گھنٹوں پر محیط کوششوں کے بعد کراچی کے علاقے صدر میں واقع گُل پلازہ میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے جس کے بعد اب عمارت کی کولنگ کا عمل جاری ہے۔ حکام نے اس واقعے میں اب تک 11 افراد کی ہلاکت جبکہ 65 سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کی تصدیق کی ہے۔ لواحقین کا الزام ہے کہ امدادی کارروائیوں میں تاخیر برتی گئی تاہم میئر کراچی مرتضی وہاب نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
حکام کے مطابق گُل پلازہ میں سنیچر کی شب لگنے والی آگ پر قابو پانے کے بعد اب کولنگ کا عمل جاری ہےگھنٹوں پر محیط کوششوں کے بعد صوبائی دارالحکومت کراچی کے علاقے صدر میں واقع گُل پلازہ میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے جس کے بعد اب عمارت کی کولنگ کا عمل اور لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔
دوسری جانب حکام نے اب تک اس واقعے میں 11 افراد کی ہلاکت جبکہ 65 سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کی تصدیق کی ہے، جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کا ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے۔
اتوار کی شب میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی مرتضی وہاب نے بتایا کہ کولنگ کے عمل کے دوران بھی پلازے کے کچھ حصوں میں آگ کے شعلے دوبارہ بھڑک اٹھے تھے تاہم اب ریسکیو اہلکار پلازے کے اندر جانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
اُن کے بقول تاحال 65 افراد کے لواحقین نے حکام سے رابطہ کر کے بتایا ہے کہ اُن کے پیاروں کا کچھ پتا نہیں چل رہا ہے۔
واضح رہے کہ سنیچر کی شب کراچی کے علاقے صدر میں واقع گُل پلازہ میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی تھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے پلازے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اس پلازے میں جیولری، گھریلو اشیا، کمبل، قالین، بیگز، کراکری اور دیگر مصنوعات کی سینکڑوں دکانیں تھیں۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق پاکستان میں شادیوں کے سیزن اور ویک اینڈ کی وجہ سے سنیچر کی شب پلازے میں بہت رش تھا، جس کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔
گل پلازہ ایک تین منزلہ عمارت ہے جس میں بیسمنٹ میں موجود تھی جبکہ یہاں تقریباً ایک ہزار سے زائد چھوٹی بڑی دکانیں تھیں۔
مراد علی شاہ کے مطابق ابتدا میں ’فائر فائٹرز کو اندر جانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی، جس کی وجہ سے نقصانات میں اضافہ ہوا۔‘
انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ یہ آگ سرکٹ بریکر کی وجہ سے بھڑکی تاہم اس بارے میں فی الحال حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
آپریشن طول کیوں پکڑ رہا ہے؟
’گل پلازہ میں 1200 دکانیں ہیں جن میں جلدی آگ پکڑنے والا سامان، جیسا کہ پلاسٹک فوم، کپڑا، قالین اور پرفیوم وغیرہ موجود تھے جس کے باعث آگ بجھانے میں مشکلات پیش آئیں‘ریسکیو 1122 کے چیف آپریٹنگ آفیسر عابد جلال نے بی بی سی کو بتایا کہ آگ لگنے کی اطلاع ملنے کے بعد سے اُن کی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں اور بھرپور کوششیں جاری ہیں۔
’آپ سب نے دیکھا کہ اندر موجود سامان کی مقدار اور نوعیت کی وجہ سے آگ بجھانے میں کافی وقت لگا جس کے باعث یہ آپریشن طول پکڑ رہا ہے۔‘
ان کے مطابق ’فی الحال عمارت کا عقبی حصہ منہدم ہو چکا ہے اور سامنے کا بڑا حصہ بھی گر چکا ہے۔ مجموعی طور پر عمارت 45 فیصد سے زیادہ متاثر ہو چکی ہے۔ تقریباً 22 فائر ٹینڈر اور سنارکلز نے اس آپریشن میں حصہ لیا۔‘
ان کے مطابق ابتدائی طور پر آگ پر قابو پا لیا گیا تھا مگر اندر موجود مواد کی نوعیت کے باعث شعلے بار بار بھڑک اٹھتے ہیں اور آگ بجھنے میں وقت لگ رہا تھا۔
