کراچی میں ایک ایسا قبرستان سامنے آیا ہے جہاں تقریباً 180 کے قریب یہودیوں کی قبریں موجود ہیں۔
بنی اسرائیل نامی قبرستان جو دو سو سال پرانا قبرستان بتایا جاتا ہے وہاں آئے روز دل دہلا دینے والے واقعات رونما ہوتے ہیں۔
جس کے بارے میں وہاں پر کام کرنے والے گورکن نے ایک ویب ٹی وی کو انٹرویو میں بتایا جسے جان کر کسی کے بھی رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے۔
قبرستان اتنا پرانا ہوچکا ہے کہ اب وہ ایک جنگل کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ مقامی افراد کی جانب سے شکایات موصول ہوئی ہیں کہ بنی اسرائیل قبرستان میں پراسرار واقعات نے جنم لیا ہے جس کے باعث وہاں کوئی نہیں جاتا۔
نسل در نسل اس زمین کی دیکھ بھال کرنے والے اس قبرستان کے گورکن عارف بتاتے ہیں کہ میرے والد صاحب بھی اسی قبرستان کی دیکھ بھال کیا کرتے تھے۔
گورکن عارف کا کہنا تھا کہ پہلے کے زمانے میں یہاں جو لوگ میت کو دفنانے کے لیے آیا کرتے تھے وہ چار یا پانچ روپے دیا کرتے تھے اور وہ لوگ امیر ہوا کرتے تھے ساتھ ہی سہولتیں بھی فراہم کیا کرتے تھے۔
عارف اس قبرستان میں 50 سال سے بنا کوئی معاوضہ لیے بغیر کام کر رہے ہیں جبکہ ان کے والد اور دادا کو اس وقت کے زمانے میں لوگ پیسے دیا کرتے تھے۔
عارف نے مذکورہ قبرستان میں پراسرار واقعات سے متعلق بتایا کہ آج سے چند سال قبل میرے ساتھ رات کے وقت ایک واقعہ پیش آیا کہ چار پانچ چھوٹے چوزے اور مرغی مجھے دکھائی دی جسے دیکھ کر میں نے درود شریف کا ورد کرنا شروع کیا اور یہاں سے فورا نکل گیا۔
اس کے علاوہ گورکن عارف کا مزید کہنا تھا کہ اسی قبرستان میں کسی ایک جگہ پر بڑے حجم کا اژدھا بھی دیکھا جا چکا ہے انہی ہولناک واقعات کی وجہ سے یہاں مغرب کے بعد کسی کے آنے کی ہمت نہیں ہوتی۔