’ڈپٹی کمشنر آفس کے احاطے میں سب لوگ شہزادی ڈیانا کے ساتھ تصویریں بنوانے کے لیے قطار میں جگہ تلاش کر رہے تھے۔ بچہ ہونے کی وجہ سے مجھے پتہ نہیں تھا میں کیا کروں۔ اسی پریشانی میں اِدھر اُدھر گھوم رہا تھا۔ اچانک شہزادی کی نظر مجھ پر پڑی۔ میری طرف چل کر آئیں اور بازو سے پکڑ کر مجھے اپنے سامنے کھڑا کیا۔ تصویر بنوانے کے لیے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ میرے کندھے پر رکھ دیے۔‘
چترال سے تعلق رکھنے والے ایوی ایشن پائلٹ علی الملک کی 34 برس پرانی یادوں کا تعلق لیڈی ڈیانا کے ستمبر 1991 کے آخری ہفتے میں پاکستان کے دور افتادہ سرحدی علاقے چترال کے مختصر دورے سے ہے۔
31 اگست 1997 کو سڑک کے ایک حادثے میں دنیا سے گزر جانے والی شہزادی ڈیانا کے دلکش سراپے اور سحر انگیز شخصیت کا عکس ان کی ہزاروں تصاویر میں جھلکتا ہے۔
اسی طرح کی ایک تصویر میں ان کے شانوں پر خوبصورت کشیدہ کاری سے منقش ہاتھ سے بنا ہوا چترال کا روایتی چوغا اور سر پر چترال سکاؤٹس کے مخصوص نشان سے مزین ٹوپی رکھی ہوئی ہے۔
ان کے ایک طرف صوبے کے اس وقت کے وزیراعلیٰ میر افضل خان کھڑے ہیں جب کہ شہزادی کے قدموں کے پاس چھ سات برس کا ایک بچہ کھڑا ہے جس کے کندھوں پر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ رکھے ہیں۔
علی الملک نے اردو نیوز کے ساتھ گفتگو میں اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس دن کو کبھی نہیں بھلا سکے جب چترال ایئرپورٹ پر انہوں نے شہزادی کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔
دنیا کے کروڑوں لوگوں کی پسندیدہ شخصیت نے انہیں اتنا یاد رکھا کہ یادگار تصویر بنواتے ہوئے بڑے اہتمام سے بلا کر اپنے پاس کھڑا کیا۔
علی الملک اس دن کو کبھی نہیں بھلا سکے جب چترال ایئرپورٹ پر انہوں نے شہزادی کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا (فائل فوٹو: ونٹیج پاکستان)
شرمیلی مسکراہٹ اور گہری نیلی پرکشش آنکھوں کی وجہ سے ڈیانا دنیا بھر کے فوٹوگرافرز کی نگاہوں اور کیمروں کا مرکز ہوا کرتی تھیں۔ منفرد پہناوے کی وجہ سے ان کی جن تصاویر نے عالمگیر شہرت حاصل کی، ان میں سے ایک میں وہ چترال کی مقامی تہذیب کی نمائندگی کرتے لباس میں ملبوس ہیں۔
ان کی اس تصویر کا تذکرہ اکتوبر 2019 کو ایک بار پھر شدومد سے ہونے لگا۔
اس مرتبہ ان کی بہو اور شہزادہ ولیم کی اہلیہ کیٹ میڈلٹن کے اپنے خاوند کے ہمراہ چترال کے دورے کے موقعے پر اسی سے ملتے جلتے روایتی لباس میں ان کی تصاویر سامنے آئیں۔
دنیا بھر میں شہزادی ڈیانا کے مداحوں نے اس تصویر کو مرحوم شہزادی کی یادوں کے ساتھ جوڑ دیا۔
پُرخطر موسم میں ڈیانا کی چترال آمد
برطانیہ کے شاہی خاندان کا فرد ہونے کی حیثیت سے انہوں نے ستمبر کے آخری ہفتے میں پاکستان کا چار روزہ دورہ کیا تھا۔