’جیسے ہی ہمیں رسائی ملی اور سرچ کا عمل شروع ہوا تو ایک طرف سے عمارت کا حصہ گر گیا اور بدقسمتی سے ایک فائر فائٹر بھی ہلاک ہو گئے۔ مجموعی طور پر 20 سے 22 افراد کو یہاں سے منتقل کیا گیا ہے۔‘
میئر کراچی مرتضی وہاب کے مطابق ’عمارت کے اندر سے رسائی انتہائی مشکل ہے۔ جب آگ مکمل طور پر بجھ جائے اور کولنگ پروسس مکمل ہو جائے تو پھر ہم تمام آلات استعمال کر سکیں گے۔ آپریشن میں صوبائی حکومت کا 112، ریسکیو 1122، کے ایم سیاور ڈپٹی کمشنر کی ٹیمیںموجود ہیں۔
سندھ میں ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحسیب نے بی بی سی کو بتایا کہ گل پلازہ میں 1200 دکانیں ہیں اور ان میں جلدی آگ پکڑنے والا سامان، جیسے کہ پلاسٹک فوم، کپڑا، قالین اور پرفیوم وغیرہ موجود تھے جس کے باعث آگ بجھانے میں مشکلات پیش آئیں۔
’بھائی نے ماں کو بھی فون کیا کہ کوئی مجھے آگ سے بچا لے‘

بی بی سی کے لیے صحافی ذیشان نواب سے بات کرتے ہوئے ہارون نے بتایا کہ جب آگ لگی تو اس وقت ’عمارت کے اندر میرے تین بھائی موجود تھے، جن میں سے دو باہر نکل آئے مگر تیسرے بھائی کل سے لاپتا ہیں اور ابھی تک ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں مل سکی۔‘
ہارون کے مطابق ’پلازے کے اندر سے ان کے بھائی نے اپنی دکان سے والدین کو فون کیا کہ مجھے بچا لو، انھوں نے اپنے دوستوں کو بھی فون کر کے بچانے کی اپیل کی مگر کوئی انھیں بچا نہ سکا۔‘
اس عمارت میں کراچی کے رہائشی محمد حسین کے بھتیجے محمد عارف برتنوں کی ایک دکان پر کام کرتے تھے۔ محمد حسین نے بتایا کہ اُن کے بھتیجے کا فون صبح گیارہ بجے سے بند ہے۔ ان کے مطابق ’اگر امدادی کام وقت پر شروع ہو جاتا تو شاید اتنا نقصان نہ ہوتا اور قیمتی جانوں کو بھی بچایا جا سکتا تھا۔‘
انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’گذشتہ کچھ عرصے کے بعد یہ تیسری بار ہے کہ کراچی صدر کے علاقے میں کسی عمارت کو آگ لگی ہے۔ کب تک یہ سب ایسے ہوتا رہے گا اور کب تک ایسے لاشیں اٹھتی رہیں گی؟‘
یہیں عمارت کے قریب ایک عام شہری قرت العین مدثر بھی موجود ہیں۔
عمارت کے باہر موجود جماعت اسلامی کے رہنما منعم ظفر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ عمارتوں کے ضابطے پر عملدرآمد کراتی تاکہ اس طرح تسلسل سے کراچی میں ایسے واقعات دیکھنے کو نہ ملتے۔‘
’میری دکانیں میری آنکھوں کے سامنے جل رہی تھیں‘

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے زین نامی دکاندار نے بتایا کہ آگ سنیچر کی شب ساڑھے دس بجے گراؤنڈ فلور پر لگی اور اس وقت دکانداروں کے علاوہ سینکڑوں افراد پلازہ کے اندر موجود تھے۔
اُن کا کہنا تھا کہ دکانداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو پلازہ سے باہر نکلنے میں مدد کی۔
اُنھوں نے الزام لگایا کہ ریسکیو اہلکاروں نے اندر جانے کے بجائے باہر سے آگ بجھانے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے اندر موجود افراد کو بچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
’میری دکانیں، میری آنکھوں کے سامنے جلتی رہیں، ہم ان دکانوں سے سامان بھی نہیں نکال سکے۔ بہت سارے لوگ اب بھی اندر موجود ہیں، میرے کئی دوست ہیں جن سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا۔‘
زین کے بقول اُن کی گل پلازہ میں بیگز کی تین دکانیں ہیں، جو جل کر خاکستر ہو گئی ہیں۔
گُل پلازہ کے سفیان نامی ایک اور دکاندار کہتے ہیں کہ اُن کی پلازہ کے گرنے والے حصے میں جیولری کی دکان تھی۔
سفیان کا کہنا تھا کہ اُن کے بہنوئی اور ایک سیلزمین آگ لگنے کے وقت دکان پر موجود تھے، جن کا تاحال کچھپتا نہیں چل سکا ہے۔
زین کے مطابق گل پلازہ کے 32 داخلی دروازے ہیں اور آگ لگنے کے بعد ریسکیو اہلکار کسی بھی راستے سے اندر جا کر آگ بجھانے کی کوشش کر سکتے تھے۔ لیکن ان کے پاس مطلوبہ سامان ہی نہیں تھا جس سے وہ اتنے بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ پر قابو پا سکتے۔
