صحافی ایاز میر کے بیٹے نے بیوی کو بہیمانہ تشدد کرکے ابدی نیند سلا دیا۔ 3 دن سے یہ واقعہ میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے اور اب صرف پاکستانی میڈیا ہی نہیں بلکہ عالمی میڈیا پر بھی سارہ کے لئے آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ سارہ جوکہ کینیڈین شہری تھیں اور ایک پڑھی لکھی خاتون تھیں مگر ان کے شوہر نے جس طرح ان پر ظلم کیا وہ جہالت کا آخری مقام ثابت ہوا۔
سارہ کے دوست اسٹیفن ناش نے سارہ کے حوالے سے انکشافات کرتے ہوئے اپنے پوسٹ میں لکھا کہ:
"
میری پیاری دوست سارہ کبھی کسی پر غصہ کرتی تھی اور نہ کبھی وہ کسی سے ناراض ہوئی وہ اتنی نرم مزاج اور نازک دل کی مالکہ تھی۔ وہ پھولوں کی طرح چہکتی تھی، ہر چیز میں خؤشی ڈھونڈھ لیتی تھی۔ اس کے خیالات سب سے زیادہ روشن تھے۔ اس کو اس کے شوہر نے بے دردی سے قتل کردیا۔۔ سارہ کی خوش اخلاقی کے باعث اس کی دوستیاں صرف کینیڈا میں ہی نہیں بلکہ دبئی اور دیگر ممالک میں بھی ہیں۔ سارہ کے سب دوست اس کے لئے انصاف کی بھیک مانگتے ہیں۔
"
سارہ کی ایک اور دوست نے بتایا کہ
"
سارہ صرف ایک محبت بھرا گھرانہ چاہتی تھی جہاں رشتوں کی قدر ہو، انسانیت کو عظیم سمجھا جائے وہ فیملی کی اہمیت پر زور دیتی تھی اور ایک ماں بننا چاہتی تھی مگر اس کے شوہر نے اس کو دبئی سے بلا کر یہ ظلم کیا کہ ہم حیران ہیں۔ وہ ہمیشہ خوش رہنے والی پھولوں کی طرح مسکرانے اور پرندوں کی طرح چہکنے والی لڑکی کو یوں برباد کردیا اس سے جینے کا حق چھین لیا گیا۔ یہ کون سا صلہ ہے جو اس کو اچھا بننے کا ملا ۔۔ ہم انصاف کی امید کرتے ہیں۔
"