کیا انڈیا امریکی دباؤ میں چابہار بندرگاہ کے منصوبے سے پیچھے ہٹ رہا ہے؟

اکنامک ٹائمز میں دعویٰ کیا گیا کہ انڈیا نے اپنی طے شدہ سرمایہ کاری کی رقم پہلے ہی ایران کو منتقل کر دی ہے اور اس منصوبے کو چلانے والی سرکاری کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ نے مستقبل میں ممکنہ امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے باضابطہ طور پر خود کو اس منصوبے سے الگ کر لیا ہے۔
चाबहार पोर्ट
Getty Images
چابہار انڈیا کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے وسطی ایشیا تک پہنچ سکتا ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کے اعلان کے بعد یہ سوال اٹھا کہ اس کا انڈیا پر کیا اثر پڑے گا۔

امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران اور انڈیا کے درمیان تجارت کا حجم زیادہ نہیں ہے لیکن ایران انڈیا کے لیے سٹریٹجک طور پر بہت اہم ملک ہے۔

ایران کے جنوبی ساحل پر صوبہ سیستان بلوچستان میں واقع چابہار بندرگاہ اسی حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس بندرگاہ کو انڈیا اور ایران مل کر ترقی یافتہ بنانے پر کام کر رہے تھے تاکہ انڈیا کو وسطی ایشیا اور افغانستان تک براہِ راست رسائی حاصل ہو سکے۔

چابہار انڈیا کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے وسطی ایشیا تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم، امریکی اضافی ٹیرف کے اعلان کے بعد ایسی خبریں سامنے آنے لگیں کہ انڈیا ممکنہ طور پر چابہار بندرگاہ کے منصوبے سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔

ان خبروں اور قیاس آرائیوں کے بعد انڈیا کی حکومت نے گذشتہ جمعے کو وضاحت دی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ چابہار بندرگاہ کا آپریشن جاری رکھنے کے لیے وہ امریکہ کے ساتھ ساتھ ایران سے بھی رابطے میں ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعے کو کہا: ’جیسا کہ آپ جانتے ہیں 28 اکتوبر 2025 کو امریکی وزارتِ خزانہ نے ایک خط جاری کیا تھا جس میں 26 اپریل 2026 تک مؤثر مشروط پابندیوں میں چھوٹ کے رہنما اصول دیے گئے تھے۔ ہم اس معاملے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی حکام سے رابطے میں ہیں۔‘

انھوں نے کہا ’ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات طویل عرصے پر محیط ہیں۔ ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس شراکت داری کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔‘

گذشتہ سال انڈیا اور ایران کے درمیان تجارت کا حجم 1.6 ارب ڈالر تھا جو انڈیا کی مجموعی تجارت کا صرف 0.15 فیصد بنتا ہے۔

درحقیقت چابہار سے متعلق یہ قیاس آرائیاں اکنامک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آئیں۔

اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انڈیا نے چابہار منصوبے سے سٹریٹجک طور پر پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔

اکنامک ٹائمز میں دعویٰ کیا گیا کہ انڈیا نے اپنی طے شدہ سرمایہ کاری کی رقم پہلے ہی ایران کو منتقل کر دی ہے اور اس منصوبے کو چلانے والی سرکاری کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ نے مستقبل میں ممکنہ امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے باضابطہ طور پر خود کو اس منصوبے سے الگ کر لیا ہے۔

जयशंकर
Getty Images
ٹرمپ کی دوسری میعاد کے دوران انڈیا کی خارجہ پالیسی کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے

اگرچہ چابہار بندرگاہ کے معاملے میں انڈیا کو ٹرمپ انتظامیہ سے کچھ رعایت حاصل ہے لیکن امریکہ اس رعایت کو آگے بڑھانے کے موڈ میں نہیں ہے۔ ایسے میں انڈیا کے پاس بات چیت کے لیے صرف اپریل تک کا وقت باقی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ اگلے مہینے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