مہمان کو اسلام آباد، لاہور اور پشاور کی سیر کروائی گئی مگر خراب موسم کے باوجود کوہ ہندوکش کے خطرناک پہاڑوں کے اوپر سے ان کے طیارے کی جرأت مندانہ پرواز اور چترال کی سڑکوں پر ان کے والہانہ استقبال نے ان کی چترال آمد کو باقی جگہوں سے ممتاز کر دیا۔
کیپٹن سراج الملک پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) سے پائلٹ کی حیثیت سے وابستہ رہ چکے ہیں۔
لیڈی ڈیانا کے دورے کے دوران ان کے ذاتی طیارے کے علاوہ پاکستان ایئر فورس کا ایک سی ون 30 طیارہ بھی صحافیوں اور دیگر مہمانوں کے سفر کے لیے مختص تھا۔
برطانیہ کے شاہی خاندان کا فرد ہونے کی حیثیت سے لیڈی ڈیانا نے ستمبر کے آخری ہفتے میں پاکستان کا چار روزہ دورہ کیا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سراج الملک نے بھی اسی طیارے میں پشاور سے چترال جانا تھا۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس روز گلگت اور چترال میں بارش ہو رہی تھی۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پی آئی اے نے چترال کے لیے پروازوں سے منع کر دیا تھا۔ مگر لیڈی ڈیانا کے طیارے کا پائلٹ گہریم لورے مشکل روٹس پر پرواز میں انتہائی مہارت رکھتا تھا۔ دو روز قبل وہ کیپٹن سراج کے ساتھ جا کر چترال ایئرپورٹ اور لواری پاس کی پہاڑیوں کا فضائی جائزہ لے چکا تھا۔
لیڈی ڈیانا کا برطانوی ساختہ بی اے 146 نامی طیارہ عام جہازوں کے برعکس خراب موسم اور دشوار گزار پہاڑوں پر پرواز کے لیے انتہائی موزوں تھا۔ اسی وجہ سے وہ کامیابی کے ساتھ چترال میں لینڈ کر گیا۔
پائلٹ نے لواری پاس کے اوپر سے کیپٹن سراج کو ریڈیو پیغام کے ذریعے مطلع کیا کہ سی ون 30 طیارے کے لیے یہ موسم پرواز کے قابل نہیں ہے۔
صحافیوں کے لیے مختص طیارے کے چترال نہ جانے کی وجہ سے برطانوی شہزادی کے چترال کے دورے کا تذکرہ اور تفصیلات اس دور کے اخبارات میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔
ڈیانا کا طیارہ پاکستان میں کیوں رہ گیا؟
شہزادی ڈیانا کے لیے نہ سہی مگر برطانوی حکومت اور وہاں کی ایک طیارہ ساز کمپنی کے لیے ان کے چترال کے پُرخطر سفر سے ایک تجارتی پہلو بھی وابستہ تھا۔
علی الملک آج بھی لیڈی ڈیانا سے اس اپنی بچپن کی ملاقات کو یاد کرتے ہیں (فوٹو: اردو نیوز)
پاکستان کی نامور سیاست دان اور امریکہ میں سابق سفیر بیگم عابدہ حسین برطانوی شہزادی کے دورے کے دوران وزیر مہمان داری کی حیثیت سے چار روز تک ان کے ساتھ رہیں۔
اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ’پاور فیلئر: دی پولیٹیکل اوڈیسی آف اے پاکستانی ویمن‘ میں لیڈی ڈیانا کے دورے کی روداد بڑی تفصیل سے بیان کی ہے۔
