امریکہ-ایران جنگ اور پاکستان کا ناقابلِ فراموش کردار تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی-آسٹریلیا

امریکہ-ایران جنگ اور پاکستان کا ناقابلِ فراموش کردار
تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی-آسٹریلیا
شرق الاوسط کی سیاست کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ خطہ تاریخ، طاقت اور شناخت کے تصادم کا میدان ہے۔ 1948میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے یہ تنازع صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ عالمی سیاست کا مستقل موضوع بن چکا ہے۔
جب 1948میں عرب – اسرائیل جنگ شروع ہوئی تو کسی نے شاید یہ تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ اس کے اثرات دہائیوں تک برقرار رہیں گے۔ اس جنگ نے نہ صرف ایک نئی ریاست کو جنم دیا بلکہ لاکھوں فلسطینیوں کی بے دخلی کا باعث بھی بنی، جس نے ایک دیرپا انسانی اور سیاسی بحران کی بنیاد رکھ دی۔
ابتدائی سالوں میں تنازع کا انداز واضح تھا: ریاستیں آمنے سامنے تھیں، جنگیں روایتی تھیں، اور محاذ متعین تھے۔ 1967کی چھے روزہ جنگ اور1973 کی جنگ یوم کفوریایوم کیپور(کفارہ کا دن) __ عبرانی تقویم میں تشری مہینے کے دسویں دن یہودی یوم کفورمناتے ہیں۔ یہ عموماً ستمبر یا اکتوبرمیں آتا ہے۔عشرۃ التوبہ کے آخری دن یہودی ایک لمبا روزہ رکھتے ہیں جو یوم کفور کی شام کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور اگلے دن سورج کے غروب ہونے پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اس تہوار کا مقصد سال بھر کی توبہ کرنا ہوتا ہےـ چونکہ عشرۃ التوبہ کے دوران انسان دوسرے انسان سے معافی مانگتا ہے، یوم کفورتوبہ کا آخری موقع ہے جس میں یہودی باجماعت خدا سے معافی مانگتے ہیں، اپنے اعمال کی توبہ کرتے ہیں اور آئندہ سال میں نیکیاں کرنے اور گناہ سے پرہیز کرنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ یوم کفور کے روزہ میں کھانے، پینے اور ازدواجی تعلقات اورکام سے بھی پرہیز کِیا جاتا ہے۔ یہودی اس روز اپنا وقت اپنے معبد میں گزارتے ہیں یا گھر بیٹھ کر عبادت میں مشغول رہتے ہیں__ جیسی جنگوں نے نہ صرف سرحدیں بدلیں بلکہ طاقت کا توازن بھی اسرائیل کے حق میں جھکا دیا۔ لیکن وقت کے ساتھ یہ جنگیں بدلتی گئیں۔
1970کے بعد ایک نیا مرحلہ شروع ہوا جہاں براہِ راست جنگوں کی جگہ پراکسی تنازعات نے لے لی۔ لبنان، غزہ اور دیگر علاقوں میں غیر ریاستی عناصر ابھرتے گئے۔ حزب اللہ جیسے گروہوں نے اسرائیل کے لیے ایک مستقل سکیورٹی چیلنج پیدا کیا، جبکہ فلسطینی مزاحمت نے ایک نئی شکل اختیار کر لی۔
اس تمام صورتحال کا مرکز بہرحال فلسطین ہی رہا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف زمین کا نہیں بلکہ شناخت، خود ارادیت اور تاریخی حق کا بھی ہے۔ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع، ناکہ بندی، اور وقفے وقفے سے ہونے والی فوجی کارروائیاں عالمی سطح پر شدید تنقید کا باعث بنتی رہی ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل کا مؤقف یہ ہے کہ وہ ایک ایسے خطے میں موجود ہے جہاں اس کی بقا مسلسل خطرات سے دوچار ہے، اس لیے اس کے اقدامات دفاعی نوعیت کے ہیں۔
یہی وہ نقطہ ہے جہاں بحث پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ ایک طرف سکیورٹی کا بیانیہ ہے، دوسری طرف انسانی حقوق کا سوال۔ کیا اسرائیل واقعی دفاعی پوزیشن میں ہے، یا وہ اپنی عسکری برتری کو توسیع کے لیے استعمال کر رہا ہے؟ اس سوال کا سیدھا جواب شاید ممکن نہیں، کیونکہ حقیقت ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں اس تنازع نے ایک اور رخ اختیار کیا ہے، اور وہ ہے؛ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی۔ یہ ایک ایسی جنگ تھی جو بظاہر نظر نہیں آتی تھی، مگر اس کے اثرات بہت گہرے تھے۔ اسے اکثر پراکسی وارکہا جاتا ہے، جس میں سائبر حملے، خفیہ کارروائیاں، اور شام جیسے ممالک میں پراکسی تصادم شامل ہیں۔
