منشیات کا استعمال جان و ایمان کا ضیاع!

(Inayat Kabalgraami, )

 ہر انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں ایک کامیاب اور بلندو معیار معاشرے میں زندگی گوزاریں ایک کامیاب معاشرے میں بلند معیارزندگی سے مراد وہاں پر موجود رہن سہن کی سہولیات ہیں یعنی تعلیم و تفریح کا معیار،غذائی معیار،ذریعہ آمدرفت کامعیار،لباس کامعیار اور ابلاغ عامہ کا معیار ہیں۔ اگر یہ تمام چیزیں معاشرے میں رہنے والوں کیلئے موجود ہوں تو یقیناً لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوگا۔اگر معاشرے کے اندریہ تمام چیزیں میسر نہ ہوں یا برائے نام ہوں تو اس معاشرے میں زندگی پست ہوگی۔آج کیااس ترقی یافتہ دور میں تیزی کے ساتھ تبدیلی کے مراحل سے گزررہی ہیں اس ترقی کے ساتھ ساتھ معاشرے میں مسائل بھی بڑھتے جارہے ہیں۔

ہمارا دین اسلام ہے ، یہ تمام مذاہب عالم میں فوقیت وبرتری کا حامل دین ہے ، جس میں انسانیت کو دنیا میں رہن سہن کے تمام طور تریقے بتائے گئے ہیں اور انسان کے لئے مہلک ترین عناصر کی طرف واضح اشارات کردئے گئے ہیں جو ایک عام ذہن کے لئے بھی قابل قبول ہیں۔ انسانی زندگی کو متاثر اور بدترین نتیجہ خیز دہانے تک پہنچانے والے عناصر میں منشیات کا غیرمعمولی دخل ہے۔ منشیات خواں کسی بھی قسم کی ہو اس کی عادت ایک خطرناک ،انسانیت سوز موذی مرض ہے۔ یہ خود انسان، اس کا گھر، معاشرہ اور پورے ملک و قوم کو تباہ کردیتی ہے۔ اگر کوئی خود ان نشہ کرنے والوں سے بھی پوچھے تو یہ نشہ کرنا کیسا ہے تو وہ نشئی بھی اس کی مذمت کرنے لگے گا۔وہ خود تو اس کے ہاتھوں اسیر ہوچکاہوتا ہے لیکن اس کے دام میں پھنسے کے بعد اس کے مضر اثرات کا اسے ادراک ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں اس کے خلاف آواز اٹھائی جاری ہے لیکن اس کے باوجود اس میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

منشیات کیا ہے ؟ منشیات سے مراد ایسی دوائیں ہیں جن کے استعمال سے سرور و انبساط کی کیفیت محسوس ہو۔ دنیا سے بے نیازی اور بے خودی کی کیفیت طاری ہو جائے اور نیند، بے ہوشی، مدہوشی اور بدمستی طاری ہو کر تمام دکھ درد بھول جائیں۔ شروع شروع میں تو سکون کا متلاشی بے انتہا فرحت محسوس کرتا ہے مگر جب نشہ ہرن ہوتا ہے تو اس کی طلب پھر بے چین کر دیتی ہے اور اس کے حصول کے لئے وہ پھر کوشاں ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی زندگی کا مقصد ہی نشہ کرنا رہ جاتا ہے اور نشہ کے حالات میں انسان وہ کام بھی کر جاتا ہے جو اس سے نہیں کرنا چاہئے ۔