عابدہ حسین لکھتی ہیں کہ اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنر سر نکلسن ہیرنگٹن نے انہیں بتایا تھا کہ شہزادی کا پاکستان کا دورہ غیرسیاسی نوعیت کا ہے۔ دولت مشترکہ کے رکن ہونے کی حیثیت سے وہ پاکستان میں لوگوں سے ملنے اور فلاح عامہ کے کاموں کو دیکھنے کی متمنی ہیں۔ البتہ ان کی یہ خواہش ہے کہ وہ حاکر سیڈلے نامی اس طیارے کی مارکیٹنگ کی کوشش کریں جو ڈیانا کو پاکستان لایا تھا۔
ملکہ برطانیہ کا پرائیویٹ سیکریٹری شمالی علاقہ جات کے دشوار پہاڑوں پر پرواز کے لیے اس موزوں جہاز کی خریداری کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتا تھا۔
بیگم عابدہ حسین نے اپنی کتاب میں لیڈی ڈیانا کے دورے کی روداد بڑی تفصیل سے بیان کی ہے (فائل فوٹو: فیس بک، بکس آن لائن)
لیڈی ڈیانا کی واپسی کے بعد ایک قومی اخبار نے اس جہاز کی تصویر کے ساتھ دیگر تفصیلات بیان کرتے ہوئے یہ لکھا کہ شہزادی کی واپسی برٹش ایئر ویز کی فلائٹ سے ہوئی ہے۔ ان کے جہاز کو پاکستان میں ہی چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ پی آئی اے کے حکام چار انجن والے اس طیارے کی گلگت اور چترال کے فضائی روٹس پر آزمائشی پرواز کے بعد اس کی خریداری کا فیصلہ کریں۔
مگر شہزادی کو پاکستان کی سیر کروانے والا یہ جہاز پاکستان کی قومی ایئر لائن کا حصہ نہ بن سکا۔
اردو نیوز کی جانب سے ڈیانا کے چھوڑے ہوئے جہاز کی خریداری کے بارے میں سوال کے جواب میں کیپٹن سراج الملک نے بتایا کہ طیارے کے پائلٹ نے بھی ان سے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ پی آئی اے یا آغا خان فاؤنڈیشن کو اس جہاز کا سودا کرنا چاہیے۔ مگر قیمت بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی قومی ایئر لائن کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ وہ اس کی خریداری کرتے۔ اسی طرح آغا خان فاؤنڈیشن نے بھی اسے خریدنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔
شہزادی کا طیارہ تباہ کرنے کا منصوبہ
خراب موسم کی وجہ سے چترال میں ان کے استقبال کے منتظر سرکاری حکام اور مقامی عمائدین کو بتایا گیا کہ دورہ ملتوی ہو چکا ہے۔ کچھ افراد مایوس ہو کر گھروں کو لوٹ گئے لیکن شہزادی کی غیرمتوقع اور اچانک آمد نے علاقے کا سماں بدل دیا۔
لیڈی ڈیانا سکیورٹی وجوہات کی بناء پر پاکستان کے دیگر حصوں میں افراد سے گھل مل نہ سکیں۔ ان کی حفاظت کے لیے مقامی سکیورٹی اداروں کے علاوہ برطانیہ کے شاہی خاندان کا خصوصی حفاظتی دستہ بھی ہر وقت ان کے ساتھ ہوتا تھا۔
ان کے طے کردہ معیارات میں عام افراد کو شہزادی سے 12 فٹ فاصلے تک محدود رکھنا ہوتا تھا مگر لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے دو دنوں بعد یہ فاصلہ بڑھا کر 20 فٹ کر دیا گیا۔
ڈیانا کا دورۂ چترال کی سماجی زندگی کا اہم واقعہ تھا جس کا تذکرہ اور مدتوں تک وہاں کی سماجی زندگی کا حصہ بنا رہا (فائل فوٹو: براؤن ہسٹری)
چترال میں شہزادی کے گرد سکیورٹی کی بندشیں کسی حد تک کم کر دی گئیں۔ سڑک کے کناروں اور بازاروں میں ان کے استقبال کے لیے موجود لوگوں نے انہیں بہت قریب سے دیکھا اور خیرمقدمی جملوں کا تبادلہ کیا۔
