خواتین خریداری کرنے میں بہت وقت لگاتی ہیں۔ ان کو اپنی میچنگ کی ہر چیز خریدنی ہوتی ہے، جیسے کپڑے، ویسی چپل، ویسی چوڑیاں، جیولری، ہینڈبیگز وغیرہ سب ہی کچھ میچنگ کا خریدتی ہیں جس میں ظاہر ہے کہ وقت زیادہ لگ جاتا ہے۔ کبھی رنگ نہیں ملتا تو کبھی ڈیزائن نہیں سمجھ آتا۔
اگر صرف کپڑوں کی خریداری کرنے کی بات آ جائے تو خواتین کو کپڑے ہی لینے میں وقت لگ جاتا ہے۔ کسی سوٹ کا کپڑا اچھا نہیں لگتا، کسی کا ڈیزائن کچھ خاص معلوم نہیں ہوتا، کوئی پُرانا ڈیزائن لگتا ہے۔ کسی کی کڑھائی اچھی نہیں ہوتی۔ ان تمام باتوں سے ہٹ کر کچھ ایسی خواتین بھی پائی جاتی ہیں جو یہ دیکھ کر کپڑے کا انتخاب کرتی ہیں کہ ان کے جیسے کپڑے کوئی دوسری عورت نہ پہنے۔ یہ تو غضب ہے کہ اس جیسا کوئی نہ پہنے۔ لیکن یہ اکثر لڑکیوں اور خواتین کی عادت ہوتی ہے کہ سب سے منفرد نظر آنا ہے۔
بہرحال کسی نہ کسی طرح ان کی شاپنگ تو مکمل ہو ہی جاتی ہے مگر بیویوں کو ساتھ شاپنگ پر لے جانے والے مرد حضرات بیچارے تھک جاتے ہیں کہ یہ کیا مصیبت ہوگئی۔ گھنٹے گزر گئے اب تک بیگم کی شاپنگ مکمل نہ ہوئی۔ کئی مرتبہ تو ایسا اتفاق بازاروں میںآپ نے بھی میاں بیوی کو لڑتے ہوئے دیکھا ہوگا کہ ارے 2 گھنٹے گزر گئے اب تک تمہاری خریداری نہ ہوسکی۔
جہاں مرد حضرات اس بات سے کوفت کھاتے ہیں کہ بیگمات خریداری میں بہت وقت لگا دیتی ہیں، وہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی بیویوں کو کچھ نہیں کہتے اور بس خاموشی سے ان کا انتظار کرتے ہیں۔ ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں کپڑے کی دکان کے اندر ایک خاتون کپڑے دیکھ رہی ہیں، بہت دیر تک وہ کپڑوں کے ڈیزائن ہی چیک کرتی رہیں، ان کو کچھ سمجھ نہیں آیا، لیکن ان کے شوہر دکان کے باہر چپ چاپ بیٹھے رہے اور بیوی کو محبت سے دیکھتے رہے۔
کیا آپ بھی اپنی بیویوں کے لیے اسی طرح انتظار کرتے ہیں؟ کیا آپ کی بیگم بھی اتنا ہی وقت لگاتی ہے؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو یقیناً آپ کو چاہیے کہ ایک ہی دن میں ساری شاپنگ نہ کروائیں، بلکہ 2 دن میں کرلیں تاکہ نہ آپ کو زیادہ وقت کی شکایت ہو اور نہ بیگم کو۔ ایسے معاملات کو آپس میں محبت سے نپٹائیے تاکہ گھروں میں محبت کم نہ ہو۔