لیکن اپوزیشن جماعتیں، سینئر صحافی اور یہاں تک کہ بین الاقوامی امور کے ماہرین بھی امریکہ کے حوالے سے انڈیا کی پالیسی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ انڈیا بار بار امریکہ کو ناراض نہ کرنے کے دباؤ میں جھک رہا ہے اور اپنے بڑے مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

کانگریس کے میڈیا اور پبلسٹی شعبے کے چیئرمین پون کھیرڑا نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر سوال کیا کہ انڈیا کب تک امریکہ کے دباؤ میں رہ کر اپنے فیصلے کرے گا؟

انھوں نے لکھا: ’اصل مسئلہ صرف چابہار یا روس کے تیل کا نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ مودی امریکہ کو انڈیا پر دباؤ ڈالنے کی اجازت کیوں دے رہے ہیں؟‘

کیا انڈیا امریکی دباؤ میں فیصلے کر رہا ہے؟

प्रधानमंत्री मोदी और अमेरिका के राष्ट्रपति डोनाल्ड ट्रंप
Getty Images
وزیر اعظم مودی نے پچھلے سال فروری میں امریکہ کا دورہ کیا تھا لیکن ٹیرف پر بات چیت ناکام رہی تھی۔

سٹریٹجک امور کے ماہر ڈاکٹر برہما چیلانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’2019 میں جب امریکہ نے ایران کے تیل پر پابندیاں لگائیں، تو انڈیا نے اچانک ایران سے تیل خریدنا بند کر دیا۔ اس سے انڈیا اور ایران کے درمیان جاری توانائی والے تعلقات تقریباً ختم ہو گئے اور اس کا براہِ راست فائدہ چین کو ملا۔‘

چیلانی کا کہنا ہے: ’آج تقریباً صرف چین ہی وہ ملک ہے جو ایران کا خام تیل خرید رہا ہے اور وہ بھی دنیا کی سب سے سستی قیمتوں پر۔ حیران کن بات یہ ہے کہ امریکہ نے ان پابندیوں کی کھلی خلاف ورزی کے باوجود چین کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کی۔‘

چیلانی مزید کہتے ہیں: ’اب جیسے ہی چابہار بندرگاہ سے متعلق امریکی رعایت (پابندی چھوٹ) اپریل میں ختم ہونے والی ہے، انڈیا اس بندرگاہ سے پیچھے ہٹ رہا ہے جسے وہ خود چلا رہا تھا۔ یہ بندرگاہ پاکستان کے گوادر پورٹ کے مقابلے میں، جسے چین چلا رہا ہے، انڈیا کا ایک سٹریٹجک جواب سمجھا جاتا ہے۔‘

چیلانی کے مطابق انڈیا کا یہ مبینہ پیچھے ہٹنا حیران کن ہے: ’یہ اس لیے بھی حیران کن ہے کیونکہ مئی 2024 میں انڈیا اور ایران نے چابہار کے شہید بہشتی ٹرمینل کے لیے 10 سالہ معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت انڈیا کو وہاں کے کارگو اور کنٹینر ٹرمینل کو ترقی دینے، آلات نصب کرنے اور آپریشن کرنے کا حق ملا تھا، جسے آگے بڑھانے کا بھی اختیار تھا۔‘

’چابہار سے پیچھے ہٹنا انڈیا کی مجبوری تھا‘

انڈیا کے انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ کی ڈپلومیٹک افیئرز ایڈیٹر سہاسینی حیدر کے مطابق، وزارتِ خارجہ نے چابہار بندرگاہ سے متعلق اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کی تردید نہیں کی ہے۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے کالم نگار سدانند دھومے نے ایکس پر لکھا ہے کہ گذشتہ 10-12 سالوں میں انڈیا کی خارجہ پالیسی یہ دکھانے کی کوشش کرتی رہی کہ ملک بہت طاقتور ہو گیا ہے، لیکن پچھلے ایک سال کی پیش رفت نے واضح کر دیا کہ انڈیا کی معاشی، تکنیکی اور فوجی طاقت کی بھی حدود ہیں۔

