عمران خان کی عوامی مقبولیت ان کے وزیر اعظم کے منصب سے ہٹنے کے بعد اور بھی زیادہ ہوگئی ہے، لوگ ان کی ہر بات کو بلا چوں چرا مان لیتے ہیں ، اس وقت بھی بڑے بڑے عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں عوام مانتے چلے جاتے ہیں۔ عمران خان کی شخصیت کا ایک اہم حصہ "تسبیح" ہے۔ ان کی تسبیح ہر وقت ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
مختلف لوگ ان کی اس تسبیح کے بارے میں مختلف باتیں کرتے ہیں، کوئی کہتا ہے کہ کسی روحانی شخصیت نے یہ تسبیح دی ہے، کوئی کہتا ہے کہ کوئی خاص وظیفہ اس پر پڑھتے ہیں ۔۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں ۔ لیکن یہ ایک بات تو سب نے دیکھی کہ عمران خان جتنی بھی مشکل صورتحال سے دوچار ہوئے وہ بہت خوبصورتی سے اس سے نکل آئے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام میں ان کی پوزیشن مضبوط ہوتی چلی جارہی ہے۔
لوگ اس بات پر بھی خاصے متجسس ہیں کہ آخر عمران خان اپنی تسبیح پر کیا ایسا پڑھتے ہیں کہ ان کی ہر مشکل آسانی میں بدل جاتی ہے اور ان پر اللہ کا کرم ہو جاتا ہے۔ تو یہی سوال ہمارے ایک مشہور صحافی ندیم ملک نے عمران خان سے کیا کہ آپ کے ہاتھ میں ہر وقت تسبیح ہوتی ہے آپ اس پر کیا پڑھتے ہیں تو عمران خان نے جواب دیا کہ " میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ تسبیح پر درود شریف پڑھتے ہیں" صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے کیسے متاثر ہو کر تسبیح پڑھنا شروع کی؟ جس کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ مسلمان صرف نبی پاک ﷺ سے متاثر ہوتا ہے،خاص طور پر جب آپ صوفی ازم سے اسلام کی طرف آتے ہیں تو ایسا ہوتا ہے۔