ویسے تو کئی ایسی سیاسی شخصیات ہیں جو کہ اپنے منفرد انداز کی بدولت پاکستان بھر میں جانے جاتے ہیں چاہے پھر وہ اپنے رہن سہن کی بدولت جانے جاتے ہیں یا پھر لوگوں میں اپنے اخلاق کی بدولت۔
ہماری ویب کی اس خبر میں آپ کو بتائیں گے ایک ایسی ہی سیاسی شخصیت کے بارے میں جو کہ اپنے منفرد انداز کی بدولت جانی جاتی ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں ایک شناخت رکھتی ہیں۔ 26 اپریل 1966 کو بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں پیدا ہوئی ہیں۔ پڑھی لکھی سے تعلق ہونے کی وجہ سے شیریں مزاری کو تعلیمی لحاظ سے مشکلات پیش نہیں آئیں اور والدین نے بھی انہیں خوب سپورٹ کیا۔
بلوچ قبیلے مزاری سے تعلق رکھنے والی شیریں مزاری بلوچستان میں پلی بڑھی لیکن تعلیم کولمبیا یونی ورسٹی سے مکمل کی۔ شیریں مزاری نے لندن ہوم آف اکنامکس سے گریجوئیشن کیا جبکہ پی ایچ ڈی ڈگری کولمبیا یونی ورسٹی سے حاصل کی۔
شیریں مزاری کے والد کا نام عاشق محمد خان مزاری تھا، جبکہ وہ سیاست سے بھی وبستہ رہ چکے تھے۔ ان کے والد پڑھے لکھے ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی مسائل کو بھی اجاگر کیا کرتے تھے۔ جبکہ ان کی والدہ اب بھی حیات ہیں کن کی تصاویر وہ اکثر ٹوئیٹر پر شئیر کرتی رہتی ہیں۔
زیر نظر تصویر میں بھی وہ اپنی والدہ اور بیٹی کے ساتھ موجود ہیں۔
والد سے متعلق شیریں مزاری کہتی ہیں کہ والد نے ہمیشہ ہمیں سپورٹ کیا تھا، مجھے یاد ہے جب میں باہر پڑھنا چاہتی تھی، تو بھائی کو بھی ساتھ بھیجا کہ دونوں پڑھ کر آئیں۔ والدین کی سپورٹ کا ایک نمونہ بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ضیاء الحق کے دور میں جس یورنی ورسٹی میں میں پڑھاتی تھی وہاں کے ٹیچرز ککو گرفتار کر کیا تھا، تب میں نے بنا کچھ سوچے سمجھے اپنے گھر کے کاغذات ضمانت کے طور پر جمع کر وادیے تھے۔
اگلے روز جب جنگ میں خبر چھپی تو والد کو پتہ چلا اور انہوں نے مجھے کال کی۔ والدین نے ہمیشہ مجھے سپورٹ کیا تھا۔ جس طرح میرے والدین نے مجھے سپورٹ کیا، اسی طرح اب میں اپنے بچوں کو بھی سپورٹ کر رہی ہوں۔
جبکہ بیٹی سے متعلق کہتی ہیں کہ میرا اور بیٹی ایمان مزاری کا رشتہ خاصا مضبوط ہے، اگرچہ ہم ایک دوسرے سے مختلف موضوعات پر اختلاف رکھتے ہیں مگر ہم ایک دوسرے کے بغیر رہ نہیں سکتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ایمان کا اپنا موقف ہے مگر جس وقت کوغلط زبان کا استعمال کرتی ہے تو میں اسے ٹوکتی ہوں۔ اور وہ اپنی غلطی کو سمجھ کر اس پر معافی بھی مانگتی ہے۔
جسمانی صورت کے حوالے سے شیریں کہتی ہیں کہ میں سیاست میں بہت دیر سے آئی ہوں، لیکن جو کئی میرے جسمانی صورت پر کمنٹ کرتا بھی ہے تو میں اسے نظر انداز کر دیتی ہوں۔ جبکہ ان کا کہنا ہے کہ سماج میں اصل فرق گھر سے شروع ہوتا ہے۔
یہ بات جان کر ہو سکتا ہے آپ بھی حیران ہوں مگر شیریں مزاری نیوز اینکر بھی رہ چکی ہیں۔ سرکاری چینل پی ٹی وی پر شیریں مزاری نے بے نظیر بھٹو کے دور میں پروگرام بھی ہوسٹ کیا تھا، اُس پروگرام میں شیریں مزاری مختلف موضوعات پر آگاہی دیا کرتی تھیں۔ شروعات میں ہم آگاہی دیتے تھے اور پھر ہم موضوعات کا تجزیہ کیا کرتے تھے۔ میرے اس پروگرام کو کوئی دیکھے نہ دیکھے سی ایس ایس کرنے والے ضرور دیکھتے تھے۔ شیریں مزاری سیاست میں آنے سے پہلے قائد اعظم یونی ورسٹی میں بطور ٹیچر اور ایک اخبار کی مدیر بھی رہ چکی ہیں۔
شیریں مزاری کے دو بچے ہیں بیٹی ایمان مزاری جو کہ وکالت کی تعلیم حاصل کر چکی ہیں، جبکہ بیٹا فٹبال کے کھیل میں دلچسپی رکھتا ہے اور اسی کھیل کو پیشے کے طور پر آگے لے کر جانا چاہتا ہے۔ جبکہ شیریں مزاری کے شوہر طابش اعتبار ظاہر ایک ڈاکٹر ہیں، جبکہ وہ بھی پڑھے لکھے شخص ہیں۔ ان کا اپنا کلنک بھی ہے جو کہ اسلام آباد میں واقع ہے۔
شیریں مزاری اپنی فیملی کے ساتھ ایک خوشگوار زندگی گزار رہی ہیں۔