کراچی: ملک میں سیاسی عدم استحکام نے ڈالر کو ایک بار پھر بلند ترین سطح پر پہنچادیا، پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے بعد امریکی ڈالر 238 روپے کا ہوگیا۔
فاریکس ایسوسی ایشن کے مطابق کاروباری ہفتے کے دوسرے دن منگل کو انٹربینک میں 2روپے کے اضافے سے ڈالر کی قیمت خرید 230 روپے سے بڑھ کر 232 روپے اور قیمت فروخت 230 اعشاریہ 50 سے بڑھ کر 232 اعشاریہ 50 روپے ریکارڈ کی گئی۔
اوپن مارکیٹ میں 2 روپے کے اضافے سے ڈالر کی قیمت خرید 235 روپے سے بڑھ کر 237 روپے اور قیمت فروخت 236 روپے سے بڑھ کر 238.00 روپے ہو گئی۔
یورو کی قیمت خرید 2 روپے بڑھنے کے بعد 240.00 روپے سے بڑھ کر 242.00 روپے اور قیمت فروخت 2.10 روپے بڑھنے کے بعد 242.40 روپے سے بڑھ کر 244.50 روپے ریکارڈ کی گئی۔
برطانوی پاؤنڈ کی قیمت خرید ایک روپے کے اضافے سے 277.00 روپے سے بڑھ کر 278.00 روپے اور قیمت فروخت 1.20 روپے کے اضافے سے 279.80 روپے سے بڑھ کر 281.00 روپے ہو گئی۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو1 ارب 16 کروڑ ڈالر قرض ملنے کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ اس سے روپے کی گرتی قدر کو سہارا ملے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا اور ڈالر کو لگام نہ دی جاسکی۔
گذشتہ چند روز سے کرنسی مارکیٹوں میں ڈالر سمیت دیگرغیرملکی کرنسیوں کے مقابلے میں روپیہ بے قدری کا شکار رہا۔کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ڈالر کی طلب میں مسلسل اضافہ اس کی قدر میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
ڈالر کی طلب کے مقابلے میں فراہمی آدھی بھی نہ ہونے کے باعث ڈالر مسلسل مہنگا ہورہا ہے، بینکوں سے ڈالر دستیاب نہیں ہیں اور بلیک مارکیٹ کا حجم بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر نہ ملنے سے خوراک کا بحران سراٹھا سکتا ہے اور پاکستان میں پیٹرولیم قیمتوں میں بھی مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