“چند دن پہلے میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے اور میں نہیں چاہتی کہ میرے بچے مجرم بنیں۔ مجھے آپ سے کچھ رقم ادھار چاہئیے تاکہ میں کوئی چھوٹا موٹا کام شروع کرسکوں“
حال ہی میں نوبل امن انعام کے لئے نامزد ہونے والے ڈاکٹر ثاقب امجد نے“اخوت“ ادارے کی بنیاد بننے والی اس کہانی کو سناتے ہوئے کہا کہ اس عورت کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس نے مجھے مزید بتایا کہ “میرے شوہر نے کہا تھا کہ “زندہ رہنا ہے تو آبرو کے ساتھ زندہ رہنا۔ شوہر کی وفات کے بعد کمانے والا کوئی نہیں ہے اور میرے چار بچے ہیں جنھیں میں اچھی زندگی دینا چاہتی ہوں اور اس کے لئے مجھے آپ سے ایسا قرض چاہئیے جس کا سود مجھے نہ دینا پڑے کیونکہ سود لینے اور دینے کی اجازت میرا مذہب مجھے نہیں دیتا“
یہ پیسے واپس نہ رکھیں بلکہ میری طرح کسی غریب کو دے دیں
ڈاکٹر امجد کہتے ہیں کہ میں نے دس ہزار روپے اس خاتون کو دیے اور وہ چلی گئیں اور میں اس واقعے کو بھول گیا۔ لیکن اس واقعے کے ٹھیک چھ ماہ بعد وہ خاتون دوبارہ میرے پاس آئیں اور اب ان کی آنکھ میں آنسو کے بجائے مسکراہٹ تی۔ خاتون نے کہا کہ آپ کے دیئے ہوئے پیسوں سے میں نے دو سلائی مشین خریدی تھیں اور اب ان سے گھر کا خرچہ چلاتی ہوں۔ بچے بھی اسکول جاتے ہیں۔ میں آپ کے پیسے آپ کو واپس لوٹانے آئی ہوں لیکن میری گزارش ہے کہ یہ پیسے آپ خود رکھنے کے بجائے میرے جیسے کسی غریب کو دے دیں تاکہ میری طرح کوئی اور بھی عزت نفس کے ساتھ زندگی گزار سکے۔
اخوت ادارے کی بنیاد
ڈاکٹر امجد کہتے ہیں یہ واقعہ ان کی زندگی کا وہ اہم موڑ تھا جس کے بعد انھوں نے “اخوت“ ادارے کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ لوگوں کو بغیر سود کے ادھار رقم دیتا ہے تاکہ وہ کوئی کام شروع کرسکیں اور اپنیی زندگی عزت نفس کے ساتھ گزار سکیں۔ اسی ادارے کی وجہ سے ڈاکٹر امجد کو ایشیاء کے سب سے بڑے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ اخوت 2001 میں قائم ہونے والا فلاحی ادارہ ہے جو ہر سال لاکھوں لوگوں اور خاندانوں کو بلا سود قرضے فراہم کرتا ہے۔ ڈاکٹر امجد کا کہنا ہے کہ جو لوگ قرضہ لے جاتے ہیں وہ واپس بھی ضرور کرتے ہیں اسی وجہ سے ادارے کو نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور معاشرے پر ان کا اعتماد بھی بڑھا۔
نوبل امن انعام 2022
ڈاکٹر امجد ثاقب کو غربت کے خاتمے کے لئے کوشش اور انسانیت کی خدمت کرنے کے سلسلے میں اس سال نوبل امن انعام کے لئے نامزد کیا گیا ہے۔ اس انعام کے لئے دنیا بھر میں سے 343 امیدواروں کا انتخاب کیا گیا ہے جن میں 251 انفرادی شخصیات اور 92 ادارے شامل ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر ثاقب امجد کہتے ہیں کہ کوئی بھی شخص اپنا نام خود نوبل پرائز کے لئے نامزد نہیں کرسکتا اور وہ انسانیت کی خدمت صرف اللہ کی رضا کے لئے کرتے ہیں۔
ریمن میگسیسے ایوارڈ
ڈاکٹر ثاقب امجد کو گزشتہ برس سال ایشیاء کا سب سے بڑا “ریمن میگسیسے ایوارڈ“ دیا گیا ہے جو کہ اب تک صرف 340 لوگوں اور تنظیموں کو ملا ہے۔ یہ ایوارڈ ایسے افراد اور اداروں کو دیا جاتا ہے جو انسانوں کی فلاح و بہبود اور معاشرے اور دنیا کے مسائل کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک پاکستانی سماجی کارکن کو یہ ایوارڈ ملنا بلاشبہ ایک قابل فخر بات ہے۔