ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ کسی چوٹ یا بیماری کی وجہ سے نہیں ہوا تھا بلکہ یہ اپنی نوعیت کا ایک انوکھا واقعہ ہے۔
’میں صبح اپنے دانت صاف کر رہا تھا جب مجھے ہچکی آئی اور پھر ایسا لگا جیسے ایک غبارہ میرے حلق کے دائیں جانب تیزی سے پھڑپھڑا رہا ہے۔ چند ہی منٹ میں میرا گلا مکمل طور پر سوج گیا اور مجھے اتنا درد ہوا کہ اس کی شدت سے میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔‘
انڈین ریاست چھتیس گڑھ کے راہل کمار جنگڈے کو یاد ہے کہ یکم دسمبر کو جب انھیں یہ صورتحال درپیش ہوئی تو وہ اپنی اہلیہ کو فقط اتنا کہہ سکے کہ ’کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا، ہمیں ہسپتال جانا چاہیے‘ اور اِس کے بعد جب انھیں ہوش آیا تو وہ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں موجود تھے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ کسی چوٹ یا بیماری کی وجہ سے نہیں ہوا تھا بلکہ یہ اپنی نوعیت کا ایک انوکھا واقعہ ہے۔
راہل کمار کے ساتھ ہوا کچھ یوں تھا کہ اُن کی گردن کی ایک شریان، جو دماغ کو خون فراہم کرتی ہے، وہ اچانک پھٹ گئی تھی۔ اس حالت کو ’سپونٹینیئس کروٹیڈ آرٹری ریپچر‘ کہا جاتا ہے اور ریاست چھتیس گڑھ میں یہ اس کا پہلا کیس تھا۔
ڈاکٹر تقریباً چھ گھنٹے کی پیچیدہ سرجری کے بعد راہل کی جان بچانے میں کامیاب رہے۔
’دنیا بھر میں اب تک ایسے 10 کیس ہی سامنے آئے ہیں‘
ڈاکٹر کرشناکانت ساہو نے بی بی سی کو بتایا کہ گردن کی رگ پھٹ جانا جان لیوا ہو سکتا ہے اور اگر بروقت طبی امداد فراہم نہ کی جائے تو چند ہی منٹوں میں موت واقع ہو سکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ زیادہ تر شدید نوعیت کے حادثات یا گلے کے کینسر جیسی بیماریوں میں ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ تاہم ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ ’گردن کی رگ خود بخود پھٹ جائے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’طبی جریدوں اور تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں اب تک ایسے صرف 10 کیس ہی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔‘
40 سالہ راہل کاسمیٹکس کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے ہیں۔ اُن کا خاندان پانچ افراد پر مشتمل ہے جن میں اُن کی اہلیہ اور تین بچے شامل ہیں۔
راہل نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اِس سے پہلے کبھی بھی ایسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، لیکن دسمبر کی صبح جو ہوا وہ نہ صرف راہل کے لیے بلکہ ڈاکٹروں کے لیے بھی غیر معمولی تھا۔
طبی معائنے سے پتہ چلا کہ راہل کی دائیں کیروٹڈ شریان پھٹ گئی تھی۔
گردن میں دائیں اور بائیں جانب موجود شریانیں انسانی دل سے دماغ تک خون لے جاتی ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق زیادہ تر کیسز میں جسم میں کسی بھی جگہ کا کٹ صرف اس صورت میں مہلک ہوتا ہے جب اس سے دل کو خون فراہم کرنے والی شریانوں کو نقصان پہنچے اور اُن سے خون بہنے لگے۔
چونکہ یہ شریانیں، جو دل سے خون کو جسم کے دوسرے حصوں تک لے جاتی ہیں، بہت زیادہ دباؤ کے تحت بہتی ہیں، لہٰذا بڑی مقدار میں خون بہت جلد ضائع ہو سکتا ہے۔
اس سرجری کی قیادت ڈاکٹر کرشن کانت ساہو نے کی۔ انھوں نے کہا کہ ’کسی چوٹ، انفیکشن، کینسر یا پہلے سے موجود بیماری کے بغیر اچانک دل کی شریان کا پھٹ جانا غیر معمولی ہے۔‘