چترال سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ممتاز حسین نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس دُور افتادہ علاقے میں پہلی بار ایسا ہوا کہ خواتین کی بہت بڑی تعداد کسی مہمان کے استقبال کے لیے گھروں سے باہر نکلی ہو۔
گویا ڈیانا کا دورۂ چترال کی سماجی زندگی کا اہم واقعہ تھا جس کا تذکرہ اور مدتوں تک وہاں کی سماجی زندگی کا حصہ بنا رہا۔چترال سے تعلق رکھنے والے ایک شاعر نے اس موقعے کے لیے جو خصوصی نظم لکھی وہ برسوں تک لوگوں کی زبان پہ رہی۔
بیگم عابدہ حسین کے مطابق لیڈی ڈیانا کے پشاور کے دورے کے موقعے پر سڑک کنارے بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے مگر وہ کوشش کے باوجود ان میں کوئی خاتون تلاش نہ کر سکیں۔
ڈیانا کی آمد کے موقعے پر مہمان نوازی اور ان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب کے مقام کے حوالے سے چترال سکاؤٹس اور مقامی انتظامیہ میں خاموش کشمکش نے بھی جنم لیا۔
اس دور میں مالاکنڈ ڈویژن کے کمشنر رہنے والے شکیل درانی (جو بعد میں دو صوبوں کے چیف سیکرٹری کے ساتھ ساتھ واپڈا کے چیئرمین بھی رہے) نے اس دورے کی تفصیلات اپنی کتاب میں بیان کی ہیں۔
شکیل درانی کے مطابق شہزادی کے پروٹوکول اور سکیورٹی کی وجہ سے چترال سکاؤٹس تقریب اپنی میس میں رکھنے کے خواہش مند تھے جبکہ چترال کے ڈپٹی کمشنر کی خواہش تھی کہ میزبانی ان کے حصے میں آئے۔ کافی بحث و مباحثہ کے بعد ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے حق میں فیصلہ ہوا۔
ایک صدی سے زیادہ قدیم ڈی سی ہاؤس کی خصوصی آرائش کا بندوبست کیا گیا۔ اس عمارت کے صحن میں چنار کے تین قدیم اور چھتنار درختوں کے سائے میں محفل سجائی گئی۔
برطانوی مہمان چترال کے قدرتی حسن اور کشادہ دل لوگوں کے والہانہ پن سے بہت متاثر ہوئیں۔
بیگم عابدہ حسین اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ’ڈیانا نے اپنے بچوں کے لیے ان سے چترال کے روایتی لباس کی فرمائش کی تھی‘ (فائل فوٹو: شکیل درانی)
کیپٹن سراج کے مطابق شہزادی کے پائلٹ نے انہیں بتایا کہ اگر اس روز ان کا طیارہ چترال میں لینڈ نہ بھی کر سکتا تب بھی لواری پاس اور کوہ ہندوکش کے دلفریب نظارے شہزادی کے دل کو لبھانے کے لیے کافی تھے۔
چترال کے لوگوں اور معزز مہمان دونوں کے لیے یاد رہ جانے والے دورے کے دوران پس منظر میں کچھ ایسی سرگرمیاں بھی جنم لے رہی تھیں جن کا تذکرہ اس دورے کے 30 برس بعد سامنے آیا۔
سنہ 2021 میں شکیل درانی نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ’فرنٹیئر سٹیشنز‘ میں ایک ایسے واقعے کا ذکر کیا ہے جس کی تفصیلات اگر ڈیانا کے دورے کے موقعے پر سامنے آ جاتیں تو شاید ان کا چترال آنا ممکن نہ ہو سکتا۔
