پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج تقریبا 59 سال بعد مشتری کو دیکھا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ہی منظر دیکھنے کے لیے لوگوں نے 59 سال کا انتظار کیا تھا، کیونکہ آخری بار یہ منظر 1963 میں دیکھا گیا تھا۔
جوپیٹر 26 ستمبر کے دن مغرب کے وقت زمین کے انتہائی قریب آ جائے گا، جس کی وجہ کافی بڑا اور روشن دکھائی دے گا، اس حد تک روشن ہوگا کہ ٹیلسکوپ کی مدد سے دیکھا جا سکے گا۔
ناسا کے مطابق جوپیٹر اور زمین کے درمیان 367 ملین مائلز یعنی 590 اعشاریہ 6 ملین کلومیٹرز کا فاصلہ ہے۔
جبکہ 10 اکتوبر، 8 نومبر اور 7 دسمبر کو چاند مکمل طور پر روشن ہو کر جلوہ دکھا سکتا ہے ، تاہم اس حوالے سے پیشن گوئی ہی کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب اگلی بار یہ منظر 107 سال بعد ہی نظر آ سکے گا۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟
یہ صورتحال اس وقت ہوتی ہے جب کوئی بھی فلکیاتی شے مشرق میں سورج کے طور پر طلوع ہوتی ہے اور مغرب میں غروب ہوتی ہے اور اس چیز اور سورج کو زمین کے مخالف سمتوں پر رکھتی ہے۔