راہول کی گردن میں دائیں کیروٹڈ شریان پھٹ جانے کی وجہ سے گردن تیزی سے خون سے بھر گئی اور شریان کے گرد خون بھرنے کی وجہ سے غبارے جیسا ڈھانچہ بن گیا جسے طبی زبان میں pseudoaneurysm کہتے ہیں۔
ڈاکٹر ساہو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دنیا بھر کے میڈیکل لٹریچر میں ایسے کیسز کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے اور اپنے پورے کیریئر میں انھوں نے ایسا کوئی کیس کبھی نہیں دیکھا۔‘
ایسے واقعے میں جان بچانا کتنا مشکل ہوتا ہے؟
ڈاکٹر ساہو بتاتے ہیں کہ سادہ الفاظ میں کیروٹڈ شریان میں رکاوٹ فالج کا سبب بن سکتی ہے لیکن راہل کے معاملے میں مسئلہ اس سے بھی زیادہ خطرناک تھا۔
’شریان خود پھٹ گئی تھی۔ اگر خون کا کلاٹ دماغ تک پہنچ جاتا تو فالج کے امکانات بہت زیادہ تھے۔‘
واضح رہے کہ اگر خون کا ایک بڑا لوتھڑا یا بڑی تعداد میں لوتھڑے دماغ تک پہنچ جائیں تو پورے دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے یا مریض کی دماغی موت بھی ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر ساہو نے یہ بھی وضاحت کی کہ سرجری سے پہلے اور دوران دونوں ہی شریانوں کے دوبارہ پھٹنے کا خطرہ تھا۔ ’اگر ایسا ہو تو مریض بے قابو طریقے سے خون بہنے سے منٹوں میں مر سکتا ہے۔‘
ڈاکٹروں کے مطابق جب راہل کو ہسپتال لایا گیا تو ان کی حالت غیر مستحکم تھی۔ ان کی گردن کے اندر اتنا خون جمع ہو چکا تھا کہ سرجری کے دوران شریان کی شناخت کرنا انتہائی مشکل تھا۔
ڈاکٹر ساہو بتاتے ہیں کہ ’گردن کے اس حصے میں بہت سے اہم اعصاب موجود ہیں جو بولنے، ہاتھوں اور ٹانگوں کی حرکت اور دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اگر ہم سے معمولی سی بھی غلطی ہوتی تو اس کا نتیجہ مریض کی عمر بھر کی معذوری یا موت بھی ہو سکتا تھا۔‘
ڈاکٹروں کے مطابق انھیں صرف شریان کو تلاش کرنے اور اس پر قابو پانے میں ہی ڈیڑھ گھنٹے لگ گئے۔
پوری سرجری پانچ سے چھ گھنٹے تک جاری رہی۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ سرجری کے بعد راہل کو 12 گھنٹے تک وینٹیلیٹر پر رکھا گیا۔
ڈاکٹر ساہو نے کہا کہ راہل کے ہوش میں آنے کے بعد ہم نے پہلے ان سے بات کر کے اس کی آواز کی جانچ کی۔
’پھر ہم نے ان کے اعضا کی حرکت اور پھر ان کے چہرے کی حرکات کی جانچ کی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ دماغ تک خون کلاٹ تو نہیں پہنچ گیا اور سرجری کے دوران کوئی اہم اعصاب زخمی تو نہیں ہوئے۔‘
راہل کی اہلیہ لکشمی جنگدے نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ابتدائی دن ان کے لیے بہت خوفناک تھے کیونکہ ڈاکٹروں نے واضح طور پر کہا تھا کہ صورتحال بہت سنگین ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اب جب میں انھیں صحتیاب ہوتے دیکھتی ہوں تو مجھے یقین نہیں آتا کہ اُن کی حالت چند روز پہلے تک اتنی بُری تھی۔‘
راہل خود کہتے ہیں کہ جب ڈاکٹروں نے انھیں بتایا کہ چھتیس گڑھ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے تو وہ بہت ڈر گئے لیکن ہسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے نے جس طرح انھیں سنبھالا، اس سے انھیں بہت ہمت ملی۔
اب وہ ہسپتال سے گھر واپس آنے اور اپنے بچوں، خاص طور پر اپنی بیٹی سے دوبارہ ملنے کی تیاری کر رہے ہیں، جسے انھوں نے ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے نہیں دیکھا۔