" />

صدر جنرل محمدضیاء الحق:سانحہِ بہاولپور17ِاگست1988ء

(Arif Jameel, Lahore)
17ِ اگست 1988ء کو بہاولپور اور دریائے ستلج کے نزدیک بستی لال کمال میں سہ پہر کے وقت ایک تقریب ہو رہی تھی۔ ایک صاحب فریضہِ حج ادا کر کے واپس آئے تھے اور یہ تقریب اُنہی کے اعزاز میں ہو رہی تھی۔۔۔۔ایشیا ویک نے صدرضیاء الحق کے بارے میں بجا طور پر لکھا کہ " اے مین آف سرپرائز" ۔

صدر جنرل محمدضیاء الحق

17ِ اگست 1988ء کو بہاولپور اور دریائے ستلج کے نزدیک بستی لال کمال میں سہ پہر کے وقت ایک تقریب ہو رہی تھی۔ ایک صاحب فریضہِ حج ادا کر کے واپس آئے تھے اور یہ تقریب اُنہی کے اعزاز میں ہو رہی تھی۔اُس تقریب میں شامل چند معزز شخصیات نے بتایا کہ طیارہ نیچی پرواز کرتے ہوئے بہاولپور سے آرہا تھا۔اُنھوں نے دیکھا کہ طیارے نے نیچے کی طرف ایک ڈُبکی لگائی ،اس کے بعد ساتھ ہی ایسا محسوس ہوا کہ شاید پائلٹ نے طیارے کا رُخ اُوپر کی طرف موڑ دیا۔لیکن اُنھوں نے دیکھا کہ طیارے کا رُخ پھر نیچے کی طرف عین بستی کے اوپر ہو گیا ہے۔طیارہ اُن کے دیکھتے ہی دیکھتے پھر اوپر اُٹھا ۔ پھر دو قلابازیاں کھائیں۔ اسکے بعد وہ میدان میں مُنہ کے بَل گر پڑا۔زمین پر گرنے سے پہلے ہی اُس میں سے دُھواں نکل رہاتھا۔جونہی طیارہ زمین سے ٹکرایا ،وہ ایک زور دار دھماکے سے پھٹ گیااور دیکھتے ہی دیکھتے وہاںآگ بھڑک اُٹھی۔آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریب ہی کئی درخت جل کر راکھ ہو گئے اور آگ کی تپش اتنی زیادہ تھی کہ کوئی شخص آگے نہ جاپا رہا تھا۔

اس طیارے کے حادثے کی اطلاع سب سے پہلے کراچی ایئر پورٹ پر ٹھیک چار بجے سہ پہر آئی۔چند منٹ بعد سی ۔130 " پاکستان ون" کے حادثے اور تباہی کی تصدیق ہو گئی۔طیارے کے تمام مسافر وں کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہو گئی جن میں پاکستان کے صدِ ر جنرل محمد ضیاء الحق بھی شامل تھے۔

’’ میں ایک چھوٹے سے آج کے زمانے کے حساب سے مڈل کلاس سکول میں پڑھا ہو ا ہوں۔ میں نے پرائمری جماعت بوریوں کے فرش پر بیٹھ کر پاس کی اور اس کے بعدمیں نے گورنمنٹ ہائی سکول شملہ میں تعلیم حا صل کی اور چوتھی جماعت سے دسویں جماعت تک کا زیادہ عرصہ سکول ہاسٹل میں گزارہ۔ پھر عمر کے اس دور میں انسان بچہ نہیں ہوتا اور بعض چیزوں کی اس پر چھاپ لگ جاتی ہے ۔ میں نے چار سال مشن کالج میں گزارے ، لیکن ان چار سالوں کے دوران اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میں نے اللہ کا نام بھی لیا ہے او ر نمازیں بھی پڑھی ہیں‘‘۔