اس وقت پاکستان میں نشہ آور افراد کی مختلف اقسام موجود ہیں۔ انسانی زندگی کے ہر شعبہ کی طرح اس میں بھی مختلف کیٹگریز ہیں جو مختلف اقسام کا نشہ استعمال کرتے ہیں۔اگر سڑک کنارے پڑے شخص کا نشہ انجکشن ہے تو بڑے بڑے کھوٹیوں میں موجود امیر زادے کا نشہ شیشے سے شروع ہو کر شراب، برانڈڈ شراب اور امپورٹڈ افیم ہیں۔تقرباََ پاکستان کے ہر شہر میں کسی بھی برانڈ کی شراب کو آپ بآسانی خرید سکتے ہو، بس جیب میں روپے ہونے چاہیں۔ مختلف اور بڑے شہروں میں موجود ہوسٹلز (چاہئں لڑکوں کے ہوں یا لڑکیوں کے) نشہ استعمال کرنے کے بڑے ٹھکانے بنتے جا رہے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ گاؤں دیہات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر نے کے لیے آنے والے طالب علم نشے جیسی لعنت کا شکار ہوکر خود بھی رسوا ہوتے ہیں اور والدین کے لیے بھی پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ کبھی کتابوں کے نام پر تو کبھی فیس کے لیے پیسے منگوا کر دوستوں کی محفل کی نظر کرجاتے ہیں۔

نشہ بنی آدم کے لئے زہر ہے بلکہ اس بھی زیادہ خطرناک ہے زہر تو انسان کو ایک ہی جھٹکے سے ختم کر دے تھی ہے لیکن نشہ نمہ زہر انسان کو تھڑپا تھڑپا کر مارتی ہے ساتھ ہی ساتھ گھر والے بھی اس کا غمازہ بگھت تے ہیں۔ اس کے تلخ تجربات ومشاہدات کا دنیا کو اچھی طرح سے اندازہ ہوچکا ہے۔ اس نے کتنے انسانوں کی خوشگوار شام پر آہ وزاری کی برسات کردی، کتنے آباد گھروں میں ویرانی کا سماں پیدا کردیا، کتنے مہکتے پھولوں کومرجھاکرگلستاں کی شادابی ودلکشی پر اپنی سیاہ نشانیاں چھوڑ دی۔ مذہب اسلام نے حفظان صحت پر بہت ہی زیادہ توجہ دلایا ہے۔ جن اشیاء کے استعمال سے جسم وصحت پر برا اثر پڑتا ہے یا کسی طرح سے بھی جسمانی نقصان کا باعث ہے وہ ممنوع وناجائزہے۔ چونکہ منشیات انسانی جسم وروح کے لئے بگاڑ وفساد کا سبب بنتا ہے بلکہ بسااوقات آدمی کی جان بھی چلی جاتی ہے اس بناپر منشیات کا استعمال شریعت کی رو ح سے حرام ہے خواہ وہ نشہ کسی قسم کا ہو۔ نبی محترم ﷺ کا صاف صاف اعلان ہے : ہرنشہ آورچیز خمرہے اور ہرنشہ والی چیز حرام ہے۔ (بخاری و مسلم) منشیات کے استعمال سے دنیا میں بھی بہت سارے گھاٹے اور نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں اور دینی اعتبار سے اس کا جو برا انجام ہے وہ اپنی جگہ پر۔دنیاوی خسارے اور نقصانات کا اندازہ اس امر سے اچھی طرح لگایا جاسکتا ہے کہ اس سے سیکڑوں امراض پیدا ہوتے ہیں جو انسانیت کے لئے سم قاتل ہیں۔

