ماں باپ کتنی بڑی نعمت ہیں یہ کوئی ان سے پوچھے جو کہ اپنے والدین کو کھو چکے ہیں۔ دنیا کی ہر تکلیف سے بچا کر بچوں کے لئے اچھے سے اچھا سوچنا صرف والدین کا ہی کام ہے ، دنیا میں صرف باپ ہی وہ واحد شخص ہے جو کہ چاہتا ہے کہ اس کی اولاد اس سے بھی آگے نکل جائے اور اس سے زیادہ ترقی کرے۔
لیکن بچوں کو اس کی قدر نہیں ہوتی اور جب وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ ہم کیا کچھ کھو بیٹھے ہیں۔ اکثر بچوں کو آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہ اپنے والدین سے سوال کرتے ہیں کہ آپ نے ہمارے لئے کیا ہی کیا ہے؟ پال پوس کر بڑا کیا تو کون سا احسان کیا سب ہی والدین ایسا کرتے ہیں۔۔ یہ بچے یہ نہیں جانتے کہ ان کو بڑا کرنے کے لئے ان کو پڑھانے لکھانے کے لئے ان کے والدین نے کیا کیا صعوبتیں جھیلی ہیں، کن کن تکلیفوں سے گزر کر اپنے بچوں کی فیسیں پوری کیں۔ اپنے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کے لئے کیا کیا طعنے سہے ہیں۔۔

والدین چاہے مزدور ہوں، یا کسی دفتر میں کام کرنے والے سفید پوش لوگ، صرف اولاد ہی وہ ہستی ہے کہ جس کے لئے وہ دوسری کی دی ہوئی ذلت کو بھی ہنس کر سہہ جاتے ہیں۔ یہی سب بچوں کو باورکروانے کے لئے تھائی لینڈ کے ایک اسکول نے یہ اہتمام کیا کہ بچوں کو ان کے والدین کی جدوجہد کی فوٹیج دکھائی کہ ان کے والدین ان کی پڑھائی اور ان کی آسائشوں کی خاطر کیا کیا مصیبتیں جھیلتے ہیں تاکہ بچوں کو اس کی قدر ہو، یہ فوٹیج دیکھ کر بچے زاروقطار رونے لگے، ان سے برداشت کرنا مشکل ہوگیا ۔ اور تمام بچوں کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ اپنے والدین خاص طور پر اپنے والد کی جدوجہد دیکھ کر افسردہ تھے کہ ان کی اچھی تعلیم کے لئے وہ کیا کچھ کر گزرتے ہیں اور ان کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ ان کی سب فرمائشیں پوری ہوتی ہیں۔ ان کی ہر خواہش کو ماں باپ پورا کرنے کے لئے آخری حد تک جاتے ہیں۔
یقیناً والدین کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے ہمارے ہاں بھی اس طرح کا کچھ اہتمام تعلیمی اداروں میں کرنا چاہیے تاکہ ہمارے بچے بھی اپنے ماں باپ کا دکھ سمجھ سکیں، اور ان کی قدر کرسکیں۔