ان کے مطابق سپیشل برانچ نے اپنی کسی رپورٹ کی بنیاد پر اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ لیڈی ڈیانا کے طیارے کو چترال کی حدود میں میزائل سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ڈی آئی جی سپیشل برانچ نے مالاکنڈ ڈویژن کے ڈپٹی انسپیکٹر جنرل کی موجودگی میں اپنے ذرائع سے حاصل ہونے والی رپورٹ ان کے حوالے کی تھی۔
شکیل درانی لکھتے ہیں کہ یہ پولیس کا روایتی حربہ تھا کہ فرضی رپورٹ کی بنیاد پر مہمان کی جان کو خطرے کا الرٹ جاری کر دیں تاکہ کسی ناگہانی کی صورت میں ممکنہ ذمہ داری اور تنقید سے بچا جا سکے۔
ڈیانا کو من پسند قیمتی پتھر نہ مل سکا
ڈپٹی کمشنر ہاؤس میں شہزادی کو چترال کی روایتی دست کاری کا نمونہ گاؤن نما چوغا پہنایا گیا۔ چترال سکاؤٹس کے کمانڈنٹ سے یہ تحفہ پا کر وہ اس قدر نہال ہو گئیں جیسے وہ عمر بھر اسے پہننا چاہتی تھیں۔
شکیل درانی لکھتے ہیں کہ انہوں نے شہزادی کے نوعمر بچوں کے لیے ان کے ناپ کے مطابق اسی طرح کے دو گاؤن ان کے حوالے کیے۔
مالاکنڈ ڈویژن کے کمشنر رہنے والے شکیل درانی نے اس دورے کی تفصیلات اپنی کتاب میں بیان کی ہیں (فائل فوٹو: یونیورسی آف آکسفورڈ پریس)
دلچسپ بات ہے کہ بیگم عابدہ حسین بھی اپنی کتاب میں اسی طرح کا دعویٰ کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ ’ڈیانا نے اپنے بچوں کے لیے ان سے چترال کے روایتی لباس کی فرمائش کی تھی جو کہ انہوں نے پوری کر دی تھی۔‘
چترال کی سماجی اور تعلیمی زندگی میں نمایاں مقام رکھنے والے برطانوی نژاد میجر جیفری لینڈ لینگ سے شہزادی کی ملاقات میں دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ مہمان کو ان سے متعارف کروایا گیا تو چترال میں برسوں سے تعلیمی ادارہ چلانے والے لینگ لینڈ بے ساختہ بول اٹھے ’اب میں مر بھی جاؤں تو کوئی پروا نہیں۔‘
اسی طرح کی برطانوی پس منظر رکھنے والی ایک اور شخصیت کے ساتھ برطانوی شہزادی کی ملاقات اور فکرانگیز گفتگو کا تذکرہ بیگم عابدہ حسین نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔
پاکستان کی سابق خاتون اوّل اور وزیراعظم سر فیروز خان نون کی اہلیہ بیگم وقارالنساء نون کا آبائی تعلق بھی برطانیہ سے تھا۔ لندن میں ان کی ملاقات فیروز خان نون سے ہوئی اور پھر شادی کے بعد وہ یہاں منتقل ہو گئیں۔
اس دور کے قومی اسمبلی کے رکن اور عابدہ حسین کے شوہر سید فخر امام نے برطانوی مہمانوں کے اعزاز میں مارگلہ ہلز کے ایک ہوٹل میں ظہرانے کا اہتمام کیا تھا جس میں ڈیانا کا وقار النساء نون سے تعارف کروایا گیا۔
شہزادی نے ان سے سوال کیا کہ آپ شوہر کی وفات کے بعد واپس انگلینڈ کیوں نہیں گئیں؟
پاکستان کی سابق خاتون اوّل کا جواب تھا ’میری فیروز نون سے شادی ہوئی تو میرے احساسات یہ تھے کہ یہ شادی محض ایک فرد سے رشتہ نہیں بلکہ اب میرا پوری قوم سے تعلق استوار ہو گیا ہے۔‘