منشیات کا ستعمال نقصان کے سیوا کچھ بھی نہیں دیتا ، جان کا نقصان ، مال کا نقصان سب سے بڑھ کر ایمان کا نقصان ، اس کے ساتھ ساتھ قسم در قسم بیماریاں بھی منشیات سے انسان کو منتقل ہو تی ہے ۔ شراب، تمباکو،بیڑی، سگریٹ،گٹکھا،گانجہ،چرس وغیرہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں حلق کی خرابی،جگرکی خرابی،امراض قلب،اسقاط حمل، قلت عمر،زخم معدہ،خون فاسد،تنفس کی خرابی، ہچکی، کھانسی، پھیپھڑوں کی سوجن،کینسر،سردرد، بے خوابی،دیوانگی، ضعف اعصاب،فالج،مراق،ہارٹ اٹیک،ضعف بصارت،دمہ، ٹی وی،بواسیر،دائمی قبض،گردے کی خرابی وغیرہ اہم بیماریاں ہیں۔ ان میں بعض ایسی بیماریاں ہیں جن کا انجام سرعت موت ہے۔ اطباء کے قول کی روشنی میں تمباکو میں تین خطرناک قسم کے زہریلے اجزاء کی ملاوٹ ہوتی ہے۔ ان اجزاء میں ایک روغنی اجزاء سے بناہوا نیکوٹین ہے۔اگر اس روغن کو نکال کراس کا صرف ایک قطرہ کتے،بلی یا کسی بھی جانور کو کھلایا جائے تو فورا وہ موت کے منہ میں چلا جائے گا۔ نشہ خوری اس قدر مرض مہلک ہے کہ نشہ خور عالم نشہ میں کوئی بھی حد پار سکتا ہے، میں ایک صاحب کے تحریرکا مطالعہ کر رہا تا جس میں اس نے ایک واقعہ نقل کیا ہے ، ایک نوجوان دوشیزہ گھر سے بھاگ کر مسجد کے پیش امام کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے کہ میرا باپ جو نشے کا عادی ہے اور مسلسل کئی دنوں سے مجھ سے بدفعلی کرنے کی کوشش کررہاہے۔ آج زیادہ خطرہ محسوس کررہی تھی تو بھاگ کر آپ کے پاس چلی آئی تاکہ آپ میری کچھ مددکریں۔

نشے کے حوالے احادیث رسول ﷺ میں شدید ممانت آئی ہے ۔اپر میں نے ایک حدیث گزری ہے جو اب تفصیل سے آرہی ہے ۔ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نبی محترم ﷺکے اس فرمان کو زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔ہر نشہ آور چیز عقل کو ڈھانپتی ہے اور عقل کو ڈھانپ لینے والی ہر چیز حرام ہے۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا نبی محترم ﷺ کا فرمان بیان کرتی ہیں کہ قویٰ میں سستی پیدا کرنے اور نشہ پیدا کرنے والی کسی چیز کو استعمال نہ کرو۔ ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا کہ صحت کو نقصان پہنچانے والی، ہر ناخوشگوار اور ہر ناپاک چیز صریحاً حرام ہے۔ حضرت جابر رضی اﷲ عنہ راوی ہیں کے نبی محترم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس چیز کا زیادہ استعمال نشہ لائے اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔ حضرت طارق بن سویدرضی اﷲ عنہ نے نبی محترمﷺسے عرض کی کہ میں بیمار ہوں اور علاج کے لئے شراب کو بطور دوا استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ آپﷺنے ارشاد فرمایا ’’یہ دوا نہیں بیماری ہے۔‘‘ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نے نبی محترمرﷺ کا ایک قول روایت کیا ہے جس میں آپ نے خبیث دواؤں کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔
’’منشیات کا استعمال جان و ایمان کا ضیاع ہے ‘‘ منشیات کے روک تھام ہ زمہ داری حکومت وقت کی تو بنتی ہی ہے حکومت اس کیلئے خاطر خواں انتظامات کا زمہ دار ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوام الناس ، علماء ، مذہبی جماعتوں اور سیاسی جماعتوں کی بھی زمہ داری بنتی ہیں ، ان کو چاہیئے کہ وہ جہاں بھی منشیات فروخ ہورہی ہو، ان کے خلاف آواز بلند کریں تب ہی ہمارے ملک سے یہ لعنت ختم ہوسکتی ہیں ۔ اﷲ ہم سب کواس لعنت سے محفوظ رکھیں (آمین)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inayat Kabalgraami

Read More Articles by Inayat Kabalgraami: 16 Articles with 10430 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 May, 2017 Views: 816

Comments

آپ کی رائے