پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین حالات سے گزر رہا ہے، ایک طرف مہنگائی کا طوفان سرا اٹھائے کھڑا ہے تو دوسری جانب سیلاب لوگوں کو بے سر وسائباں کرکے بھوک اور بدحالی کے حوالے کرگیا ہے لیکن افسوس کہ حکمران بدترین حالات میں بھی اپنی شاہ خرچیوں اور ذاتی تشہیری مہمات پر عوام کا اربوں روپے اڑا رہے ہیں۔
حال ہی میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کا 22 واں اجلاس ازبکستان کے شہر سمرقند میں منعقد ہوا جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف نے کی۔ اس دورہ میں وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیردفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور دیگر وزراء اور مشیران بھی وزیراعظم کے ہمراہ گئے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب پاکستان سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہے اور پوری دنیا پاکستان کی امداد کیلئے سر توڑ کوشش کررہی ہے، اقوام متحدہ اورعالمی ادارہ صحت پاکستان میں سیلاب کے بعد بیماریوں اور اموات کی پیش گوئیاں کررہے ہیں۔
اقوام عالم پاکستان کو امداد دینے اور عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے معاف کرنے کی اپیل کررہے ہیں ایسے میں پاکستان کے حکمران شاہانہ انداز میں غیر ملکی دورے کررہے ہیں۔
دورہ ازبکستان کے موقع پر پاکستان تاحال کوئی بڑا ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا اور صرف باتوں کے علاوہ کوئی معاہدے سامنے نہیں آیا لیکن موجودہ حکومت نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے ترک صدر رجب طیب اردگان سے ہاتھ ملانے کی خوشی میں پاکستان میں خزانے کے منہ کھول دیئے ہیں۔
ایک طرف آدھا پاکستان بھوک اور بدحالی کی وجہ سے موت کے دہانے پر ہے، ریلیف کیمپوں میں بچے، بوڑھے اور خواتین بھوک اور بیماریوں سے مررہے ہیں وہیں پاکستان کی حکومت ترک صدر سے ہاتھ ملانے کی خوشی میں خزانہ بانٹ رہی ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردگان اس وقت اسلامی دنیا کے ایک با اثر ترین رہنماء ہیں اور شائد یہی وجہ ہے کہ مملکت پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ان سے ملاقات کیلئے کچھ زیادہ ہی پر جوش ہوجاتے ہیں کیونکہ اس سے پہلے بھی ان کے دورہ ترکیہ کے موقع پر حکومت نے کروڑوں روپے تشہیر پر جھونک دیئے تھے لیکن حاصل وصول کچھ نہیں ہوا تھا۔
شہباز شریف جب سے اقتدار میں آئے ہیں تب سے پاکستان کی کایا ہی پلٹ گئی ہے، ڈیڑھ سو لیٹر والا پیٹرول ڈھائی سو تک جا کر پھر 230 تک آیا، ڈالر بھی ڈبل سنچری کرنے کے بعد واپس آنے کو تیار نہیں، آٹا بھی 150 کے قریب ہے، سبزیاں لوگوں کا منہ چڑا رہی ہیں، گوشت تو صرف دیکھنے کی چیز بن گیا ہے لیکن حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کیلئے پیسہ نہیں ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو صرف عوام کا خون نچوڑنے کیلئے حکومت میں شامل کیا گیا ہے کیونکہ ان سے اب تک عوام کو کوئی خیر کی خبر نہیں ملی، عالمی مارکیٹ میں نچلی ترین سطح پر آنے کے باوجود پاکستانی عوام کو پیٹرول 230 روپے لیٹر مل رہا ہے اور اس پر بھی مفتاح اسماعیل جب بولتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان خدا نخواستہ تباہ و برباد ہوچکا ہے اور وزیر خزانہ نے بڑی مشکل سے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہوا ہے۔
موجودہ حکومت کے سب سے عالم فاضل وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال عوام کو چائے کم پینے کا مشورہ تو دیتے ہیں کہ حکومتی اخراجات کم ہوں لیکن حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے کا مشورہ کبھی نہیں دیتے کیونکہ شائد انہیں عوام سے پیسے بچانے کی منصوبہ بندی کیلئے ہی رکھا گیا ہے لیکن منصوبہ بندی کے وزیر کو تاحال 34 وفاقی وزرا،7 وزرائے مملکت، 25 معاونین خصوصی اور 4 مشیروں کیساتھ 70 ارکان پر مشتمل وفاقی کابینہ دکھائی نہیں دی۔
شہباز شریف اپنے کپڑے بیچ کر عوام کو سستا آٹا دینے کے دعوے کرتے تھے لیکن آج حقیقت یہ ہے کہ آٹا 150 روپے کے قریب ہے اور کئی شہروں میں ایک روٹی 50 روپے تک پہنچ چکی ہے لیکن حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کیلئے پیسے نہیں ہیں کیونکہ سارا پیسا حکمرانوں کی ذاتی تشہیر پر خرچ کیا جارہا ہے۔