بھارت کی مشہور چندی گڑھ یونیورسٹی کے حوالے سے پوری دنیا میں خبریں وائرل ہو رہی ہیں کہ جامعہ میں طالبات کی نامناسب ویڈیوز وائرل کی گئیں جس سے لڑکیوں کے جذبات مجروح ہوئے وہ خود کو غیر محفوظ سجھنے لگیں۔ اس واقعے سے بھارت میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ جوں ہی واقعے کی خبر سوشل میڈیا پر پھیلی چندی گڑھ یونیورسٹی کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔
بی بی سی کے مطابق:
یونیورسٹی کے ہاسٹل میں خبر پھیل گئی کہ ایک طالبہ نے کچھ دوسری طالبات کی ویڈیو بنائیں اور انہیں پھیلا دیا گیا۔ لیکن یہ تحقیقات سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل کے واش روم میں کیمرے لگے ہوئے ہیں جہاں سے تقریباً 60 لڑکیوں کی ویڈیوز کو سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلایا گیا۔
اس خبر کے بعد ہاسٹل کی تمام لڑکیاں اور ان کے والدین پریشان ہوگئے، عارضی طور پر لڑکیاں اپنے گھروں کو چلی گئیں۔ لیکن بتایا جاتا ہے کہ 8 لڑکیوں نے خودکشی کی کوشش بھی کی۔ لیکن اس حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ خودکشی کی خبر جھوٹی ہے ایسا کچھ نہیں ہوا البتہ ویڈیوز کے وائرل ہونے پر کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور پولیس نے ہر طرف گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ گرلز ہاسٹل اور کلاسز میں انٹرنیٹ کی سہولت بھی معطل کردی ہے۔
جوں ہی ہاسٹل کی طالبات کو ویڈیوز کے وائرل ہونے کی خبر ملی انہوں نے احتجاج شروع کردیا، خوب توڑ پھوڑ کی گئی جوکہ پولیس کے آنے کے بعد بند ہوئی اور
پولیس نے ایک طالبہ سمیت 3 افراد کو گرفتار کر کے 6 روزہ جسمانی ریمانڈ پر تحویل میں لے لیا ہے۔
پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ بی بی سی کے مطابق ملزم لڑکی ایک ویڈیو میں اعتراف کر رہی ہے کہ وہ یہ ویڈیوز شملہ میں رہنے والے ایک لڑکے کو بھیجتی تھی۔ لیکن 60 لڑکیوں کی ویڈیوز باتھ روم میں لگے کیمروں کی وجہ سے لیک ہوئی ہیں۔ اس خبر کی مزید اپ ڈیٹس کے لئے ہماری ویب کے ساتھ جُڑے رہیں۔