دنیا میں انسان کو مختلف بیماریوں کی کیسز کا سامنا ہوتا ہے جن کا علاج کبھی کبھار تو خود ڈاکٹروں کے بس سے باہر ہوجاتا ہے۔ آج ایک ایسے بچے کی کہانی آپ جو بتانے جا رہے ہیں جو موذی مرض میں مبتلا ہے جس کا علاج پاکستان میں ممکن تو ہے مگر علاج کی رقم بہت زیادہ ہے۔
منظم پاکستان کے ویب چینل پر معصوم بچے عبداللہ کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا کہ اس کی عمر پانچ سال ہے لیکن اس کی بول چال ایک سال کے بچے جیسی ہیں۔
ویڈیو میں بتایا گیا ہے یہ بچہ کینسر کے چوتھے اسٹیج پر ہے اور اس کا علاج ممکن ہے مگر خرچہ لاکھوں میں بتایا جا رہا ہے۔ بچے کی شرارتیں اور پھرتیاں دیکھ کر یہ کہا نہیں جاسکتا کہ یہ کینسر میں مبتلا ہے۔
5 سال کے عبداللہ کی ذہنی کیفیت ایک سال کے بچے جیسی ہے۔ عبداللہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ اس کا جگر بڑھا ہوا ہے اور دماغ کی ہڈیاں جڑ گئی ہیں۔ اس کا ذہن عام بچوں سے بہت پیچھے چلا گیا ہے۔ بچے کی حالت بہت نازک بتائی گئی ہے۔
بچے کی والدہ نے بیٹے کے علاج سے متعلق بتایا کہ ڈاکٹرز کے مطابق اس بیماریاں اتنی ہوچکی ہیں کہ اس کا علاج ناممکن ہو گیا ہے۔ ننھے بچے کی والدہ نے بیٹے سے متعلق عجیب بات بتائی کہ اسے بے ہوش نہیں کیا جا سکتا ہے ساتھ ہی آپریشن بھی نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ اگر اسے بے ہوش کیا جاتا ہے تو یہ ہوش میں نہیں آسکے گا۔
خاتون نے مزید کہا کہ میں نے اپنے بیٹے کے علاج کے لیے گھر کا سامان تک فروخت کردیا ہے۔ بچے کی والدہ کی مخیر افراد سے درخواست ہے کہ وہ اس کے علاج کا بندوبست کردیں تاکہ یہ واپس زندگی کی جانب لوٹ جائے۔