آج کل پارلرز میں زیادہ تر خواتین ایسی موجود ہوتی ہیں جن کو چہرے پر بالوں کا مسئلہ ہوتا ہے اور وہ انھیں ویکس یا تھریڈنگ کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ بہت کم خواتین اس بات سے واقف ہوتی ہیں کہ زیادہ تر یہ مسئلہ پی سی او ایس یعنی پولیسسٹک اووری سینڈدوم کا ہے۔ پولی سسٹک اووری سینڈدوم میں اووری مردانہ ہارمون اینڈروجنز کا اخراج زیادہ کرنے لگتی ہے جو خواتین میں اس سے پہلے کم مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔
آج کے اس آرٹیکل میں ہم اس بیماری کے بارے میں جانیں گے کہ کیا اس کا علاج ممکن ہے؟ اگر نہیں تو وہ کون سی غذائیں ہیں جو اس بیماری میں ہماری مدد کرسکتی ہیں؟ اس بارے میں ہماری رہنمائی کریں گی ڈاکٹر عائشہ۔ تو آئیے شروع کرتے ہیں
بروقت تشخیص ضروری ہے
ڈاکٹر عائشہ کا کہنا ہے کہ عام طور پر ایسی خواتین جن کے بال بہت زیادہ نکل رہے ہوتے ہیں یا وزن کسی صورت کم نہیں ہورہا ہوتا انھیں اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ پی سی او ایس کا شکار ہیں اور جب وہ علاج کے لئے آتی ہیں تو ان کا ٹیسٹ کروایا جاتا ہے
بے اولادی بھی ہوسکتی ہے لیکن اس سے بچنا ممکن ہے
ڈاکٹر عائشہ نے مزید بتایا کہ اس طرح کے مسائل کا شکار خواتین کو اپنی علامات پر غور کرنا چاہیے۔ چہرے پر بال، وزن کا بڑھنا، ماہواری میں رکاوٹ، بال. پتلے ہونا یا گرنا، چہرے پر دانے یہاں تک کہ اکثر بے اولادی بھی اسی بیماری کی وجہ سے ہوتی ہے اور بروقت تشخیص سے اس کا علاج تو بہرحال ممکن نہیں لیکن صورت حال کو بہتر بنایا جاسکتا ہے اور اس کے نقصانات سے بچا جاسکتا ہے۔ پی سی او ایس اگرچہ لاعلاج ہے لیکن بے اولادی سمیت دوسرے تمام مسائل کو ٹریٹمنٹ کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے
ورزش کی اہمیت
اس کو کنٹرول کرنے کے لئے ڈاکٹر اکثر وہ دوائیں بھی تجویز کرتے ہیں جو ذیابیطس کے مریضوں کو دی جاتی ہیں اس کے علاوہ اس کے کنٹرول کے لیے ورزش کرنا بھی ضروری ہے۔ خواتین کو اپنے ہارمونز کے غیر معمولی مسائل کو حل کرنے لئے کسی طبی ماہر سے لازمی مدد لینی چاہئے۔