اتنا زیادہ حق مہر کیوں بہن؟ ہم آپ کی بیٹی کو اپنی بیٹی بنا کر لے جارہے ہیں۔ کیا آپ کو ہم پر اعتبار نہیں؟ "
خالدہ نے ہونے والی بہو کا حق مہر طے کرتے ہوئے کہا
یہ بات نہیں ہے مگر مہر تو لڑکی کا حق ہوتا ہے جو اسے ملنا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہمارے مذہب میں اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔
" مگر ایک لاکھ تو بہت زیادہ ہیں ہمارے ہاں حق مہر کم رکھا جاتا ہے رکھا جاتا ہے کیونکہ شریعت یہی کہتی ہے"
خالدہ نے اپنا نقطہ پیش کیا
"دیکھو بہن آپ کا بیٹا ماشاءاللہ لاکھوں کماتا ہے اور پھر آپ لوگوں نے جہیز بھی اپنے بیٹے کے شایانِ شان مانگا تھا۔ اگر آپ کو حق مہر میں شرع کا خیال آرہا ہے تو یہ جہیز مانگتے ہوئے بھی سوچ لینا چاہئے تھا جو کئی لاکھ کا آیا ہے"
راشدہ نے بھی لگی لپٹی رکھے بغیر خالدہ کو جتا دیا
ہنہ اتنا زیادہ حق مہر رکھا ہے جیسے خدانخواستہ طلاق ہو ہی جائے گی" خالدہ نے گاڑی میں بیٹھ کر بلند آواز میں سب سے کہا
حق مہر کتنا ہونا چاہیے
یہ جملے آپ نے ہر اس گھر میں سن رکھے ہوں گے جہاں شادی کے معاملات طے کیے جارہے ہوتے ہیں۔ عام طور پر لڑکے والے حق مہر کا سن کر بھڑک اٹھتے ہیں جیسے لڑکی والوں نے پتا نہیں کون سا مطالبہ کردیا ہے۔ آئیے آج اس موضوع پر بات کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ حق مہر کتنا ہونا چاہئے
شرعی حق مہر
p>دالافتاع کے مطابق مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ہے، چاندی کے حساب سے اس کی مقدار تیس گرام چھ سو اٹھارہ ملی گرام (30.618) اور تولہ کے حساب سے 31.5 ماشہ چاندی بنتی ہے۔ آج کل کی کی قیمت کے اعتبار سے یہ رقم ایک سو اکتیس تولہ تین ماشہ چاندی کی قیمت تقریباً دو لاکھ چار سو اٹھارہ (200,418.75) روپے بنتی ہے۔ اسی کو مہر فاطمی بھی کہا جاتا ہے اور اتنا ہی مہر رکھنا مستحب و پسندیدہ ہے۔
حق مہر سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے، کہ مہر کی مقدار اتنی کم بھی نہیں ہونی چاہیے کہ بالکل معمولی سی ہو اور بہت زیادہ مہر مقرر کرنا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں تھا
جہیز اور اسراف سے بچیں
لیکن ساتھ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اسلام میں جہیز کے بے سروپا اخراجات لڑکی والوں کے کندھے پر ڈالنا اور نکاح کے مبارک عمل میں بے جا اسراف کرکے پیسے اڑانے کو سخت ناپسند کیا گیا ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ حق مہر طے کرتے ہوئے خاندانی روایات کے بجائے فریقین کی مرضی، مرد کی استطاعت اور شریعت کو ملحوظ خاطر رکھا جائے