اس عمارت میں انگریزوں نے سزائے موت دی تھی ۔۔ جانیے ایمپریس مارکیٹ کی پرسرار کہانی کے بارے میں، جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

image

پاکستان میں ایسی کئی تاریخی عمارتیں ہیں، جو کہ اپنی منفرد اور دلچسپ کہانی کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایمپریس مارکیٹ کے بارے میں بتائیں گے۔

ایمپریس مارکیٹ کا شمار ان عمارتوں میں ہوتا ہے، جو کہ اپنی مثال آپ ہے۔ ایمپریس مارکیٹ پچھلے 150 سال سے قائم ہے لیکن مختلف دور میں اس عمارت نے بہت کچھ دیکھا ہے۔

1886 میں بمبئی کے گورنر جیمز فرگیوسن نے اس عمارت کی جسے آج ایمپریس مارکیٹ کہا جاتا ہے، بنیاد رکھی تھی۔ یہ عمارت دراصل برطانوی فوج کے لیے بنائی گئی تھی، جسے کنٹونمنٹ ایریا کہا جاتا تھا۔ چونکہ 150 سال پہلے یہاں کھلے میدان ہوا کرتے تھے یہی وجہ تھی آرمی پریڈ بھی اسی مقام پر ہوا کرتی تھی۔

لیکن جب 1857 کی آزادی کا دور دورہ تھا، تو اس وقت ایمپریس مارکیٹ بھی کافی چرچہ میں تھی، کیونکہ برطانوی فوج نے باغی سپاہیوں کے جسم کے ٹکرے ٹکرے کر دیے تھے، آج جہاں ایمرپیس مارکیٹ واقع ہے کبھی یہاں سر عام سپاہیوں کی لاشوں کو لٹکا کر انہیں عبرت کا نشان بنایا گیا تھا۔

لیکن آزادی کے بعد اس عمارت کو مارکیٹ میں تبدیل کر دیا گیا اور اس عمارت کو روزمرہ کی چیزیں فروخت کرنے کے لیےمختص کر دیا گیا۔

دیوہیکل دروازوں والی ایمپریس مارکیٹ کا شمار برطانوی انفراسٹرکچر کی بہترین عمارتوں میں ہوتا ہے، اس عمارت نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب تین مرتبہ ملک میں مارشل لاء لگا، چونکہ یہ علاقہ مصروف ترین علاقہ ہے، اسی لیے یہاں ہر قسم کے لوگ آتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ یہاں بسیں بھی بڑی تعداد میں ہوا کرتی تھیں، ایک کے بعد ایک بس لائن لگائے کھڑی ہوتی تھیں، لیکن اب انسداد تجاوزات آپریشن کے بعد یہاں اگرچہ ایمپریس مارکیٹ کی خوبصورتی کو بحال کر دیا گیا ہے مگر اب بھی اندرونی طور پر یہ عمارت توجہ کی طلب گار ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US