’آٹھ سال سے بالی ووڈ میں کام نہیں ملا‘: اے آر رحمان کے شکوے نے فلم انڈسٹری میں فرقہ واریت پر بحث چھیڑ دی

اے آر رحمان نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ انھیں گزشتہ آٹھ برسوں سے بالی ووڈ میں کام نہیں ملا، جس پر فلم انڈسٹری میں فرقہ واریت کے سوال پر بحث چھڑ گئی۔
BBC
BBC

بی بی سی کو خصوصی انٹرویو میں عالمی شہرت یافتہ بالی ووڈ موسیقار اے آر رحمان نے کہا کہ ’انھیں گذشتہ آٹھ سالوں سے بالی ووڈ میں کام ملنا بند ہو گیا ہے۔‘

اے آر رحمان کے اس دعوے پر فلم انڈسٹری کے بہت سے لوگوں کی جانب سے ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

شاعر اور بالی ووڈ کے لیے ماضی میں گانے لکھنے والے جاوید اختر نے کہا ہے کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ اس میں کوئی فرقہ وارانہ مسئلہ ہے۔‘

گلوکار شان نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ موسیقی میں کوئی فرقہ وارانہ یا اقلیتی پہلو ہے اگر ایسا ہوتا تو ہمارے تینوں سپر سٹارز جو 30 سال سے انڈسٹری میں ہیں اور بالی ووڈ میں چھائے ہوئے ہیں وہ بھی تو ہیں۔ لیکن کیا اس وجہ سے ان کے فینز یا مداح کم ہوئے ہیں؟ وہ تو صرف بڑھ رہے ہیں۔‘

اے آر رحمان کے اس دعوے پر ناول نگار شوبھا ڈی نے کہا کہ ’یہ بہت خطرناک تبصرہ ہے۔۔۔ میں پچاس سال سے بالی ووڈ دیکھ رہی ہوں، اگر میں نے کوئی ایسی جگہ دیکھی ہے جو فرقہ واریت سے پاک ہے تو وہ بالی ووڈ ہے اگر آپ کے پاس ٹیلنٹ ہے تو آپ کو موقع ملے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر آپ کے پاس ٹیلنٹ نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ آپ کو کام مذہب کی وجہ سے نہیں مل رہا یا لوگ آپ کو موقع نہیں دے رہے۔ وہ ایک بہت کامیاب اور سمجھدار شخص ہیں۔ انھیں وہ نہیں کہنا چاہیے تھا جو وہ کہہ رہے ہیں۔ ان کے پاس کوئی اور وجہ ہو سکتی ہے۔۔۔ آپ اُن سے اُس کے بارے میں سوال کریں۔‘

اس معاملے پر ایک سوال کے جواب میں گلوکار شنکر مہادیون نے کہا کہ ’میں یہ کہوں گا کہ گانے کو کمپوز کرنے والا اور وہ شخص جو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ مجھے گانا لینا چاہیے یا نہیں، مجھے اس کی مارکیٹنگ کرنی چاہیے یا نہیں، دو الگ الگ لوگ ہیں۔ یہ فیصلہ کرنے والے لوگ موسیقی کے شعبے سے تعلق نہیں رکھتے۔‘

اے آر رحمان نے بی بی سی سے کیا کہا؟

BBC
BBC

کئی بالی ووڈ فلموں میں یادگار موسیقی دینے والے آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار اے آر رحمان نے بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اپنے اب تک کے موسیقی کے سفر، بدلتے ہوئے سینما، مستقبل کے منصوبوں اور معاشرے کے موجودہ ماحول کے بارے میں کھل کر بات کی۔

اس گفتگو میں رحمان نے فلم انڈسٹری کے بارے میں کہا کہ ’شاید گذشتہ آٹھ سالوں میں طاقت کا توازن بدل گیا ہے اور جو لوگ تخلیقی نہیں ہیں وہ فیصلے لے رہے ہیں، فرقہ وارانہ زاویہ بھی ہوسکتا ہے، لیکن مجھے کسی نے نہیں کہا۔‘

تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ اب ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے۔

اے آر رحمان نے مزید کہا کہ ’ہاں، کچھ باتیں میرے کانوں تک پہنچی ہیں۔ جیسے کہ آپ کو بک کیا گیا تھا، لیکن ایک اور میوزک کمپنی نے فلم کو فنڈ دیا اور وہ اپنے موسیقاروں کو لے آئے۔‘

’میں نے کہا ٹھیک ہے، میں آرام کروں گا، اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزاروں گا۔ میں کام کی تلاش میں نہیں ہوں، میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس کام آئے۔ میں چاہتا ہوں کہ میری محنت اور ایمانداری سے مجھے چیزیں مل سکیں۔‘

