سوشل میڈیا پر ایسے کئی تاریخی موضوع موجود ہیں جن میں قیمتی معلومات موجود ہوتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو روس کے آخری بد قسمت بادشاہ کے بارے میں بتائیں گے۔
روس کے آخری بادشاہ زار نکولس ثانی کا شمار ان بادشاہوں میں ہوتا ہے جن کی سربراہی میں ملک میں صورتحال انتہائی خراب تھی، یہ آخری بادشاہ اس حد تک مجبور تھے کہ انہیں ناکام بادشاہ کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔
زار نکولس ثانی کے والد شہنشاہ سوئم تھے جو کہ کانگریس پالینڈ کے بادشاہ اور فن لینڈ کے شہزادے بھی تھے۔ زار نکولس کے والد کی وفات کے بعد انہیں بادشاہ بنایا گیا تھا، والد کی وفات کا صدمہ اور خود نا تجربہ کاری نکولس کو ڈرا رہی تھی اور وہ اس ذمہ داری کو لینے سے کترا رہے تھے۔
نکولس اس لیے بھی مشہور تھے کہ جب 1904 میں جاپان نے روس پر حملہ کی تو مجبورا نکولس کی فوج کو بھی گھٹنے ٹیکنے پڑے، اسی طرح جنگ میں شکست کو سامنے دیکھ کر بادشاہ نے جاپان سے امن معاہدے میں پہل کی۔
اسی طرح جنوری 1905 میں سینٹ پیٹربرگ میں فادر جیورج گاپون کی سربراہی میں پُر امن عوامی مظاہرے کیے جا رہے تھے جو کہ نکلولس کو نا گوار گزرے۔ اور پھر عوام پر فوج کو چڑھائی کا حکم دیا، اس دن کو خونی سنڈے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ اتوار کے روز ہزاروں لوگوں کو قتل کیا گیا تھا۔
لیکن 1918 میں ایک انقلاب کے دوران بالشیوک جماعت کے حامیوں نے جو کہ نکولس سے اختلاف رکھتے تھے، نے نکولس بادشاہ، ان کی اہلیہ لیگزینڈرا فیودوروفنا اور ان دونوں کے پانچ بچوں اناستازیا، ماریا، تاتیانا، اولگا اور الیکسی کو قتل کر دیا تھا۔ بالشیوک دراصل ایک سیاسی تنظیم تھی جو کہ بائیں بازو کا نظریہ رکھنے والی تنظیم تھی۔
1918 میں ہونے والی سول وار میں نکولس اور اہلیہ سمیت بچے مارے گئے تھے۔ سالوں بعد روس میں تحقیقات کی گئی تھیں اور ایک بار پھر آخری بادشاہ کا نام سب کی زبان پر تھا۔
دراصل روسی جنگلات سے کچھ انسانی ہڈیاں ملی تھیں جن کے بارے میں گمان تھا کہ یہ روس کے آخری بادشاہ کے خاندان کی ہیں۔ 37 مختلف فرانزک ٹیسٹ کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یہ انسانی ہڈیاں روس کے آخری بادشاہ نکولس، ان کی اہلیہ اور بچوں کی ہیں۔
2020 میں کمیٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ ''کئی ماہرین کی رائے اور تحقیقات کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ انسانی باقیات نکولس ثانی، ان کے اہل خانہ اور ان کے قریبی ساتھیوں کی ہیں۔‘‘
اس تحقیقات کمیٹی کے ایک رکن مارینا مولودستوفا کا کہنا تھا کہ مالیکیولر جنیٹک ماہرین نے نکولس کے بیٹے اور بیٹی کی باقیات کی شناخت کی۔
روس کے اس بادشاہ اور ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر میں ایک چیز ممثالت رکھتی تھی وہ یہ کہ دونوں آخری بادشاہ تھے اور دونوں ہی آخری وقت میں مشکلات کا شکار رہے۔ لیکن روس کے بادشاہ کو تو آخری رسومات اور تدفین بھی میسر نہ آئی، بعدازاں انہیں دفنایا گیا۔