مجھے لگ رہا تھا کہ بیٹے کو کچھ ہو گیا ہے ۔۔ شہید اعتزاز حسن کے والد کس ڈر کی وجہ سے اب نوکری نہیں کر پا رہے؟

image

دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو کہ اپنی جان کا نظرانہ دے کر بھی اور شہید ہو کر بھی دوسروں کو محفوظ رکھتے ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسے ہی جانباز طالب علم اعتزاز حسن کے بارے میں بتائیں گے۔

6 جنوری 2014 کی صبح ہنگو والوں کے لیے کچھ اچھی ثابت نہیں ہوئی تھی، کیونکہ اس دن ایک لخت جگر نے اپنی والدہ کا دامن چھوڑ کر کئی لکت جگروں کو ان کی والدہ سے واپس ملوا دیا تھا۔

ہنگو کے ابراہیم زئی اسکول میں اس وقت خودکش بمبار داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا جب اسمبلی ہال میں 2 ہزار کے قریب بچے موجود تھے۔

بچے اسمبلی ہال میں صبح کی روز مرہ کی پریکٹس میں مشغول تھے کہ عین اسی وقت گمنام ستارہ اعتزاز حسن بھی اسکول کی جانب بڑھ رہا تھا، اسکول کی طرف مشکوک شخص کی حرکت نے اعتزاز کو چوکنا کر دیا تھا اور اعتزاز فورا اس خودکش بمبار کی طرف دوڑا۔

خودکش بمبار کو اعتزاز نے دبوچ لیا تھا، یہ بھی پرواہ نہیں کی کہ اس سے اس کی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ مگر شاید بہادر ماں باپ کا حوصلہ بیٹے کے اندر تھا جب ہی بیٹے نے اس خودکش بمبار کو مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔

اور اسکول سے کچھ دور ہی اسے ناکام بنا دیا، بم تو پھٹ گیا مگر اعتزاز نے اپنی جان کا نظرانہ دے کر کئی گھروں کے چراغوں کو بھجنے سے بچا لیا۔

اعتزاز کے والد بیٹے کی شہادت پر کہتے ہیں کہ جب مجھے شہادت کا علم ہوا تو میں نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے شہید کا والد بنا دیا۔

شہید کے والد بتاتے ہیں کہ اعتزاز کی شہادت سے پہلے میں دبئی میں تھا اور اس طرح ہمارا گھر چل رہا تھا، مگر اعتزاز کی شہادت کے بعد وہ پاکستان آ گئے تھے، اور اب کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ جبکہ اعتزاز کی شہادت کے بعد بہت سے سیاست دان آئے مگر کوئی بھی نوکری کی مدد اور دیگر سپورٹ پر کچھ نہیں کر سکا۔

اعتزاز کے والد بیٹے کی شہادت کے بعد سے کام اسی لیے نہیں کر پا رہے ہیں کیونکہ انہیں بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ کلعدم جماعت کی جانب سے اعتزاز کی فیملی کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

یہ انٹرویو انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں دیا تھا۔

اعتزاز حسن کے بھائی بتاتے ہیں کہ تین دوست اعتزاز، شاہزیب اور زوہیب اس دن اسکول جانے کے لیے لیٹ ہو گئے تھے، انہیں ڈر تھا کہ کہیں ہیڈ ماسٹر انہیں سزا نہ دیں۔ تینوں دوست جلد از جلد کلاس میں داخل ہونا چاہتے تھے تب ہی شاہزیب کی نظر ایک مشکوک لڑکے پر پڑی، جس کی عمر 17 سے 18 سال تھی۔

شاہزیب نے جب اس پوچھا کہا س اسکول کا یونیفارم کیوں پہنا ہے اور یہاں کیا کر رہے ہو، اس پر اس نے کہا کہ میں داخلہ لینے آیا ہوں لیکن چونکہ تینوں دوست جانتے تھے کہ یہ داخلے کا مہینہ نہیں ہے تو تینوں کا شک مزید بڑھتا گیا، بالآخر شاہزیب کو اس پر شک ہو گیا کہ یہ خودکش ہے اور وہ چلانے لگا خودکش، خودکش ، جس پر اعتزاز نے اس مشکوک شخص کو دبوچ لیا اور ایک زو دار دھماکے نے پورا علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔

اعتزاز کے بھائی مجتبیٰ کہتے ہیں کہ والدہ سہم گئیں اور وہ کہہ رہی تھیں کہ میرے اعتزاز کو کچھ ہو گیا ہے وہ غیر محفوظ ہے۔ یہ سب بتاتے ہوئے خود بھائی کی آنکھوں میں بھی آنسوں تھے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US