دُکھ دینے والے حضرات قبر پر تشریف نہ لائیں ۔۔ قبر کے کتبے پر لکھی بات نے معاشرے کی بے حسی کو اجاگر کر دیا، تصویر وائرل

image

زندگی میں انسان کئی لوگوں سے ملتا جلتا ہے باتیں کرتا ہے، ہنستا کھیلتا ہے اور سب سے زیادہ ایک دوسرے سے عزت و محبت کے رشتوں میں بندھتا ہے جو دنیا کا اصول اور قدرت کی طرف سے بنائے گئے قیمتی تحفے ہیں۔ کہیں خون کے رشتوں میں جُڑتا ہے تو کہیں انسانیت کے ناطے ایک دوسرے کا دامن تھامتا ہے۔

لیکن اپنے لہجوں، رویوں اور حالات کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات بہتری کی جانب نہیں جاتے۔ بعض اوقات ایک رشتے کو بچانے کیلئے انسان کئی کڑوے گھونٹ پیتا ہے۔ تلخ رویوں کو برداشت کرتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے فائدے کیلئے دوسرے کو تکلیف پہنچاتے ہیں جس سے آپس میں ناچاقی ہوتی ہے اور دل خراب ہوتے ہیں۔ کوئی کڑوی باتیں کہہ کر کسی کا دل دکھا دیتا ہے تو کوئی کچھ نہ کہہ کر بھی بہت کچھ جوابات دے جاتا ہے۔ خدا کو وہ انسان ہر گز نہیں پسند جس سے کسی کا دل دُکھے یا تکلیف پہنچے۔

ہمارے معاشرے میں کسی بھی انسان کی قدر اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کہ وہ خود کو مردہ نہ ظاہر کردے۔ ایس اہی ہم نے پچھلے دنوں میں دیکھا بھی ہے کہ جب تک عامر لیاقت زندہ تھے ہر ایک نے ان کی شایدوں پر اور بیگمات پر مذاق اڑایا لیکن جب وہ دنیا سے چلے گئے تو ہر کوئی ان کا آخر دیکھ کر رویا۔

مذاق میں اکثر اوقات ایسی باتیں کہہ دی جاتی ہیں جو کہنے والوں کو اندازہ بھی ہوتا کہ کسی کے دل پر کیا گزرے گی، اگلا انسان خود میں زندگی جی بھی پائے گا یا ان باتوں کے بوجھ تلے دب کر دم توڑ دے گا۔ محبتوں کے دعویدار اس دنیا میں ٹکے ٹکے پر مل جاتے ہیں لیکن اسی محبت کی خاطر کسی کو اس قدر تکلیف دے جاتے ہیں کہ دل سے آہ نکل ہی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک قبر کی تصویر خوب وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قبر کے کتبے پر ایک ایسا جملا تحریر ہے جس نے ہر دل میں آنسوؤں کی لڑیاں پرو دی ہیں۔ اس پر تحریر ہے:

" دُکھ دینے والے حضرات قبر پر تشریف نہ لائیں۔" زندگی میں کوئی انسان دھوکے کھائے، لوگوں کا منفی رویہ جھیلے اور خود کو اس قدر دوسروں کی خاطر ختم کردے کہ مرتے دم وصیت بھی کر جائے کہ میری قبر پر قدم نہ رکھنا تو یہ کسی بھی بڑے دردناک سانحے کی علامت ہے۔

زندگی 4 دن کی ہے۔ یہ حیققت ہے اس 4 دن کے 60 سال بھی اگر میسر ہیں تو ان کو نفرتوں یا طعنوں سے نہیں محبت اور انکساری سے بانٹ لیں۔ لاکھوں دل ٹوٹے ہوئے ہیں انہیں جوڑ لیں، مضبوطی سے باندھ کر تھام لیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب آپ خؤد کو اکیلا محسوس کریں تو کوئی نہ ہو جو آپ کی فریاد سن سکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US