سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز اور تصاویر دیکھی ہوں گی جس میں کچھ ایسی معلومات موجود ہوتی ہیں جو کہ بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
سعودی عرب کی وادی جن بھی سوشل میڈیا پر کافی چرچہ میں رہتی ہے، اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ وادی اپنے نام کے ساتھ ساتھ غیر معمولی واقعات کی بنا پر مشہور ہو رہی ہے، یہ ویڈیو Ubaid hassan/vlogs نامی یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کی گئی تھی۔
وادی جن یا وادی بیضاء سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ سے شمال مشرق کی جانب 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ نیم دائرے کی شکل میں ہے اور اس کے اطراف میں سیاہی مائل پہاڑی سلسلہ ہے، جس کے بیچوں بیچ یہ وادی ایک سفید پیالے جیسی معلوم ہوتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے ’’وادی بیضاء یعنی سفید وادی‘‘ کہلاتی ہے۔
وادی جن سے متعلق کئی نظریے سامنے آتے ہیں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ قدرت کا ایک کرشمہ ہے، جو اپنے دیکھنے والوں کو حیران کر دیتا ہے، اسی طرح کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں جنات کا بسیرا ہے اور انہیں پسند نہیں ہے کہ کوئی انسان یہاں آئے اسی لیے وہ گاڑیوں کو خود چلا کر یہاں سے نکالتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور نظریہ یہ بھی ہے ان پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ میں مقناطیسی طاقت موجود ہے جو کہ یہاں سے گزرنے والی گاڑیوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
چونکہ اس مقام پر کوئی عمارت موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ ڈھلان کس طرف ہے اور اونچائی کس طرف۔ سائنس اس حوالے سے ایک منفرد نظریہ رکھتی ہے، سائنس کہتی ہے کہ چونکہ یہاں صرف چٹیل پہاڑ ہی ہیں اس لیے اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ انسان ڈھلان کی طرف جا رہا ہے یا اونچائی کی طرف۔ ہماری بصارت دھوکا کھا جاتی ہے اور جس جگہ کو ہم بلندی سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ دراصل کچھ نشیب پر واقع ہوتی ہے
ایسے کئی مقامات دنیا میں موجود ہیں جہاں ایسی ہی صورتحال ہوتی ہے۔ ان مقامات کو گریویٹی ہلز، مسٹری پوائنٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے قریب بھارت اور چین کے درمیان واقع لداخ کے علاقے لیہ میں بھی یہ صورتحال نظر آتی ہے
سوشل میڈیا پر وادی جن سے متعلق کئی ویڈیوز موجود ہیں، جس میں گاڑیوں کو، پانی و خود بخود اونچائی کی طرف بڑھتے دیکھا جا سکتا ہے۔