لاہور میں گذشتہ دو روز کے دوران دریائے راوی کا پانی اُن آبادیوں میں داخل ہوا ہے جو دریا کی پُرانی راہ گزر کے دائیں بائیں موجود تھیں، اور جہاں جہاں راوی کا پانی داخل ہوا وہاں سے رہائشیوں کو اپنے گھر بار چھوڑنا پڑ گئے۔
خاص طور پر پوش علاقوں میں قائم ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں نے اپنے گھر چھوڑ کو ہوٹلوں میں پناہ لے لی۔
اس وقت لاہور کے تمام چھوٹے بڑے ہوٹلوں میں کمرے کم پڑ گئے ہیں۔
پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے ایک رہائشی اشعر علی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’جمعرات کی رات کو جب پانی سوسائٹی کے اندر داخل ہونا شروع ہوا تو اس وقت ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔‘
’ہمیں سوشل میڈیا سے پتا چل رہا تھا کہ پانی اِدھر آئے گا۔ انتظامیہ نے بند بھی مضبوط کیے تھے اور اسی لیے ہم شش وپنج میں رہے۔ کچھ لوگ تو پچھلے پہر ہی سوسائٹی چھوڑ کر چلے گئے تھے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’رات کو 10 بجے کے قریب پانی جب چوتھے بلاک میں پہنچا تو پھر ہم بھی بھاگے۔ میں نے اپنی فیملی اور بچوں کو گاڑی میں بٹھایا اور سوچا کسی ہوٹل میں چلتے ہیں۔‘
اشعر نے اپنے اہلیہ اور بچوں کو ساتھ لیا اور شہر کے مختلف ہوٹلوں کے چکر لگانا شروع کر دیے لیکن انہیں کمرہ نہیں مل رہا تھا۔ وہ جس ہوٹل میں بھی گئے وہاں پتا چلا کہ تمام کمرے تو بُک ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تین چار ہوٹلوں کے بعد مجھے معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا کہ ہم نے نکلنے میں کچھ زیادہ ہی تاخیر کر دی ہے۔
’پھر میں نے اِدھر اُدھر فون گُھمایا اور کا سفارش استعمال کرتے ہوئے ایک گیسٹ ہاؤس میں کمرہ حاصل کر لیا، اب میری فیملی دو دن سے گلبرگ کے ایک گیسٹ ہاؤس میں مقیم ہے۔‘
سرکار کے مطابق لاہور کی کل 9 آبادیاں دریائے راوی کے پانی کی زد میں آئی ہیں۔ ان میں محفوظ گارڈن، تھیم پارک، خوشی پارک، مرید وال، طلعت پارک، پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی، شفیق آباد اور مانگا منڈی کے علاقے شامل ہیں۔
’لوگوں نے ایک ایک ہفتے کے لیے کمرے کرائے پر لے لیے ہیں جن میں فیملیز رہ رہی ہیں‘ (فائل فوٹو: پِکسابے)
حکومت نے کئی جگہوں پر عارضی رہائش کے انتظامات بھی کر رکھے ہیں، تاہم پوش ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے رہائشی ہوٹلوں میں ٹھہرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ایک اور ہاؤسنگ سوسائٹی کی رہائشی خاتون آصفہ علی نے بتایا کہ ’میرے شوہر بیرونِ مُلک مقیم ہیں اور میں اپنے بچوں کے ساتھ یہاں رہتی ہوں۔ ہم نے تو جلد ہی یہ بھانپ لیا تھا کہ آخری وقت میں نکلنے سے بہتر ہے پہلے ہی بندوبست کر لیا جائے۔‘
’لہٰذا ہم نے ہوٹل میں پہلے ہی کمرہ بُک کروا لیا تھا۔ اب دو دن سے میں اِدھر ہی ہوں۔ شہر میں ہمارے رشتہ دار بھی رہتے ہیں لیکن میرے شوہر نے کہا ہے کہ ہم کسی کا احسان نہیں لیں گے۔‘
سیلاب کے باعث جن افراد کو اپنے گھر چھوڑنا پڑے ہیں اُن کی تین اقسام ہیں۔ ایک وہ جو ہوٹلوں میں رہنا پسند کر رہے ہیں، دوسرے وہ جن کے رشتہ دار یا دوست لاہور میں ہی رہتے ہیں۔
تیسری قسم وہ ہے جو سرکاری بندوبست جیسا کہ سرکاری سکولوں کی عمارتیں وغیرہ جہاں عارضی رہائش کے انتظامات کیے گئے ہیں میں رہ رہے ہیں۔
’پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے اندر پانی داخل ہونا شروع ہوا تو ہر طرف بھگدڑ مچ گئی‘ (فوٹو: اے ایف پی)
فیصل ٹاؤن لاہور میں ایک گیسٹ ہاؤس چلانے والے عارف خان کہتے ہیں کہ ’میرے پاس دو گیسٹ ہاؤسز ہیں اور دونوں ہی فُل ہیں۔ لوگوں نے ایک ایک ہفتے کے لیے کمرے کرائے پر لے لیے ہیں جن میں فیملیز رہ رہی ہیں۔‘
’ابھی بھی فون آتے ہیں، دوسرے گیسٹ ہاؤسز والے یا ہوٹلوں والے بھی کال کرتے ہیں اور خالی کمروں کا پوچھتے ہیں، اسی طرح کوئی ہمارا جاننے والا آجائے تو ہم بھی دوسروں کو فون کر کے پوچھ لیتے ہیں۔‘
عارف خان کا کہنا ہے کہ اس وقت شہر میں کمروں کی کمی تو ہے کیونکہ یہ ایک رات کا مسئلہ نہیں ہے۔ جب تک بے یقینی ختم نہیں ہوتی یہ لوگ ہوٹلوں میں ہی ٹھہریں گے۔‘
’عام حالات میں تو ہوتا ہے کہ جو آج ٹھہرا ہوا ہے وہ کل چیک آؤٹ کرے گا۔ میرے پاس دو درجن کمرے ہیں اور تاحال کسی نے بھی چیک آؤٹ کا نہیں کہا۔‘
جب اُن سے پوچھا گیا کہ آپ نے کیا کمروں کے کرائے بھی بڑھائے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’نہیں ایسا نہیں ہوا۔ نہ ہی کوئی ایسی شکایت دیکھی ہے، بلکہ سیلاب نے سب کو متاثر کیا ہے ہم بھی اس سے خوش نہیں ہیں تو پیسے کیوں بڑھائیں گے؟‘