جائے حادثہ پر موجود ایک بزرگ شہری اپنی بھانجی، اُن کی تین بیٹیوں، نواسی اور بیٹے سے متعلق جاننے کے لیے پلازے کے باہر موجود تھے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ یہ لوگ شادی کی خریداری کے سلسلے میں کل گُل پلازہ آئے تھے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہماری اللہ سے دعا ہے کہ کوئی معجزہ دکھا دے اور اُن کی سانسیں باقی ہوں۔ سب خاندان والے پریشان ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں ’یہ ایک ہی خاندان کے چھ افراد ہے، جو اپنے گھر تالہ لگا کر آئے تھے، اب اس گھر کا تالہ کون کھولے گا، یہ اللہ ہی جانتا ہے۔‘
’کاسمیٹک، کمبل اور گارمنٹس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی‘
گل پلازہ کے سابق سیکریٹری جنرل عارف قادری نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی شب سوا دس بجے آگ لگی اور اس نے کچھ ہی لمحات میں گل پلازہ کی پانچوں گلیوں کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ آگ اتنی تیزی سے بھڑکی کہ لوگوں کو صرف اپنی جانیں بچانے کا موقع ملا اور وہ اپنی کوئی قیمتی چیز بھی نہیں اُٹھا سکے۔
’ہم نے کراچی میں بڑی بڑی آگ لگتی دیکھی ہیں لیکن یہ آگ کچھ الگ ہی قسم کی تھی۔ جب آگ لگی اس وقت 70 فیصد دکانیں کھلی تھیں کیونکہ سنیچر کو ویک اینڈ کی وجہ سے گاہگ بھی زیادہ ہوتے ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ گراؤنڈ فلور سے تو لوگ باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے لیکن جب آگ اس سے اُوپر والی منزل پر پہنچی تو وہاں موجود دکاندار اور گاہگ وقت پر وہاں سے نہیں نکل سکے اور وہیں اموات ہوئی ہیں۔
کیا پلازے میں فائر ایگزٹ کے مناسب انتظامات تھے؟ اس سوال کے جواب میں عارف قادری کا کہنا تھا کہ گراؤنڈ فلور پر 13 داخلی دروازے تھے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ یہاں سے فوری طور پر باہر نکل گئے۔
اُن کے بقول اسی طرح ہر فلور پر آگ بجھانے والے سلنڈر موجود تھے اور دکانداروں نے ان کے ذریعے آگ بجھانے کی کوشش بھی کی لیکن آگ اتنی شدید تھی کہ یہ کام نہیں آ سکے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کاسمیٹک، کمبل اور گارمنٹس کی دکانوں کی وجہ سے آگ نے تیزی سے پلازے کو اپنی لپیٹ میں لیا۔
’جائے حادثہ کے قریب تعمیراتی کام کی وجہ سے ریسکیو گاڑیوں کو پہنچنے میں مشکل ہوئی‘
دوسری جانب سندھ میں ریسکیو 1122 کے حکام آگ بھجانے میں مشکلات کا سبب علاقے میں جاری ترقیاتی کام بتاتے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحسیب نے بتایا کہ جائے حادثہ کے قریب بی آر ٹی منصوبے کی وجہ سے کھدائی اور سڑک تنگ ہونے سے ریسکیو گاڑیوں کو گُل پلازہ تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ایک تو سڑک تنگ تھی اور دوسری طرف لوگوں کی بڑی تعداد صرف تماشا دیکھنے کے لیے موجود تھی، جس کی وجہ سے پوری سڑک بلاک ہو کر رہ گئی تھی اور واٹر براؤرز کو وہاں راستہ ملنے میں دُشواری ہوئی۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ دوسرا چیلنج یہ تھا کہ عمارت میں داخلے اور باہر نکلنے کے راستوں کا درست تعین نہیں کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ہمیں زبردستی ایک اور راستہ بنانا پڑا۔
حسان الحسیب کے بقول تیسرا چیلنج یہ تھا کہ دکاندار جائے حادثہ سے دُور ہی نہیں جا رہے تھے کیونکہ اُن کی کوشش تھی کہ وہ اپنا سامان بچا لیں۔
اتوار کی صبح صوبائی وزیر سعید غنی نے بھی گُل پلازہ کا دورہ کیا اور اس دوران میڈیا سے بات کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ’جو عمارتیں بناتے ہیں، جو ان میں رہتے ہیں یا کاروبار کرتے ہیں ایسے واقعات میں سب سے زیادہ نقصان ان ہی کا ہوتا ہے۔‘
’عمارتیں بناتے وقت حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائے جانے کی ضرورت ہے، کہیں نہ کہیں کوتاہیاں ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں نقصان ہوتا ہے۔‘