سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز اور تصاویر دیکھی ہوں گی جس میں منفرد اور دلچسپ معلومات موجود ہوتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
بلوچستان میں ایک ایسا قبرستان واقع ہے جہاں آج بھی ایسی قبریں موجود ہیں جو کہ صدیوں پرانی ہیں، ہو سکتا ہے یہ خبر ہم سب کو عام لگے، مگر ان قبروں پر کسی کا نام نہیں لکھا ہے بلکہ ان کی پہچان کا طریقہ کار ہی مختلف ہے۔
کوئٹہ شہر سے کچھ فاصلے پر مستونگ کے علاقے کردگاب میں واقع یہ قبرستان آنے والوں کو ایک ایسی داستان سنا رہا ہے جسے محسوس کر کے ہر کوئی خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
تقربیا 30 ایکڑ کے رقبے پر پھیلا یہ قبرستان اس لیے بھی منفرد ہے کہ یہاں درختوں کا نام و نشان نہیں ہے جبکہ درختوں کے ساتھ ساتھ یہاں نہ آدم ہے اور نہ آدم ذات۔
اس قبرستان میں جانے والوں کو دور دور تک سوائے چٹیل پہاڑوں کے اور لمبے پتھروں کے کچھ نہیں دکھائی دیتا ہے۔ یہاں سے گزرنے والوں کا گمان ہوتا ہے کہ یہ لمبے لمبے درخت ہیں جنہیں کاٹا جا چکا ہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔
دراصل یہ درخت نہیں بلکہ قبر کے کتبے ہیں، یہ کتبے پتھر سے بنائے گئے ہیں۔ ان کتبوں کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ الگ الگ شکل کے بنائے جاتے ہیں۔ کسی کا قد بڑا ہوتا ہے تو کسی کے کتبے کا پتھر اس طرح تراشا جاتا ہے کہ منفرد دکھائی دے۔
ان میں سے بیشتر پتھروں کا قد 18 فٹ تک ہے، بی بی سی کی جانب سے اپلوڈ کی گئی اس ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ مختلف شکلوں کے کتبے دراصل قبروں کی شناخت کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ اس دور میں قبر کے کتبوں پر نام وغیرہ نہیں لکھے جاتے تھے بلکہ مختلف شکل کے کتبوں سے گھر والے اپنے پیاروں کی قبر کو پہچانتے تھے۔
مقامی محقق سیف اللہ سیف بتاتے ہیں کہ اس قسم کے پتھروں پر موسم اثر انداز نہیں ہو سکتا ہے، اسی لیے یہ پتھر آج تک اسی طرح اپنی اصل شکل میں موجود ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ چونکہ اس علاقے سے تین سے چار تہذیبوں کا گزر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے آثار اب بھی موجود ہیں۔
ان پتھروں کو قبرستان تک اونٹوں پر لاد کر لایا جاتا تھا، یہ قبرستان پچھلے تین سو سال سے قائم ہے۔