انہوں نے پاکستان میں عوامی فلاح کے متعدد منصوبوں کا آغاز کیا۔ راولپنڈی کا وقار النساء گرلز کالج ان کی یادگاروں میں سے ایک ہے۔
لیڈی ڈیانا کے جہاز نے پشاور سے چترال کے لیے پرواز بھری تھی۔ پشاور میں صوبے کے گورنر امیر گلستان جنجوہ انہیں صوبے کی قدرتی کانوں سے نکالے گئے قیمتی پتھروں کی ایک نمائش میں لے گئے۔
شہزادی ڈیانا نے پاک افغان سرحد پر واقع خیبر رائفلز میس کا دورہ بھی کیا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
شہزادی اور ان کے ساتھ آئی ان کی دیورانی شہزادی سارہ کو سوات کی کانوں سے نکالا گیا سبز رنگ کا زمرد بہت بھایا۔ وہاں موجود صوبے کے وزیراعلیٰ میر افضل خان نے خاموشی سے ایک چھوٹی سی مخملی ڈبیہ شہزادی کے حوالے کی جسے انہوں نے اسی وقت سارہ کو پکڑا دیا۔
بیگم عابدہ حسین نے میر افضل خان کو ڈیانا کے جہاز میں چترال چلنے کی دعوت دی۔ انہوں نے شہزادی کی جانب سے پیشکش کی شرط پر ساتھ چلنے کی حامی بھر لی۔ عابدہ حسین کے کہنے پر مہمان نے وزیراعلیٰ کو اپنے ساتھ سفر کے لیے طیارے میں بٹھا لیا۔
چترال کے راستے میں شہزادی سارہ نے وزیراعلیٰ کا دیا ہوا تحفہ ڈیانا کے حوالے کیا۔ انہوں نے ڈبیا کھول کر پتھر کو اپنی انگلیوں کے درمیان رکھ کر روشنی کی مخالف سمت کر کے دیکھنا شروع کیا۔
عابدہ حسین کہتی ہیں کہ مجھے بھی نظر آ رہا تھا کہ ان کے ہاتھ میں زمرد نہیں بلکہ نیلم ہے۔ شہزادی اپنا پسندیدہ پتھر نہ پا کر کسی قدر مایوس ہو گئیں۔
ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے میر افسر خان معاملہ بھانپ گئے اور اردو میں عابدہ حسین سے پوچھنے لگے کہ کیا ان سے کوئی غلطی ہو گئی ہے؟
عابدہ حسین نے جواب دیا کہ اگر وہ شہزادی کو زمرد کا تحفہ دے دیتے تو زیادہ بہتر تھا۔
اس پر وزیراعلیٰ کا جواب تھا کہ چونکہ میں نے یہ اپنی جیب سے خریدا ہے اور میری قوت خرید نیلم کے پتھر کی ہی تھی۔ جو زمرد شہزادی کو پسند آیا تھا وہ صوبے کی ملکیت تھی۔
شہزادی کو ساس سے نجات پانے کا نسخہ
برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کی بہو ہونے کی وجہ سے اس دور میں شہزادی ڈیانا کی مقبولیت کا سورج دنیا بھر میں نصف النہار پر تھا۔ بڑی بڑی اہم شخصیات ان سے ملنے اور ان کے ساتھ وقت گزارنے کو اپنے لیے اعزاز خیال کرتی تھیں۔
پاکستان کے دورے کے دوران بھی انہیں قریب سے دیکھنے اور گفتگو کرنے کے لیے سرکاری اور غیرسرکاری شخصیات کے درمیان ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی دوڑ لگی ہوئی تھی۔
کیپٹن سراج کے مطابق انہیں برطانوی ہائی کمشنر نے بتایا کہ شہزادی کے دورۂ چترال سے ایک روز قبل انہیں مالاکنڈ کے کمشنر اور چترال کے ڈپٹی کمشنر نے الگ الگ ٹیلی فون کر کے شہزادی کے دورے کے دوران ان کی گاڑی ڈرائیو کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
