شام کا وقت تھا۔ سڑک پر ٹھیلے اور ٹریفک جام کی وجہ سے لوگ کافی دیر سے ایک عذاب میں مبتلا تھے۔ لیکن ان سب سے کہیں زیادہ تکلیف میں بیٹھاتھا وہ لڑکا جس کا باپ ہوش و خرد سے بیگانہ ایمبولینس کی اسٹریچر پر تھا۔ آکسیجن ماسک لگا تھا لیکن فوری ٹریٹمینٹ نہ ملنے سے کچھ بھی ہوسکتا تھا۔
اس کے علاوہ بے ہنگم ٹریفک کے جھٹکوں سے ایمبولینس ہلتی تو لڑکے کے والد کا جسم بے ہوشی میں بھی تکلیف سہتا دکھائی دیتا۔ اس بے بسی کی کیفیت میں گھرا وہ بچہ کچھ نہیں کرسکتا تھا سوائے دعا اور لوگوں سے اپیل کرنے کے کہ اس کی ایمبولینس کو راستہ دیں تاکہ اس کے باپ کی جان بچ سکےتھوڑی دیر ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بعد لڑکے کے والد نے ایمبولینس میں ہی دم توڑ دیا
کسی کے ماں باپ تو کسی کی اولاد لوگوں کی بے حسی کی نظر ہوجاتی ہے
یہ واقعہ صرف ایک بچے اور اس کے والد کے ساتھ نہیں بلکہ شہر کے اکثر لوگوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ کہیں ایمبولینس میں کسی کے ماں باپ دم توڑ دیتے ہیں تو کسی ماں کی گود اجڑ جاتی ہے۔ جانے کتنے ہی خاندان ہوں گے جو محض اس لیے برباد ہوگئے کیوں سڑک پر گاڑیاں چلاتے بے حس لوگوں نے ایمبولینس میں موجود ان کے لب دم پیاروں کو بروقت راستہ نہیں دیا تھا۔
مریض کے پاس جان بچانے کے لیے صرف 15 منٹ ہوتے ہیں
بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو کے مطابق ریسکیو ملازمین کا کہنا ہے کہ ایمبولینس میں موجود زیادہ تر مریضوں کے پاس جان بچانے کے لئے صرف 15 سے 20 منٹ ہوتے ہیں کس میں اگر انھیں طبی امداد نہ ملے تو ان کی جان چلی جاتی ہے اس کے باوجود لوگ ایمبولینس لو راستہ نہیں دیتے اور مریض ایمبولینس میں ہی دم توڑ دیتے ہیں
قانون اور ضمیر
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں ہی سڑکوں کی حالت خراب اور ٹریفک کا برا حال ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہمیں گاڑی چلاتے ہوئے انسانیت کے بنیادی فرائض نہیں بھولنے چاہیئں۔ سڑک پر ایمبولینس کو دیکھ کر راستہ دینا نہ صرف قانون کا احترام کرنا ہے بلکہ انسانی فرض ہے کیونکہ اگر آپ کے راستہ نہ دینے سے مریض کو جانی نقصان ہوگیا تو شاید آپ قانونی گرفت سے تو پھر بھی بچ جائیں لیکن ضمیر اور خدا کی پکڑ سے نہیں بچ سکیں گے۔