دھومے نے کہا: ’ہر پانچ منٹ میں چار ٹریلین ڈالر کی معیشت کا شور مچانا تب زیادہ معنی نہیں رکھتا جب آپ کے سامنے 20 ٹریلین ڈالر کی ایک دشمن معیشت کھڑی ہو اور 30 ٹریلین ڈالر کی ایک عالمی سپر پاور ہو آپ سے پوچھ رہی ہو: ’حال ہی میں تم نے میرے لیے کیا کیا ہے؟‘‘

دھومے کے مطابق یہ غرور ’کم کرنا آسان نہیں ہے‘ کیونکہ یہ ملکی سیاست کے ساتھ اتنا گہرا جڑ چکا ہے کہ کوئی بھی انتخابی مہم یہ کہہ کر نہیں جیت سکتا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ دنیا ہمیں عالمی رہنما نہیں مانتی۔ انڈیا ایک مشکل پڑوسیوں سے گھرے علاقے میں درمیانے درجے کی طاقت ہے اور بعض معاملات میں وہ آج اتنا محفوظ نہیں جتنا تین دہائیاں قبل تھا۔‘

یہ تبصرہ انھوں نے امریکہ کی البانی یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کرسٹوفر کلاؤری کی پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے لکھا۔

پروفیسر کلاؤری نے کہا تھا کہ پچھلی امریکی حکومتیں نہیں چاہتی تھیں کہ انڈیا کو چابہار بندرگاہ کے معاملے میں فیصلہ کرنے پر مجبور کیا جائے کیونکہ انھیں فکر تھی کہ اس سے دنیا میں کیا تاثر جائے گا۔ انڈیا کو یہ حقیقت قبول کرنی پڑے گی کہ ہر دوطرفہ تعلق کے ساتھ کچھ شرائط جڑی ہوتی ہیں اور موجودہ امریکی انتظامیہ ان شرائط کو آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔

تھِنک ٹینک اور آر ایف کے سینئر فیلو سوشانت سرین نے معاملے کو مختلف زاویے سے دیکھا۔ انھوں نے لکھا کہ جو لوگ انڈین حکومت کو چابہار سے پیچھے ہٹنے پر طنز کر رہے ہیں، وہ یہ سمجھیں کہ انڈیا نے یہ قدم اپنی مرضی سے نہیں بلکہ مجبوراً اٹھایا۔ انھیں چاہیے کہ امریکی پابندیوں کو توڑ کر ایران کے ساتھ یکجہتی دکھائیں۔

سرین نے مزید کہا: ’امریکہ کے خلاف اگر واقعی آپ کا موقف اصولی ہے تو اپنے ویزے واپس کریں، امریکہ کا بائیکاٹ کریں، بچوں کو امریکی یونیورسٹیوں سے واپس بلا لیں اور اگر یہ سب کرنے کو تیار نہیں، تو بس بیٹھ جائیں اور یہ دکھاوا کرنا بند کریں کہ آپ بہت اصولی ہیں۔¬

اس پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے بین الاقوامی امور کے ماہر زوراور دولت سنگھ نے لکھا کہ انڈیا گذشتہ ایک دہائی سے امریکہ کے جیوپولیٹیکل نیٹ ورک میں فٹ ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔۔ کئی بار اپنے مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی کے باوجود امریکہ نے انڈیا کو اپنے اتحاد میں ایک آزاد کردار دینے کی کبھی خواہش نہیں ظاہر کی، اور اس مبینہ سٹریٹجک حکمت عملی کے فائدے، ادا کی گئی قیمتوں کے سامنے بہت چھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔

भारत के विदेश मंत्री एस.जयशंकर
Getty Images
وزیر خارجہ ایس جے شنکر بائیڈن انتظامیہ کے دوران مغربی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے تھے۔