ایران اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، جبکہ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اس کشیدگی نے شرق الاوسط کو مزید غیر مستحکم کر دیا، اوربالآخر اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر جنگ مسلط کردی جب کہ امریکہ اور اسرائیل عمان میں مذاکرات میں مصروف تھے اور قریب تھا کہ وہ کسی حتمی نتیجے پر پہنچ جائیں گے جو امریکہ، روس اور چین کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی قابلِ قبول ہو گا لیکن ایسا نہ ہو سکا اور نتیجۃً ہزاروں انسانی جانوں کا ضیا ہوا اور شہری آبادیاں تباہ و برباد ہو گئیں۔ خدشہ ہے کہ یہ جنگ جو فی الحال پاکستان کی سفارتی کاوشوں کے صلے میں رکی ہوئی ہے، کسی بڑے تصادم کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔
اس تمام منظرنامے میں عالمی طاقتوں کا کردارایک خاموش تماشائی کا رہا ہے؛ تاہم پاکستان کا کردار اور اس کی خارجہ پالیسی تاریخ کے بلند ترین مقام پر ہے۔ پاکستان اپنے خارجہ تعلقات کو بروئے کار لاکر امریکہ اور ایران کو گزشتہ دنوں ایک میز پر بٹھانے میں نہ صرف کامیاب رہا بلکہ جنگ بندی کرانے میں بھی کامیاب رہا۔ یہ الگ بات ہے کہ دونوں فریق کسی معاہدے پر پہنچے بغیر اپنے اپنے وطن لوٹ گئے۔ ان مذاکرات کے مابعد صورتِ حال کئی بار پچیدہ ہو چکی ہے اور ہر بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتےبیانات مذاکرات کو تہس نہس کردیتے ہیں۔ اس غیر یقینی صورتِ حال میں پاکستان کے حکمرانوں نے جس حکمتِ عملی کا مطاہرہ کیا ہے وہ دنیا سے اوجل نہیں لیکن بھارت کے لیے کسی رسوائی سے کم نہیں کہ بھارت اور ایران کے تعلقات ماضی میں نہ صرف مثالی رہے ہیں بلکہ ایران نے کئی مرتبہ بھارت کو پاکستان پر فوقتیت بھی دی۔ اس کے باوجود پاکستان نے ان تمام باتوں کو بھلا کر ایران کی ہر طرح سے مدد کی ہے بلکہ اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ کیا امن ممکن ہے؟ اس سلسلے میں پاکستان کا یقین پختہ ہے اور وہ اپنی امن پسند کوششوں میں شبانہ روز مصروف ہے۔ پاکستان کی ان کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی پاکستان، عمان اور روس کے دورے کے پہلے مرحلے میں اسلام آباد آچکے ہیں جب کہ امریکی وفد ایرانی وفد سے مذاکرات طے کرنے کی غرض سے پہلے سے اسلام آباد میں موجود ہے۔ نیز امریکہ کا ایک اور وفد آج پاکستان پہنچ رہا ہے، جس سے خطے میں امن کی صبح طلوع ہوتی نظر آرہی ہے لیکن مذاکرات کی ناکامی ایک بڑے تصادم کو ہوا دے گی، یہ بھی ذہن نشین رکھنا پڑے گا۔
اس میں کوئی شق نہیں کہ نظری طور پراس تنازعےکے حل موجود ہیں۔ دو ریاستی حل، سفارتی مذاکرات، اور علاقائی تعاون جیسے راستے بارہا تجویز کیے گئے ہیں۔ مگر عملی طور پر یہ راستے رکاوٹوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ اعتماد کی کمی، سیاسی مفادات، اور طاقت کا عدم توازن ایسے عوامل ہیں جو ہر کوشش کو ناکام بنا دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ شرق الاوسط کا تنازع محض سرحدوں کا نہیں بلکہ ایک گہری تاریخی اور نفسیاتی کشمکش کا نتیجہ ہے۔ جب تک انصاف، مساوات اور باہمی اعتماد کو بنیاد نہیں بنایا جاتا، اس مسئلے کا پائیدار حل ممکن نہیں۔
آج کی دنیا میں جہاں ہر علاقائی تنازع عالمی اثرات رکھتا ہے، اسرائیل اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی بھی صرف ایک مقامی مسئلہ نہیں رہی۔ اس کے اثرات عالمی سیاست، معیشت، اور سلامتی تک پھیلے ہوئے ہیں۔
المختصرشرق الاوسط ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر فیصلہ مستقبل کا تعین کرے گا۔ اگر دانشمندی، سفارت کاری اور انصاف کو ترجیح دی گئی تو امن کی راہ نکل سکتی ہے۔ بصورت دیگر، یہ تنازع نہ صرف جاری رہے گا بلکہ مزید پیچیدہ ہوتا جائے گا۔

Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 169 Articles with 249199 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More