نماز دین اہم ترین ستون ہے جس کا سوال روزِ محشر میں سب سے پہلے اللہ باری تعالیٰ کی طرف سے پوچھا جائے گا۔ عام طور پر نماز کی امامت مسجد میں مولوی کی جانب سے کروائی جاتی ہے جن کے پیچھے ہزاروں مسلمان نماز کی ادائیگی کرتے ہیں۔
لیکن کیا کوئی خاتون نماز میں مردوں کی امامت کروا سکتی ہے یا عورتوں کی امامت جائز ہے اور اگر جائز نہیں ہے مکروه ہے تو پھر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے امامت کیوں کرائی تھی؟
عورتوں کی امامت کے حوالے سے معلومات آپ کو فراہم کریں گے۔
وجینا کامن ویلتھ یونیورسٹی میں شعبہ فلسفہ اور مذاہب میں اسلامیات کی خاتون افریقی پروفیسر ڈاکٹر امینا ودود نے چند عرصہ قبل یہ اعلان کیا کہ وہ نماز جمعہ میں مردوں اور عورتوں کی امامت کریں گی۔
کئی مسلم تنظیموں نے محترمہ کے اس اعلان پر احتجاج بلند کیا اور متعدد علماؤں نے خاتون کو اس حرکت سے بعض رکھنا چاہا مگر انہوں نے کسی کی ایک نہ سنی اور 18 مارچ 2005 کو نیویارک کے ایک گرجا گھر میں جمعہ کی نماز میں خواتین اور مردوں کی امامت کروائی۔
موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خاتون کی امامت میں 40 مرد 60 خواتین اور چند بچوں نے ان کی ابتداء میں نماز جمعہ ادا کی۔ اسی طرح کے اور بھی واقعات دنیا بھر سے سنے اور دیکھے جا چکے ہیں۔
مگر یہاں بتاتے چلیں کہ فرض نماز ہو یا نفل کوئی عورت مردوں کے لیے امام نہیں بن سکتی۔ عورت کی امامت میں مرد کی نماز ہی نہیں ہوگی۔ اور اسی طرح مردوں کا عورتوں کے لیے نماز میں امام بننا مکروه ہے۔
خواتین کے لیے واضح حکم ہے کہ وہ اپنی نماز تنہا اور گھر پر رہ کر ادا کریں۔ ہمارے پیارے آقا محمد مصطفیٰ ﷺ کا بھی ارشاد ہے کہ عورت کا گھر کے نماز پڑھنا صحن میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔
مزید معلومات نیچے دی گئی ویڈیو سے حاصل کریں۔