو بھی چاہیے کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور کسی پر جھوٹا الزام نہ لگائیں اور اگر کوئی الزام لگاتے ہیں تو اسے ثابت بھی کریں۔ سیاست میں ایک دوسرے پر الزام لگانا اور کیچڑ اچھالنا معمول بنتا جارہا ہے، کبھی ایک سیاسی جماعت کا لیڈر دوسری سیاسی جماعت کے لیڈر پر الزام لگادیتا ہے اور کبھی کسی اور جماعت کا لیڈر الزام تراشی کرتا ہے، ایسے الزامات کو ہوا میں اڑا دیا جاتا اور جس پر الزام لگایا جاتا وہ بھی یہ سمجھ کر خاموش ہوجاتا ہے کہ یہ تو معمول کی بات ہے، حالانکہ اس رجحان کی مجموعی طور پر حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ یہ صرف سیاست دانوں کا معاملہ نہیں بلکہ اس سے پورے ملک کی بدنام ہوتی ہے کہ پاکستان کے سیاست دان آئے روز ایک دوسرے پر جھوٹے الزامات لگاتے رہتے ہیں۔
 
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کے پاناما کیس پر خاموش ہونے کے لیے دس ارب روپے کی پیشکش کا الزام تو الزام ہی ہے۔ عمران خان اس وقت سیاسی تیکنیکس استعمال کررہے ہیں، جس سے وہ فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔بہرحال جو بھی ہے ملک کے وزیر اعظم کی طرف سے ایک سیاسی لیڈر کو خاموش کروانے کے لیے رشوت کی پیشکش سنگین اور خطرناک الزام ہے۔ اصولی طور پر اس کی تحقیقات ہونی چاہیے اور عمران کو بھی عدالت میں یہ ثابت کرنا چاہیے کہ انہیں یہ پیشکش کیسے اور کب ہوئی تھی، لیکن پاکستان کے سیاست دان قانون اور اصول و ضوابط کو خاطر میں نہیں لاتے اور خود اپنے کسی عمل کے لیے کسی قانونی ادارے کے سامنے جوابدہی کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جب تک ملک میں قانون سب پر یکساں لاگو نہیں ہوگا اور چھوٹے بڑے، ہر جرم پر سزا نہیں دی جا سکے گی، اس وقت تک قانون کی حکمرانی کی باتیں عوام کو گمراہ کرنے کے سوا کوئی معنی نہیں رکھتیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 417909 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 May, 2017 Views: 390

Comments

آپ کی رائے