محترمہ بے نظیر بھٹو ! جنہیں پاکستانی قوم ہمیشہ یاد رکھے گی !

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)
عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم (محترمہ بے نظیر بھٹو کے 64 ویں یوم پیدائش پر خصوصی تحریر)

پاکستان کوایٹمی طاقت بنانے والے عظیم سیاسی لیڈرذوالفقارعلی بھٹو(شہید)کی بے مثال بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو جن کو عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہے ،21 جون1953 کوکراچی میں پیدا ہوئیں اور27 دسمبر 2007 کوانہیں کسی بدبخت نے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گولیاں مار کر شہید کردیا لیکن ان کا نام کروڑوں دلوں میں آج بھی زندہ ہے۔ پاکستانی سیاست میں بے نظیر بھٹو کے کردار اور کارنامے ان کے نام کو تایخ کے صفحات میں ہمیشہ محفوظ رکھیں گے۔آج 21 جون 2017 کوجبکہ ملک بھر میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا 64 واں یوم پیدائش مناتے ہوئے ان کی شخصیت ،کردار اورکارناموں کو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی سیاست دان محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے طرز سیاست اور اندازحکمرانی کا بغور مطالعہ کرکے ان کی خوبیوں کو اپنا کر عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کی کوشش کریں تاکہ ان کا نام بھی بے نظیر بھٹو کی طرح لوگوں کے دلوں اور تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رہے کہ عوام کے دلوں میں بسنے والے لوگ برسوں نہیں صدیوں زندہ رہتے ہیں اور یہی وہ زندگی ہے جسے حیات جاوداں کا نام دیا جاتا ہے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی تربیت پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوکے زیرسایہ ہوئی۔بھٹو صاحب اپنے دور حکومت میں جب کسی بیرونی ملک کے سرکاری دورے پر جاتے تو اکثربے نظیر بھٹو کو اپنے ہمراہ لے کر جاتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کی اولاد میں بے نظیر بھٹو کو ملکی اوربین الاقوامی سیاست سے بہت زیادہ دلچسپی ہے اس حوالے سے شملہ معاہدے کے لیئے وہ بھارت جاتے ہوئے بے نظیربھٹو کو خاص طور پر اپنے ساتھ لے کر گئے جہاں انہوں نے بے نظیربھٹو کی موجودگی میں اندرا گاندھی سے کامیاب مذاکرات کیئے جسے ملکی اور غیرملکی ذرائع ابلاغ نے بہت زیادہ اہمیت دی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کئی بار بے نظیر بھٹو کو اپنا سیاسی جانشین بھی قرار دیااور آگے جاکر ان کا یہ اندازہ سوفیصد صحیح ثابت ہوا اور بے مثال باپ کی بے نظیر بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستانی سیاست میں ایک محب وطن اور بہادر سیاسی رہنما کے طور پر وہ کردار ادا کر دکھایا جوبڑے بڑے قدآور سیاسی لیڈرادا نہ کرسکے۔ یوں توبے نظیر بھٹو نے 1976 میں اپنے والد ذوالفقارعلی بھٹو کی پولیٹیکل ایڈوائزر کے طور پرکام شروع کرکے پاکستان میں اپنی عملی سیاست کا آغاز کیا لیکن ان کی سیاسی اہلیت کا امتحان جولائی1977 میں جنرل ضیاالحق کے مارشل لا کے دور میں شروع ہوا جس میں بے نظیر بھٹو نے بڑی بہادری کے ساتھ ہر طرح کے مشکل حالات کامقابلہ کرتے ہوئے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ذریعے نمایاں کامیابی حاصل کرکے سب کو حیرت زدہ کردیا۔ بے نظیر بھٹو کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک عورت ہونے کے باوجود ایک مسلم معاشرے میں زبردست سیاسی جدوجہد کے ذریعے ایوان اقتدار تک پہنچ کردنیا بھر سے اپنی سیاسی اور قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایااور 1988 میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے پاکستان کی وزیراعظم منتخب ہوکر عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کا منفردترین اعزاز حاصل کیا،بے نظیربھٹو اپنی عوامی سیاست اور خداداد قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے پاکستان میں 2 مرتبہ وزارت عظمیٰ کے اعلیٰ ترین عہدے پرفائز ہوئیں جو ان کے مقبول ترین عوامی رہنما ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے جبکہ اگر انہیں 27 دسمبر2007 کو شہید نہ کیا جاتا تو وہ باآسانی تیسری بار بھی وزیراعظم منتخب ہوجاتیں۔