اے آر رحمان نے اس گفتگو کے دوران کہا کہ ’میں اس کے بارے میں زیادہ نہیں سوچتا، کیونکہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی ذاتی معاملہ ہے۔ ہر کسی کی اپنی سوچ، اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ ہمیں کتنا کام کرنا چاہیے یہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے۔‘

جاوید اختر کا جواب

Getty Images
Getty Images
شاعر جاوید اختر

خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کے ساتھ بات چیت میں شاعر جاوید اختر نے اے آر رحمان کے دعوے پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے ایسا کبھی نہیں محسوس کیا۔ میں ممبئی میں ہر کسی سے ملتا ہوں۔ لوگ ان (اے آر رحمان) کی بہت عزت کرتے ہیں۔ شاید لوگ یہ سوچیں کہ وہ اب مغرب میں زیادہ مصروف ہو گئے ہیں۔ شاید لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کے پروگرام بہت بڑے ہیں اور ان میں بہت وقت لگتا ہے۔‘

جاوید اختر کا مزید کہنا تھا کہ ’رحمان اتنے بڑے آدمی ہیں کہ چھوٹے پروڈیوسرز بھی ان سے رابطہ کرنے سے ڈرتے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس میں کوئی فرقہ وارانہ عنصر ہے۔‘

انھوں نے نتیش تیواری کی آنے والی فلم ’رامائن‘ کے لیے البم کمپوز کیا ہے۔ انھوں نے مختلف مذہب سے ہونے کے باوجود اس فلم کی موسیقی ترتیب دینے سے متعلق سوالات کے جواب بھی دیے۔

گذشتہ سال اے آر رحمان کی کمپوز کردہ فلم ’چاوا‘ ریلیز ہوئی تھی۔ بہت سے مورخین نے فلم کو حقائق کو مسخ کرنے اور تفرقہ انگیز ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ جب فلم ریلیز ہوئی تو مہاراشٹر کے کچھ حصوں میں تشدد پھوٹ پڑا۔

’بالی ووڈ کے تین بڑے ستارے بھی تو مسلمان ہیں‘

Getty Images
Getty Images
گلوکار شان

گلوکار شان نے فلم اور میوزک انڈسٹری میں کسی بھی ’فرقہ وارانہ یا اقلیتی پہلو‘ کے وجود سے بھی انکار کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے شان نے کہا کہ ’جہاں تک کام نہ ملنے کا سوال ہے تو، میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں، میں نے کئی سالوں میں اتنا گایا ہے، پھر بھی مجھے کام نہیں مل رہا ہے۔‘

’مجھے نہیں لگتا کہ موسیقی میں کوئی فرقہ وارانہ یا اقلیتی پہلو ہے، اگر ایسا ہوتا تو ہمارے تینوں سپر سٹارز جو تقریباً 30 سال سے بالی ووڈ پر راج کر رہے ہیں، مگر اُن کے مداح کم نہیں ہوئے، ان میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔‘

شان نے کہا کہ ہر کسی کو اچھا کام کرتے رہنا چاہیے اور ان باتوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ انھوں نے اے آر رحمان کے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک حیرت انگیز موسیقار ہیں اور ان کا کام کرنے کا ایک منفرد انداز ہے۔

سیاسی حلقوں کی جانب سے ردعمل

اے آر رحمان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں سے بھی ردعمل آنا شروع ہو گیا ہے۔

شیو سینا لیڈر شائنا این سی نے اے آر رحمان کے بیان پر کہا کہ ’میں سمجھتی ہوں کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اے آر رحمان انڈسٹری میں فرقہ کی بنیاد پر کام نہ ملنے کی بات کر رہے ہیں۔ انھیں ہر طرح کا موقع ملا ہے اور انڈیا کی خوبصورتی اس کا تنوع اور اتحاد ہے۔‘

’اگر کوئی راستہ بند ہو تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ تمام رکاوٹوں کو قابلیت سے دور کیا جا سکتا ہے اور جب آپ کو موقع ملتا ہے تو آپ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کی خاص بات ہے کہ سب کو یکساں ترجیح دی جاتی ہے۔‘

اے آر رحمان کے اس دعوے پر بھجن گلوکار انوپ جلوٹا نے کہا کہ ’یہ بالکل سچ نہیں ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ انھوں نے پانچ سالوں میں پچیس سال کا کام کیا ہے، اب کیا کیا جا سکتا ہے؟ انھوں نے بہت کام کیا ہے اور بہت اچھا کام کیا ہے، لوگ ان کی بہت عزت کرتے ہیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US