اکلوتی بیٹی کو پڑھا لکھا کر ڈاکٹر بنایا، آج اذیت میں ہیں ۔۔ مریضوں کا خون پینے والی ڈاکٹر کی خبر جھوٹی نکلی

image

گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر اسلام آباد کے ایک مشہور صحافی کی جانب سے ایک خبر شیئر کی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ راولپنڈی شہرکے بڑے ہسپتال سے انسانی خون پینے والی لیڈی ڈاکٹر کو ہسپتال انتظامیہ نے تحقیقات کے بعد نوکری سے فارغ کر دیا ہے۔ یسریٰ نامی لیڈی ڈاکٹر ہسپتال کی لیبارٹری میں فرائض انجام دیتی تھیں۔ ہسپتال انتظامیہ کو لیڈی ڈاکٹر کے متعلق انسانی خون پینے کی شکایات موصول ہوئیں تھیں کہ یہ لیبارٹری میں مریضوں کا ٹیسٹ ہونے کیلئے آنے والا خون پیتی ہیں۔ تحقیقات کے دوران خون پینے کا الزام ثابت ہونے پر لیڈی ڈاکٹر یسریٰ کو ری ہیب سنٹر منتقل کر دیا۔ اور صحافی نے یہ بات دعویٰ سے کہی تھی کہ خبر سچی ہے ۔۔

مگر یہ خبر جھوٹی نکلی ۔۔ اس خبر کے بعد ہر کسی کو ڈاکٹر یسریٰ کی تلاش تھی۔ ایک چینل کی جانب سے جب ان کا انٹرویو لیا گیا تو حقیقت معلوم ہوئی کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ جب اس خبر کی تردید خود ڈاکٹر یسریٰ اور ان کے گھر والوں نے کی تو معروف صحافی نے اپنا پوسٹ بھی ڈیلیٹ کردیا اور تفصیلات کے مطابق انہوں نے ہسپتال انتظامیہ سے معافی بھی مانگ لی۔

انٹرویو میں بات کرتے ہوئے یسریٰ کے والد نے کہا کہ : " میری بیٹی شدید اذیت میں ہے۔ ہم جس کرب، تکلیف اور دکھ سے گزر رہے ہیں یہ بتایا نہیں جا سکتا۔ بیٹی کے حوالے سے اس افواہ پر مبنی ویڈیوز اور پوسٹیں تو لاکھوں لوگوں نے دیکھیں اور پڑھیں مگر اس کی تردید اور اس پر معذرت پر کسی نے کم ہی توجہ دی ہے۔ میری بیٹی کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ وہ جب کمرے سے باہر نکلتی ہے تو پوچھتی ہے کہ پاپا آج میرے بارے میں سوشل میڈیا پر کیا چھپا؟ ہسپتال کی انکوائری کمیٹی نے ہمیں بھی بلایا تھا۔ جب میں نے یہ بات سنی تو میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ مگر ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم انکوائری کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔ انکوائری کمیٹی نے بیٹی کا نفسیاتی معائنہ اور مختلف ٹیسٹ کروانے کا کہا جو ہم نے کروائے۔ لوگوں نے ہم سے پوچھنا شروع کر دیا اور ہم پر ایسا وقت آ گیا کہ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ "

ہماری اکلوتی بیٹی ہے یسریٰ ، ہم نے اس کو پڑھایا لکھایا، ڈاکٹر بنایا لیکن اس جھوٹی خبر نے ہماری زندگیوں میں ایک گیپ پیدا کردیا ہے۔ غلط نہ کرنے پر بھی ہمیں غلط محسوس ہو رہا ہے۔ ہم سے کسی نے پوچھنے کی زحمت نہیں کی۔ کوئی کیا کہتا، کوئی کیا۔ ہم اپنی بچی کی سچائی کو ظاہر کرنے کیلئے آخری وقت تک لڑیں گے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US