بے نظیربھٹو کو اعلیٰ سیاسی سوجھ بوجھ،قائدانہ صلاحیت اورولولہ انگیز شخصیت کی بدولت پاکستان اور بیرونی دنیا میں ایک متحرک اورباعمل بہادر سیاسی رہنما کے طور پرزبردست شہرت حاصل ہوئی لیکن ملک دشمن، مفادپرست سیاست دانوں،سازشی عناصر اور سامراجی طاقتوں کو بے نظیر بھٹو کی یہ زبردست عوامی مقبولیت ایک آنکھ نہ بھائی کیونکہ بیرونی طاقتوں کو تو ایسے بکاؤ سیاست دان چاہیئے ہوتے ہیں جو ان کے مفادات کے حصول کے لیئے ان کے اشاروں پرناچ سکیں اور چونکہ بے نظیر بھٹو میں منافقت اور مفاد پرستی نہ تھی چنانچہ اپنی پالیسی کے تحت پاکستان دشمن بیرونی طاقتوں نے پاکستان میں موجود مقامی مفاد پرست غیرحقیقی سیاسی قوتوں کوطاقتور بنانے کے لیئے انہیں مختلف ترغیبات کے ذریعے خرید کر ایک جگہ جمع کیااور اقتدار کی منزل تک پہنچایا تاکہ بے نظیر بھٹو کی ولولہ انگیز قیادت میں جوزبردست عوامی طاقت جمع ہورہی ہے اسے اقتدار تک پہنچنے سے روکا جائے لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو نے جوولولہ انگیز سیاسی زندگی گزاری اور جس شان اور بہادری سے انہوں نے سامراجی قوتوں،فوجی آمروں اور ان کے زرخریدچمچوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں للکارااور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کرپاکستانی عوام کے حقوق کی خاطرجس مہارت کے ساتھ صاحب اقتدار اور بادشاہ گر قوتوں کو ہر میدان میں چت کرکے اپنی غیرمعمولی سیاسی صلاحیتوں کا لوہا منوایاوہ ہمارے ملک کی سیاسی تاریخ کا وہ سنہرا باب ہے جس پر پوری پاکستانی قوم کو فخر کرنا چاہیئے ۔

وفاق کی علامت ،چاروں صوبوں کی زنجیر ،بے نظیربھٹو کی زندگی اور موت دونوں قابل رشک ہیں کیونکہ ان جیسی متحرک اور فعال زندگی اوردلیرانہ شہادت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگ تاریخ کے صفحات اور لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے جس خاندان میں جنم لیا اس میں شروع سے ہی روپے پیسے کی کوئی کمی نہ تھی کہ وہ کرپشن کرنے کے لیئے سیاست کا رخ کرتیں بلکہ ان کو تو پہلے ہی اندازہ تھا کہ سامراجی قوتیں،بیرونی طاقتیں اورنام نہاد غیرحقیقی سیاست دان،سیاسی میدان میں ان کے وجود کو برداشت نہیں کریں گے اور وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی تھیں کہ ان کے والد قائد عوام ذوالفقارعلی بھٹوجیسے زبردست اور حقیقی سیاسی رہنماکے ساتھ اس ملک میں کیسا سلوک کیا گیا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے مقبول ترین محب وطن سیاسی رہنما ’’بھٹو‘‘کو فوجی آمر جنرل ضیاالحق نے امریکی اشارے پر اقتدار پر قابض ہوکر ایک نام نہادقتل کے جھوٹے مقدمے میں ملوث کرکے کس بے دردی اوربزدلی کے ساتھ رات کے اندھیرے میں پھانسی پر لٹکادیا۔لیکن ان تما م تر تلخ حقیقتوں کوجاننے اور پاکستانی سیاست میں مفادپرست قوتوں کی مضبوط گرفت اور اثرورسوخ کا علم ہونے کے باوجودانہوں نے اپنے لیئے اسی پرخطر اور دشوار راستے کا انتخاب کیا جس پر چلنے کی پاداش میں ان کے عظیم باپ ذوالفقار علی بھٹو کو شہیدکیا گیا تھا اورآخر کار ملکی اورغیرملکی طاقتوں نے بھٹو صاحب کی سیاسی وارث اور حقیقی جانشین عظیم عوامی رہنما محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی27 دسمبر2007 کو قتل کرکے ہمیشہ کے لیئے خاموش کردیا لیکن وہ لوگوں کے دلوں سے بے نظیر بھٹو کی محبت کو نہ نکال پائے یہی وجہ ہے کہ ان کے چاہنے والے آج ان کی 64 ویں سالگرہ بہت محبت اور احترام کے ساتھ منا رہے ہیں۔

کسی کو سیاست دان بننے اور کہلانے کا شوق ہے تووہ ذوالفقارعلی بھٹو شہید اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے سیاست سیکھے جنہوں نے دنیا بھر میں اپنے مثالی کردار اور عمل سے پاکستانی سیاست دانوں کا اچھا اور قابل تقلیدامیج بنایایہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر بھٹو خاندان کا نام عموماً اورذوالفقارعلی بھٹو اور بے نظیر بھٹوکا نام خصوصاً بہت عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے اور سیاست و حکومت کے میدان میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے بعدان دونوں سیاست دانوں کو دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان دونوں عظیم سیاسی رہنماؤں کے کردار و عمل نے ان کو پاکستانی سیاست کا لازمی حصہ بنادیا ہے جس کے اثرات پاکستانی سیاست پر کل بھی تھے ،آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔

افسوس27 دسمبر2007 کی شام بھٹوخاندان کے لہو سے روشن پاکستانی سیاست کا آخری چراغ بھی بجھادیا گیا اور پاکستان دشمن عناصربے نظیر بھٹو کو بھی ابدی نیند سلانے میں کامیاب ہوگئے اوربے نظیر بھٹو کو بھی اپنی حب الوطنی، بہادری اورعوامی مقبولیت کی قیمت آخر کار اپنے خون سے ہی چکانی پڑی ۔محترمہ بے نظیربھٹو نے بھٹو خاندان کی روایات کے عین مطابق ایک محب وطن سیاسی رہنماکے طور پربڑی ولولہ انگیز زندگی گزارنے کے بعدبڑی بہادری اوردلیری کے ساتھ اس ملک وقوم کی خاطرجام شہادت نوش کرکے جو تاریخ رقم کی ہے اسے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا،انہوں نے پاکستان کی فلاح وبہبود اور استحکام کے لیئے اپنی جان کی پرواہ کیئے بغیر سیاسی جدوجہد میں فعال ترین کردار ادا کرکے پاکستانی عوام کے دلوں میں جو جگہ بنائی ہے اور جو بلند مقام حاصل کیا ہے وہ ان سے کوئی نہیں چھین سکتا،وقت اور تاریخ پاکستانی سیاست میں بے نظیر بھٹو کے کردار اور کارناموں کو ہمیشہ محفوظ رکھیں گے۔

ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمارے مفادپرست معاشرے میں بے نظیر بھٹو جیسی محب وطن لڑکی نے جنم لیا جس نے اپنی ساری زندگی عوامی حقوق کی سر بلندی اور پاسداری کے لیئے وقف کردی لیکن افسوس27 دسمبر2007 کی شام کسی بدبخت نے انہیں لیاقت باغ راول پنڈی میں عظیم الشان عوامی جلسہ عام کے بعدفائرنگ کرکے شہیدکردیااورپاکستانی قوم ایک عظیم مدبر اور محب وطن سیاسی رہنما سے محروم ہوگئی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت سے پاکستانی قیادت میں جو خلا پیدا ہوا ہے اسے شاید ہی کبھی پورا کیا جاسکے لیکن ان سے محبت اور عقیدت کرنے والے ان کی ذات اور کردار کی خوبیوں کو اپنا کر اور ان کے سیاسی فلسفے کو اپنا رہنما بناکرملک وقوم کی خدمت ضرورکرسکتے ہیں۔

عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیربھٹو شہیدکی قابل رشک اور قابل تقلید سیاسی زندگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمارے ملک کے سیاست دانوں کو بے نظیر بھٹو کے انداز فکر،فلسفے اور طرز حکمرانی کے مطابق سیاسی مور کو انجام دے کر عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور بڑھتی ہوئی نفرت کے اسباب کو دور کرنے کے لیئے سنجیدہ کوششیں کی جائیں ورنہ وہ پیپلز پارٹی جسے کوئی فوجی آمر،سیاسی اتحاد اوربیرونی طاقت ختم نہیں کرسکی اسے زرداری گروپ کا غلط طرز سیاست لے ڈوبے گا لہذا اب بھی وقت ہے کہ پیپلز پارٹی کوزرداری گرو پ سے نجات دلوا کر اس پارٹی کے بانی قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو شہیداوران کی قابل فخر بیٹی محترمہ بے نظیربھٹو شہیدکے افکاراور نظریات کے مطابق چلا یا جائے اور ’’بھٹوازم ‘‘ کو اس کی اصل شکل میں پارٹی کی بنیادی دستاویز بناکر اس کے مطابق سیاست اور حکومت کی جائے ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلم لیگ کی طرح پیپلز پارٹی میں بھی ن ،ع ،ف ، ق ،م اورذ کے نام سے دھڑے بن جائیں اور پاکستان کی سب سے بڑی عوامی سیاسی جماعت پیپلزپارٹی مختلف ٹکڑوں میں تقسیم ہوکر عوام میں اپنی مقبولیت اور اہمیت کھو بیٹھے جس کے آثار ابھی سے واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران پیپلز پارٹی کی عوامی مقبولیت میں نمایاں کمی اور پیپلزپارٹی کے کئی نامور سیاست دانوں کا پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر عمران خان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے کو معمولی بات نہ سمجھا جائے ،پیپلز پارٹی جیسی مقبول ترین نظریاتی سیاسی جماعت میں ٹوٹ پھوٹ اور عوام کا پیپلز پارٹی کے مقابلے میں پی ٹی آئی اور پی ایس پی جیسی مقبول عوامی سیاسی جماعتوں کی طرف راغب ہونا اس طوفان کا پیش خیمہ ہے جو آئندہ ہونے والے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو بہت بڑے سیاسی نقصان سے دوچار کرسکتاہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 111 Articles with 73583 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More
24 Jun, 2017 Views: 568

Comments

آپ کی رائے