پاکستان کی خواتین افسران ویسے تو سب کی توجہ حاصل کر لیتی ہیں، لیکن جن مشکلات اور چیلنجز سے یہ ہو کر آتی ہیں، یہ کسی بڑے امتحان سے کم نہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو چند ایسی ہی خواتین افسران کے بارے میں بتائیں گے۔
ثناء ماہ جبین عمرانی:
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اسسٹنٹ کمشنر ثناء ماہ جبین عمرانی اس وقت سب کی توجہ حاصل کی جب وہ نیشنل ہائی وے پر دوران چیکنگ اسلحہ لیے آپریشن میں مگن تھیں۔
ثناء ماہ جبین اگرچہ خطرناک سڑک پر کھڑی تھیں تاہم ان کے حوصلے اور ہمت کمزور نہ تھی نہ ہی انہیں کسی قسم کا خوف تھا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اے سی ثناء ماہ جبین اپنے صوبے کے لیے خدمت اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی ٹھان لی ہے۔
اپنے ایک انٹرویو میں ثناء ماہ جبین کا کہنا تھا کہ عام طور پر یہ خیال ہے کہ بلوچستان میں خواتین پر بہت ظلب و ستم اور ان پر پابندیاں ہیں، لیکن میں بلوچستان کی بیٹی ملک کی خدمت کر رہی ہوں۔
بچپن سے ہی میرے ذہن میں تھا کہ اسسٹنٹ کمشنر بننا ہے، کیونکہ اس فیلڈ میں عورتوں میں رجحان کم ہے لیکن اب یہ سلسلہ آگے بڑھے گا۔ ثناء ماہ جبین بتاتی ہیں کہ اس مقام تک پہچنے میں میرے والدین اور بھائی کا ایک بڑا ہاتھ ہے، ان کی سپورٹ کے بغیر میں اس مقام تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔
حرا علی:
سوشل میڈیا پر پاکستانی افسر کی ویڈیو کافی وائرل ہے جس میں وہ یونیفارم پہنے خاتون پولیس افسر کو دیکھا جا سکتا ہے۔
خاتون پولیس افسر کا نام حرا علی ہے، جنہوں نے نہ صرف اپنے والدین بلکہ اپنے علاقے کا بھی نام روشن کیا، سی ایس ایس میں کامیابی حاصل کر کے حرا اب پاکستان کسٹمز میں افسر تعینات ہو گئی ہیں۔
حرا علی سیاہ رنگ کے کسٹمز کے یونیفارم میں جب گاڑی سے اتریں اور والد کی نگاہ بیٹی پر گی تو والد کی آنکھوں میں فخر کو محسوس کیا جا سکتا تھا، والد سینا چوڑا کر کے بیٹی کو نہ صرف پیار کیا بلکہ ہمت بھی دی۔
ویڈیو میں حرا کے چہرے پر خوشی کو دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ والد کو اپنا یونیفارم دکھانے کے لیے کس حد تک خوش ہیں۔ حرا نے اپنے سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ پر یہ ویڈیو اپلوڈ کی تھی جس میں انہوں نے لکھا کہ ابو کے تاثرات کو ریکارڈ کرنے جا رہی ہوں۔
حرا نے اپنے اکاؤنٹ اپنی دوست کا بھی ذکر کیا اور لکھا کہ میں نے اور میری دوست نے ایک ساتھ خواب دیکھا تھا اور ہم دونوں نے کامیابی حاصل کی۔ ہمارا خواب تھا کہ ہم یونیفارم افسر بنیں، اور الحمداللہ ہم یونیفارم پہنے پاکستان کے لیے اپنی خدمات دے رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر قراۃ العین وزیر:
مس وزیر کے نام سے شہرت پانے والی نوشہرہ کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر قراۃ العین وزیر نے اس وقت سب کی توجہ حاصل کی جب کے پی میں سیلابی صورتحال تھی اور انہوں نے عوام کو زبردستی محفوظ مقامات پر منتقل کرایا۔
ہاتھ میں چھڑی لیے مس وزیر نے دبنگ انداز میں شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جس نے سب کی توجہ حاصل کی۔
بی بی سی کی جانب پبلش رپورٹ میں بتایا گیا کہ انھیں اس کے لیے اپنے حکام، محکمہ انہار اور پی ڈی ایم اے کی معاونت حاصل تھی اور وہ ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھیں، ’اسی کے مطابق کام کیا اور اللہ نے اس میں اب تک کامیابی دی ہے۔‘
سیلابی ریلے سے پانی نوشہرہ کے اندر شہر تک پہنچا ہے جس میں نوشہرہ پریس کلب ، تبلیغی مرکز اور دیگر علاقے زیر آب آئے ہیں۔ سیلابی ریلے سے کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اتوار کے روز بھی وہ اپنی ڈیوٹی پر ہیں اور بعض علاقے جہاں خطرہ ہے وہاں موجود ہیں تاکہ لوگوں کو محفوظ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ان لوگوں کو محفوظ مقامات پر تمام بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