اپنی زبان سے اپنی تعلیمی زندگی کا مختصر سا خاکہ کھینچے والے یہ جنرل محمد ضیاء الحق تھے ، جن کی 5ِ جولائی 1977 ء تا 17ِ اگست 1988ء تک اپنی عسکری صلاحیت اور سیاسی حکمتِ عملی کی وجہ سے پاکستان کے اقتدار پر گرفت مضبوط رہی۔ اُنکی حکومتی کارگردگی مختصراًکچھ اسطرح بیان کی جاسکتی ہے:

مارچ 1977ء میں پاکستان میں عام انتخابات ہوئے تو حزب اختلاف کی جماعتوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی کو انتخابات میں دھاندلی سے نتھی کر کے ملک میں تحریک کا آغاز کر دیا جسکے نتیجے میں جولائی1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لا ء لگا کر حکومت پر قبضہ کر لیا اور بھٹو صاحب کو ایک قتل کے مقدمے میں ملوث کر کے اپریل1979 ء میں پھانسی دے دی۔ عوام میں مقبولیت حاصل کر نے کیلئے اسلامی نظام کے نفاذ کا سہارا لیا اور ساتھ میں افغانستان پر جو روسی افواج کے داخلے سے صورتِ حال پیدا ہو چکی تھی اُس میں امریکہ کا ساتھ دے کر" جہادِ افغانستان " کے نعرے کو تقویت فراہم کر دی۔پاکستان اور بھارت کے درمیان قیامِ پاکستان سے ہی کشمیر" فساد کی جڑ" بنا ہو اتھا اور اس سلسلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگیں بھی ہو چکی تھیں لہذا اب "جہادِ افغانستان" ایک اور بہت بڑا چیلنج تھا۔

جنرل اختر عبدالرحمن اُنکے اعتماد پر پورے اُترے اور افغانستان کی جنگ میں کامیابی کی نوید سُنی گئی۔ لیکن ابھی روسی افواج کا افغانستان سے باقاعدہ انخلا ء کا سلسلہ شروع ہو نا تھا کہ اس دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی تناؤ پیدا ہو گیا۔ جنرل ضیاء الحق نے اس کشیدگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ ٹیسٹ میچ د یکھنے کے بہانے بھارت کا دورہ کیا اور بھارت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی سے باہمی دلچسپی کے ا مور پر اہم مذاکرات کئے۔ جس سے حالات بہتر ہوگئے اور صدرضیاء الحق کے اُس دورے کو ’’کرکٹ ڈپلومیسی‘‘ کا نام دیا گیا ۔

جنرل ضیاء الحق نے ملک سے مارشل لا ء ختم کر کے1985ء میں اپنی مرضی کا جمہوری نظام بھی قائم کیا اور مذہبی، علاقائی و لسانی سطح پر گروپوں کو تقویت بھی بخشی۔ اس سلسلے میں اُنھوں نے 1973ء کے آئین میں آٹھویں ترمیم کر کے اپنے صدارتی عہدے کو مضبوط کیا اور پھر اپنی ہی خود ساختہ جمہوریت پر مئی1988ء میں آٹھویں ترمیم کا ایسا ہیتھوڑا مارا کہ نہ جمہوریت رہی نہ وہ ۔

صدر جنرل ضیاء الحق، جنرل اختر عبدالرحمن ، امریکی سفیر آرنلڈ رافیل ، امریکہ کے بریگیڈئیر جنرل واسم اور 26دوسرے فوجی افسران جہاز کے حادثے کا شکار ہو گئے۔بلکہ حادثے کے فوراً بعد امریکی ماہرین کی تحقیقاتی ٹیم پاکستان پہنچ گئی ۔ہفت روزہ نیوزویک نے سرورق کہانی کا عنوان لکھا " حادثہ ۔۔۔جس نے ضیاء کو مار ڈالا!" جبکہ ایشیا ویک نے صدرضیاء الحق کے بارے میں بجا طور پر لکھا کہ " اے مین آف سرپرائز" ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 160 Articles with 169841 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
17 Aug, 2017 Views: 709

Comments

آپ کی رائے