ملک کے سربراہ کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے اسی لئے ان کی جان کی حفاظت کرنا ہر ملک کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ کون سے ملک کے صدر یا وزیراعظم کو کس طرح کی وی آئی پی پروٹوکول دی جاتی ہے۔
وائٹ ہاؤس، امریکہ
امریکی صدر کے سرکاری گھر کو وائٹ ہاؤس کہا جاتا ہے کیونکہ اس گھر کی تمام دیواریں سفید رنگ کی ہوتی ہیں۔ وائیٹ ہاؤس کو دنیا کا سب سے زیادہ محفوظ گھر کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ اس میں اتنی سیکورٹی موجود ہے کہ وہاں کام کرنے والوں کو بھی اس کا صحیح اندازہ نہیں۔ وائٹ ہاؤس کی دیواروں کے تمام شیشے دنیا کے مضبوط ترین شیشے ہیں جن سے تیز گولی بھی ٹکرا کر آر پار نہیں ہوسکتی۔ اس کے علاوہ وائٹ ہاؤس کے ارد گرد کے سارے علاقے میں جدید ریڈار سسٹم نصب ہے جس کی وجہ اےےاگر کوئی جہاز اس علاقے میں داخل ہوتا ہے تو سسٹم سے میزائل داغ کر اسے فضا میں ہی تباہ کیا جاسکتا ہے۔
7 آر سی آر، بھارت
بھارت کا وزیراعظم جس گھر میں رہتا ہے اسے 7 آر سی آر کا نام دیا گیا ہے اور یہ دہلی میں واقع ہے۔ یہ ایک گھر نہیں بلکہ پانچ گھروں کا مجموعہ ہے جن میں سے وزیراعظم اپنی مرضی سے کسی ایک بنگلے کا انتخاب رہائش کے لیے کرتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم کی حفاظت کے لئے پانچ تہہ والا حفاظتی دستہ ہر وقت ان کے ساتھ ہوتا ہے کو جدید ہتھیاروں سے لیس ہے
وزیراعظم ہاؤس، پاکستان
وزیراعظم پاکستان ہاؤس اسلام آباد میں واقع ہے۔ لیکن موجودہ وزیراعظم عمران خان اسلام آباد میں ہی اپنے گھر بنی گالا میں رہتے ہیں جہاں معمولی سیکورٹی ہوتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت بناتے ہی وزیراعظم کے لیے موجود اسپیشل بلٹ پروف گاڑیاں بیچ دیں تاکہ وہ پیسہ عوام پر خرچ کیا جاسکے۔ یہی نہیں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے بتایا کہ ان کے شوہر کے پاس صرف تین سے چار جوڑے شلوار قمیض ہیں اور وہ ذاتی طور پر کافی سادہ مزاج رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ وزیراعظم ہاؤس میں رہ کر ملکی خزانے کا پیسہ خود پر استعمال نہیں کرتے
لیکن وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ایک شخص کالے رنگ کا بیگ تھامے چلتا ہے جو دراصل بیگ نہیں بلکہ بٹن دبانے پر بلٹ پروف شیلڈ بن جاتی ہے جسے وزیراعظم کو کسی خطرے سے بچانے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے
نواز شریف
پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کا خاندان وزیراعظم ہاؤس اور ہر طرح سے مالی فوائد حاصل کرنے کے لئے کافی مشہور رہے۔ تین بار وزیراعظم بننے والے نواز شریف وزیراعظم ہاؤس میں ہی رہتے تھے جہاں صرف پروٹوکول کا خرچہ ہی اٹھاون کروڑ سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ کہیں جانے کے لیے سخت ترین حفاظتی دستے اور کئی بلٹ پروف گاڑیوں کا استعمال عام بات تھی