جب لڑکی شادی کے بعد پہلی بار اپنے سسرال آتی ہے تو اس کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح شوہر کے گھر والوں کے دل میں جگہ بنانی ہے اور ان کی ہر خاطر خواہ خدمت کرنی ہے۔
لیکن اس کے باوجود کئی گھرانوں میں بہو کے ساتھ وہ سلوک کیا جاتا ہے جس کی وہ حقدار نہیں کہلاتی۔
بیشتر گھروں میں ساس اپنی بہوؤں کو طرف داری کرنے کے بجائے رشتہ داروں سے اس کی شکایت کرنے لگ جاتی ہیں جو بہو کے دل پر گراں گزرتی ہے۔ کبھی گھر کے کاموں میں نقص نکالتی ہیں تو کبھی کسی بات پر کچھ کہہ دیتی ہیں، جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔
جب بہو کو گھر لے آئیں تو اسے ایڈجیسٹ ہونے کا وقت دیں۔ 20 سے 22 سال کی لڑکی سے آپ پچاس سال کی عورت کی سمجھداری کی امید ہر گز نہ رکھی جائے۔
جس طرح گھر میں موجود آپ کی بیٹی آپ کو بچی لگتی ہے اِسی طرح بہو کو بھی بچی سمجھ کر اس کی نادانیوں کو نظر انداز کیا جانا چاہیئے۔
اکثر گھرانوں میں آج جس لڑکی سے آپ ایک بیوی بہو بھابھی کی ساری زمہ داریاں پوری کرنے کی امید رکھتے ہیں، اُس کے لیے یہ سب کافی مشکل ہوتا ہے۔
سسرال والے بہو بیاہ کر لائیں اور بیٹی بنا کر رکھیں۔ مائیں بیٹیوں کو یہ تربیت دیں کہ شوہر اور سسرال والوں کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔ دل ایسے ہی جیتے جاسکتے ہیں۔
بہو بھی اپنے والدین کے لیے بچی ہی تھی ساس ماں نہیں بن سکتی تو کیا ہوا اس کی دوست بن اسے سمجھایا جا سکتا ہے۔ کبھی کبھی آپ اپنی بہو کو کہہ سکتے ہیں کہ آجاؤ بیٹی سر میں مالش کرتی ہوں۔
اس کے علاوہ اگر بہو کام سے فارغ ہو تو اس کا ماتھا پیار سے چوم کر اتنا کہہ دیں میری بیٹی بہت تھک گئی ہوگی اس بات سے بہو کا سارا تناؤ دور ہوجائے گا۔
آپ جب کھانا کھانے لگیں تو بہو کو آواز دے کر اپنے پاس بیٹھائیں۔ بیٹے کے سامنے بہو کی تعریف کیا کریں۔ اس طرح وہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے خوش ہو کر دل و جان سے آپکی بن جائے گی اسکی حوصلہ افزائی کریں اس سے گھر کے معاملات میں مشورہ کریں احساس دلائیں کہ اسکے بنا اپکا گھر ادھورا ہے۔