شکیل درانی نے اپنی کتاب میں ڈپٹی کمشنر کا طے شدہ سکیورٹی اصولوں کے برخلاف چترال ایئرپورٹ تک ڈیانا کی گاڑی ڈرائیو کرنے کا قصہ بیان کیا ہے۔
مگر سب سے دلچسپ احوال صوبہ سرحد (موجودہ کے پی کے) کی صوبائی اسمبلی میں ہونے والی ایک بحث کا ہے۔
بیگم عابدہ حسین کی بیان کردہ تفصیلات کے مطابق شہزادی نے اسلام آباد کے علاوہ کہیں بھی رات کو قیام نہیں کیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اس دور کے اخبارات میں چھپنے والی تفصیل کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی حاجی عدیل نے پوائنٹ آف آرڈر پر سپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اخباری اطلاعات کے مطابق وزراء کرام شہزادی ڈیانا کا استقبال کرنے گئے ہیں جس کی وجہ سے اجلاس دیر سے شروع ہوا۔
اسی طرح دیگر ارکان نے شکوہ کیا کہ ہم بھی ارکان اسمبلی ہیں، شہزادی کے استقبال کے لیے ہمیں نہ بلا کر ہمارا استحقاق مجروح کیا گیا ہے۔
شہزادی ڈیانا نے پاک افغان سرحد پر واقع خیبر رائفلز میس کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس میس میں ایک کمرہ ابھی بھی ان کے نام سے منسوب ہے۔ اس کے بارے میں منتظمین کا دعویٰ ہے کہ لیڈی ڈیانا نے یہاں رات گزاری تھی۔
بیگم عابدہ حسین کی بیان کردہ تفصیلات کے مطابق شہزادی نے اسلام آباد کے علاوہ کہیں بھی رات کو قیام نہیں کیا۔
تاریخی خیبر رائفلز میس کی طرف جاتے ہوئے شہزادی کی گاڑی کو راستے میں استقبال کے لیے کھڑے ایک مقامی قبائلی نے روکا اور ان سے بات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
شہزادی نے لیڈی سارا سے کہا کہ اس شخص کو قریب بلا کر پوچھا جائے کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔
گاڑی میں موجود عابدہ حسین نے شیشہ نیچے کیا تو وہ شخص بلند آواز میں ڈیانا کو اپنی ساس سے نجات کا نسخہ بتانے لگا۔
لیڈی ڈیانا چترال کے قدرتی حسن اور کشادہ دل لوگوں کے والہانہ پن سے بہت متاثر ہوئیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
عابدہ حسین کے مطابق اس نے ڈیانا کو مشورہ دیا کہ اگر ان کی اپنی ساس سے ان بن ہو جائے تو انہیں چاہیے کہ اپنے شوہر کو قائل کریں کہ وہ خود بادشاہ بن جائیں اور ملکہ کو پاکستان یا انڈیا بھجوا دیں۔
’ہم انہیں یہاں بخوشی اپنی ملکہ منتخب کر لیں گے کیونکہ انگریز بہتر جانتے ہیں کہ اس علاقے پر کیسے حکومت کی جاتی ہے۔‘
ڈیانا کے علم میں جب اس شخص کے خیالات لائے گئے تو انہوں نے بے ساختہ اپنی گردن پیچھے کی جانب جھٹکتے ہوئے قہقہ بلند کیا۔
لنڈی کوتل کے اس سادہ دل قبائلی کا مشورہ پتہ نہیں کتنا درست تھا مگر لیڈی ڈیانا کی ازدواجی زندگی کی تلخیوں کا ایک حصہ ان کی ساس بھی تھیں۔ تاہم انجام یہ ہوا کہ اس تعلق سے نجات ان کی ساس نے پائی اور شہزادی نے اس دنیا سے!