اگرچہ تھِنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی سینئر فیلو تنوی مدن موجودہ دور میں انڈیا کے لیے یہی سب سے عملی راستہ قرار دیتی ہیں۔

وہ لکھتی ہیں: انڈیا ملٹی پولر خارجہ پالیسی اپناتا ہے۔ یعنی اس کے تعلقات کئی ممالک کے ساتھ ہیں اور وہ سب کے ساتھ توازن قائم رکھنے میں یقین رکھتا ہے۔ یہ انڈیا کی سرد جنگ کے دور کی بھی حکمت عملی تھی لیکن آج کے دور میں یہ آسان نہیں رہا، خاص طور پر ٹرمپ کے دوسرے دور میں انڈیا کے لیے چیلنج بڑھ گیا ہے۔

’اس لیے انڈیا کو زیادہ محتاط رہنے اور تعلقات میں تنوع قائم رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب ملک رسمی فوجی اتحاد سے دور رہتے ہیں تو انھیں اپنی سلامتی، معیشت اور سفارت کاری خود مضبوط کرنا پڑتی ہے۔‘

انڈیا نے 2003 میں چابہار بندرگاہ کو ترقی دینے کا منصوبہ پیش کیا تاکہ انڈین سامان پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے سڑک اور ریلوے کے منصوبے انٹرنیشنل نارتھ-ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور کے ذریعے افغانستان اور وسطی ایشیا تک پہنچ سکے۔

انٹرنیشنل نارتھ-ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور ایک 7200 کلومیٹر طویل ملٹی موڈ ٹرانسپورٹ منصوبہ ہے، جس کا مقصد انڈیا، ایران، افغانستان، آرمینیا، آذربائیجان، روس، وسطی ایشیا اور یورپ کے درمیان مال برداری کو آسان بنانا ہے۔

لیکن ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے بندرگاہ کا کام سست ہو گیا تھا۔

سال 2016 میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے ایران کا دورہ کیا، اور اسی سال اس منصوبے کو منظوری ملی۔

चाबहार बंदरगाह के विकास के लिए भारत और ईरान के बीच साल 2003 में सहमति बनी थी.
Indiaportsgloballimited
انڈیا اور ایران کے درمیان چابہار بندرگاہ کی ترقی کے لیے 2003 میں ایک معاہدہ ہوا تھا۔

سال 2019 میں پہلی بار چابہار بندرگاہ استعمال کرتے ہوئے انڈیا نے پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے افغانستان سے سامان حاصل کیا۔

پھر سال 2024 میں چابہار کی شہید بہشتی بندرگاہ کے آپریشن کے لیے ایک معاہدہ کیا گیا۔ شہید بہشتی ایران کی دوسری سب سے اہم بندرگاہ ہے۔

چابہار بندرگاہ کے حوالے سے 2024 کے اس معاہدے کو وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی حکومت کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ انڈیا اپنے فیصلے کسی تیسرے ملک (جیسے امریکہ) کے دباؤ میں نہیں لیتا، چاہے کسی کو یہ برا لگے۔

انھوں نے ایک نجی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا: ’وسطی ایشیا سے ہمارا تعلق ہماری معیشت کے لیے بہت اہم ہے۔ تمام مشکلات کے باوجود ہمارا چابہار کا معاہدہ ہوا۔ ہم اپنے فیصلے کسی تیسرے فریق کی بنیاد پر نہیں کریں گے۔ اپنے فیصلے خود کریں گے۔ کسی ایک کو برا لگے تو دوسرے سے بات نہ کریں، ہم ایسا نہیں کرتے۔ ہم سب سے بات کریں گے۔‘

اب جب چابہار بندرگاہ سے انڈیا کی مبینہ دوری کی خبریں سامنے آ رہی ہیں تو وزیراعظم مودی کا یہ اعتماد بھرا بیان ایک بار پھر سے زیرِ بحث ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US