"میں کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہتا تھا۔ اپنے بھائی پر بھی نہیں اس لئے جنگل میں رہنے لگا"
یہ الفاظ کسی قصے کہانی کا حصہ نہیں بلکہ ایک 79 سالہ شخص کی اصل زندگی کی داستان ہیں۔ ان کا نام اوہ گو سینگ ہے اور وہ سنگاپور کے ایک جنگل میں پچھلے تیس سال سے رہ رہے ہیں۔ آخر ان کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ انھیں اپنی زندگی کا بڑا حصہ جنگل میں گزارنا پڑا؟ آئیے جانتے ہیں
جنگل میں چوہے تنگ کرتے تھے
1980 کی دہائی میں سنگاپور میں کئ پرانے گاؤں دیہات ختم کرکے نئے اور خوبصورت شہر آباد کیے گئے تھے ان میں ایک گاوں اوہ کا بھی تھا۔ گاؤں والوں کو ٹوٹے پھوٹے گھر کے بدلے ایک ایک فلیٹ دیا گیا لیکن اوہ کو کوئی رہائش نہیں دی گئی البتہ ان کے بھائی نے اوہ کو اپنے ساتھ رہنے کا کہا۔ اوہ کی خوددار طبیعت نے یہ بات گوارا نہیں کی اور انھوں نے بھائی کا گھر چھوڑ دیا ۔ اس کے بعد اوہ جنگل چلے گئے جہاں انھوں نے جھونپڑی بنائ اور زندگی کے تیس قیمتی سال وہاں گزار دیے۔ اوہ جنگل میں لکڑیوں پر کھانا پکاتے تھے اور وہاں انھیں جو چیز سب سے زیادہ پریشان کرتی تھی وہ چوہے تھے جو ان کے کپڑے بھی کاٹ ڈالتے تھے
بیوی اور بیٹی بھی ہے
اوہ گو سینگ کی ایک بیوی اور ایک 17 سالہ بیٹی بھی ہے جن سے ملنے وہ کبھی کبھار شہر جاتے ہیں۔ گزر بسر کے لیے اوہ جنگل میں اگائی سبزیاں بیچتے ہیں اور اسی دوران جب ان سے ایک گاہک جھگڑا کررہا تھا اوہ کی ویڈیو وائرل ہوگئی اور دنیا کو پتہ چلا کہ کس طرح ایک انسان آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی گمنامی کی زندگی جی رہا ہے۔
30 سال بعد اوہ کی زندگی میں تبدیلی
حکومت کی جانب سے اوہ کو اب ایک فلیٹ دیا جاچکا ہے۔ اوہ کہتے ہیں کہ میں نے بہت کھایا اور کئی کھانے تو ایسے تھے جنھیں میں نے برسوں سے نہیں چکھا تھا۔ ہ ’30 سال سے بھی زیادہ عرصے کے بعد میں نے پہلی بار ٹیلی ویژن دیکھا۔ مجھے بہت مزا آیا
جنگل کی زندگی بھول نہیں سکتا
اوہ کو فلیٹ میں رہنا پسند ہے لیکن وہ اپنی جنگل کی زندگی کو بھولے نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں وہان سالوں رہا، اسی لیے مجھے اس کی یاد آتی ہے اب بھی مجھے جب وقت ملتا ہے میں جنگل میں جاتا ہوں۔ میں صبح تین بجے اٹھتا ہوں اور کام شروع کرنے سے پہلے کپڑے وغیرہ تبدیل کر کے اپنی سبزیاں چیک کرنے جاتا ہوں"