جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ یہ کہاوت پاکستان میں بہت مشہور ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جس کی حفاظت خود کرتا ہے کوئی بھی بڑی پریشانی آن پڑے اسے کچھ نہیں ہوسکتا۔
یہ کہاوت سچ بھی ہوتی نظر آئی ہے اور ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک آدمی دو گھنٹے زمین کے اندر دفن رہتا ہے مگر پھر بھی معجزاتی طور پر زندہ بچ جاتا ہے۔
مذکورہ واقعہ ملتان میں پیش آیا ہے جہاں ایک بوڑھا شخص محمد یوسف اپنے بیٹے کے ہمراہ کنوئیں کی کھدائی کے کام میں مصروف تھا اور پھر وہ اچانک 16 فٹ گہرائی میں جا گرتا ہے اور سارا ملبہ اس کے اوپر آ گرتا ہے اور زندگی و موت کے درمیان پھنس جاتا ہے۔
بیٹا وہیں اپنے والد کے ساتھ کام میں مصروف ہوتا ہے اور جب وہ اس منظر کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتا ہے تو اپنے باپ کو بچانے کے لیے ملبہ ہٹانا شروع کردیتا ہے۔ پریشان کے عالم میں مبتلا نوجوان جب ملبے کو پوری طرح ہٹانے میں ناکام ہوجاتا ہے تو گاؤں کے رشتہ داروں کو فون کر کے بلاتا ہے اور سب لوگ جائے وقوعہ پر پہنچ جاتے ہیں۔
یوسف کی ملبے تلے آوازیں اس کے بیٹے کو سنائی دے رہی ہوتی ہیں۔ ڈیجیٹل پاکستان کو انٹرویو دیتے ہوئے معجزاتی طور پر زندہ بچ جانے والے محمد یوسف نے بتایا کہ میں کنویں میں تقریبا پندرہ سولا فٹ مٹی کے نیچے دفن ہوگیا تھا۔
آدمی کا کہنا تھا کہ قدرتی طور پر مجھے درود شریف پڑھنے کا خیال ذہن میں آیا جس کے بعد میں خود کو اللہ کے حوالے کر دیا کہ بس وہی بچائے گا اور کوئی چارہ نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بیٹے نے دوست اور محلے والوں کو بلا لیا تھا جس کے بعد سب نے مل کر کرین بلوائی جس کے ذریعے میں باہر آیا اور میری جان اللہ نے اس طرح بچائی۔